Home » دار الافتاء » اہل بیت کا اطلاق کن لوگوں پر ہوتا ہے؟

اہل بیت کا اطلاق کن لوگوں پر ہوتا ہے؟

اھل بیت کا اطلاق کن لوگوں پر ہوتا ہے؟
صرف ازواج مطہرات یا یہ کہ آپ کی اولادِ اناث بھی ان میں داخل ہے؟

الجواب و باللہ التوفیق و ھو المستعان
بسم اللہ الرحمن الرحیم
انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطھرکم تطھیرا(سورة الاحزاب)
مذکورہ بالا آیت میں اہل بیت کی مراد میں مفسرین حضرات کی مختلف رائیں ہے،
حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عکرمہ، حضرت مقاتل رضی اللہ عنہم اور علامہ محلی اھل بیت سے مراد ازواج مطہرات مراد لیتے ہیں،
اور حضرت ابو سعید خدری،حضرت مجاھد،حضرت قتادہ اور انکے علاوہ تابعین کی ایک بڑی جماعت اہل بیت سے حضرت علی،حضرت فاطمہ،حضرات حسنین رضوان اللہ اجمعین مراد لیتے ہیں،
اختلف فی المراد باھل البیت فی ھذا الامر۔
فروی عن ابن عباس انھا نزلت فی نساء النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔۔و ذھب ابو سعید و مجاھد و قتادہ الی انھم علی و فاطمة و الحسنان
📖جلالین سورة الاحزاب صفحہ ۳۵۴

ترجمہ شیخ الھند کے حاشیہ میں مفتی شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ لکھتے ہے،
اسمیں شک و شبہ نہیں ہوسکتا کہ یہاں(آیت مذکورہ میں) اھل بیت کے مدلول میں ازواج مطہرات یقینا داخل ہے،کیونکہ آیت مذکورہ سے پہلے اور پیچھے پورے رکوع میں تمام خطابات ان ہی سے ہوا ہے،اور قرآن میں عموما اسی سیاق میں مستعمل ہوتا ہے،۔۔۔
بہرحال اہل بیت میں ازواج مطہرات کا داخل ہونا یقینی ہے،بلکہ اولا خطاب ہی ان سے ہے،لیکن چونکہ اولاد اور داماد بھی اہل بیت میں شامل ہے، بلکہ بعض حیثیات سے وہ اس لفظ کے زیادہ مستحق ہے، چنانچہ مسند احمد کی روایت میں ہے،کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ حضرت علی اور حضرات حسنین کو ایک چادر میں لیکر اللھم ھولاء بیتی وغیرہ فرمایا،
حضرت فاطمہ کے گھر کے قریب سے گزرے تو فرمایا الصلوة اھل البیت یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس
📖ترجمہ شیخ الھند صفحہ نمبر ۵۴۸

اسی طرح قل تعالوا ابنائنا ابنائکم و نسائنا و نسائکم آیت مباھلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی حضرات کو بلایا اور فرمایا *اللھم ھولاء اھل بیتی *

خلاصہ کلام
مفسرِقرآن علامہ ابن کثیر نے مذکورہ دونوں قولوں کو نقل کرکے اسکے مابین کے تعارض کا حل پیش کیا ہے،
جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اہل بیت میں مذکورہ بالا تمام شخصیات داخل ہے،صرف ازواج مطہرات یا صرف مذکورہ چار اشخاص ہی داخل نہیں ہے،الخ
قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے،والحق ما ذکرنا ان الآیة تعم جمیع اھل البیت و ان کان سوق الکلام للنساء
📖لباب الفتاوی صفحہ نمبر ۱۴۳

واللہ اعلم بالصواب و علمہ اتم
کتبہ عطاءالرحمن بن محمد حنیف

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

WpCoderX