Home » دار الافتاء » انبیاء اور رسولوں کی تعداد

انبیاء اور رسولوں کی تعداد

سوال:دنیا میں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمدﷺ تک کتنے نبی اور کتنے رسول مبعوث ہوئے ہیں ؟انکا شمار قرآن و حدیث میں ہے یا نہیں؟

سائل:احمد

فون نمبر:٠٥٥٥١٩٥٦٩١

الجواب حامدۃ ومصلیۃ و مسلمۃ

چند انبیاء کے نام قرآن و حدیث میں آئے ہیں،البتہ تعداد قرآن وحدیث میں مذکور نہیں ؛جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے :

”منھم من قصصنا علیک ومنھم من لم نقصص علیک“

”یعنی جس قدر دنیا میں نبی گذرے ہیں“ان میں سے بعض کا قرآن مجید میں ذکر کیا ہے اور بعض کا ذکر نہیں کیا۔

و قد ورد ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم سئل عن عدد الانبیاءعلیھم السلام فقال مائۃالف و اربعۃو عشرون الفاو فی روایۃمائتا الف و اربعۃ و عشرون الفا۔

”شرح الفقہ الاکبر للملا علی قاری ص:٥٦،٥٧۔قدیمی“

ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انبیاء کی تعداد کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:ایک لاکھ چوبیس ہزار اور ایک روایت میں آتا ہے:دو لاکھ چوبیس ہزار 

وقد ورد ایضا ان محمدﷺ سئل عن عدد الانبیاء علیہم السلام فقال:مائۃالف و اربعۃ و عشرون الفا و الرسل منھم ثلاث مائۃ و ثلاثۃ عشر،اولھم آدم و آخرھم محمدﷺ 

”مسند احمد“

اور یہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انبیاء کی تعداد کے بارے میں سوال کیا گیاتو فرمایا :ایک لاکھ چوبیس ہزاران میں سے رسولوں کی تعداد ٣١٣ تھی ،جن میں سب سے پہلے آدم علیہ السلام تھے اور آخری محمدﷺ ۔

قال شعیب الارناؤط:

اسنادہ ضعیف جدا؛لجھالۃ عبید بن الخشخاش ؛و لضعف ابی عمر الدمشقی،قال الدارقطنی :المسعودی عن ابی عمر الدمشقی:متروک۔

المسعودی:ھو عبد الرحمن بن عبد اللہ بن عتبہ۔

تحقیق مسند احمد ٤٣٢،٣٥

وفی روایۃ ابی امامۃ قال ابو ذر ،قلت یا رسول اللہ!کم وفاء عدۃ الانبیاء قال:مائۃالف واربعۃوعشرون الفا الرسل من ذلک ثلاث مائۃ و خمسۃ عشر جما غفیرا۔

”مشکاۃ المصابیح:ص:٥٦“

اور ابو امامہ سے ایک روایت مروی ہےکہ ابو ذر نے فرمایا،میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!انبیاء کی کل تعداد کتنی ہے،فرمایا:ایک لاکھ چوبیس ہزار ان میں سے رسولوں کی تعداد٣١٥تک ہے۔

جن روایات میں تعداد مذکور ہے وہ سب ضعیف روایات ہیں اور ایسی احادیث سے عقیدہ ثابت نہیں ہوسکتا ۔

لہذاہم بغیر گنتی کی تعیین کے ان سب پر ایمان لائیں گےجن کو اللہ نے نبی بنا کر بھیجا ہے اسی طرح جس طرح ہم تمام فرشتوں پر بغیر تعداد کی تعیین کے ایمان لاتے ہیں اس لیے کہ ان کی تعداد کا بھی نص صریح میں ذکر نہیں ہے۔جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:

کل آمن باللہ و ملائکتہ و کتبہ و رسلہ۔

”سورہ بقرۃ:آیت:٢٨٥“

ترجمہ:تمام مؤمنین اللہ پر اور فرشتوں پر اور تمام آسمانی کتابوں اور ان کے لانے والوں پر ایمان لائے۔

فقط و اللہ تعالی اعلم

بنت سبطین غفر لھا

٣ربیع الثانی١٤٣٩ھ

دارالافتاء صفہ اسلامک

ریسرچ سینٹر۔کراچی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

WpCoderX