Home » مضامین » اصلاح معاشرہ » بچہ کی تربیت کے لیے کیا طریقہ کار اپنایا جائے؟

بچہ کی تربیت کے لیے کیا طریقہ کار اپنایا جائے؟

“درس نمبر چار”

5۔جن آداب کی بچوں کو تعلیم دیں پہلے خود اس پر عمل کرکے دکھائیں:

یہ بات بہت ضرروی  ہے  کہ جو کچھ آپ بچوں کو تعلیم دے مثال کے طور پر بچوں کو   نماز پڑھنے کو کہیں تو خود بھی اس کی پابندی  کریں ،بچوں کو سلام کرنا سکھائیں تو خود بھی بچوں کے سامنے  دیگر گھروالوں کو سلام کریں،اگر ہم بچوں کو تو   دینی تعلیم دیں گے لیکن خود اس پر عمل نہیں کریں گے تو یاد رکھیں کہ اس طرح بچوں کی تربیت نہیں ہوگی،جب بچہ دیکھے گا کہ مجھے تو کہتے ہیں کہ نماز پڑھو اور خود فجر کی نماز  کے وقت روز سوتے رہتے ہیں تو بچہ بھی  کسی بات کو سنجیدہ نہیں لے گا،قرآن کریم میں  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ “آپ اپنے گھر والوں  کو نماز کا حکم دیں اور خود  بھی اس کی پابندی  کریں  (طہ:133)،اس آیت میں اس  بات کی طرف اشارہ ہے  کہ تمہارا اپنے گھروالوں اور اولاد کو نماز کا حکم دینا اس وقت تک موثر اور فائدہ مند  نہیں ہوگا جب تک تم ان سے زیادہ اس کی پابندی نہیں کروگے۔

ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک خاتون نے ایک بچے کو گود میں لینے کے لیے بلایا،بچہ آنے میں تردد کر رہا تھا تو اس خاتون نے کہا کہ  تم آجاؤ تم کو ایک چیز دوں گی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے  اس خاتو ن سے پوچھا کہ تم نے بچے کو یہ جو کہا کہ ہمارے پاس آؤ،ہم تمہیں  کچھ چیز دیں گے تو کیا واقعی تمہاری کچھ دینے کی نیت تھی؟اس خاتون نے کہا جواب دیا یا رسول اللہ ! میرے پاس ایک کھجور تھی اور یہ کھجور اس کو دینے کی نیت تھی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر  یہ دینے کی نیت نہ ہوتی تو یہ تمہاری طرف سے جھوٹ او رگناہ ہوتا،اس لیے کہ یہ اس صورت میں بچے سے جھوٹا وعدہ کرنا ہوتا۔

خاص کر والدین  اولاد سے اور  آپس میں خود بھی  خصوصاً اولاد کے سامنے برے الفاظ میں گفتگو نہ کریں،اگر والدین خود ہی   بدتمیزی  بد تہذیبی سے بات کریں گے تو خود نبخود   بچے بد تمیز ہوجائیں گے۔

6۔اولاد کے لیے  روزانہ دعاؤں کا اہتمام کریں:

یہ بات یاد رہے والدین کی ذمہ داری ہے  اولاد کی تربیت کرنا  اور اس میں اپنی پوری کوشش اور توانائی خرچ کرنا ،لیکن والدین   اس کا ایک سبب و ذریعہ ہیں ،دل میں بات اتارنا اور اعمال کا درست ہونا یہ اللہ تعالی  ہی کرتے ہیں ،یہ والدین کے ہاتھ میں نہیں ،والدین کوشش کرتے رہیں  اور اس کے ساتھ  اپنی اولاد کی اصلاح کے لیے  روز دعا کریں :اولاد کی نیک ہونے کی دعا اولاد ہونے سے پہلے اور اولاد ہونے کے بعد دونوں طرح قرآن کریم میں  اس کا ذکر ہے،اللہ تعالی کا کتنا احسان ہے کہ وہ خود ہی دعا کرنا سکھا رہے ہیں کہ اس طر ح مانگو:

حضرت ابراہیم علیہ السلام  نے اولاد ہونے کے لیے یہ دعا کی :” رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ ” [الصافات: 100] (ميرے  پروردگار! مجھے ايك ايسا بيٹا ديدے جو نيك لوگوں میں  سے ہو)۔

اللہ تعالی نے اپنے نیک بندوں کی صفات ذکر کی  ،جس میں سے ایک صفت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ  وہ اپنی اولاد کے لیے دعا کرتے ہیں : “وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا” [الفرقان: 74] اور جو (دعا کرتے ہوئے) کہتے ہیں کہ:ہمارے پروردگار! ہمیں اپنی بیوی بچوں  سے آنکھوں  کی ٹھنڈک عطا فرما، اور ہمیں پرہیز گاروں کا سربراہ بنادے۔

7۔محاسبہ اور مراقبہ :

محاسبہ کے معنی ہے اپنے اعمال کی نگرانی کرنا اپنے اعمال پر نظر رکھنا،  حدیث پاک میں محاسبہ کرنے کی ترغیب دی گئی  اور  محاسبہ کرنے والے کو عقل  مند وں میں شمار کیا گیا ،حدیث شریف میں ہے”عقل مند شخص وہ ہے جو اپنے نفس (یعنی اعمال  ) کا  محاسبہ کرتے رہے اور  موت کے بعد آنے والی زندگی کے لیے عمل کرے”جس کا طریقہ مشائخ   نے  آسانی کے لیے یہ لکھا ہے کہ روز سوتے وقت کچھ دیر چاہے تین چار منٹ کیوں نہ ہو، آدمی یہ سوچے کہ آج کے دن  کیا کیا نیک کام  کیے اور  کیا کیا گناہ ہوئے مجھ سے پھر نیک اعمال کی ادائیگی کو اللہ کا فضل سمجھے اور اس پر  شکر ادا کرے،اور جو گناہ ہوئے ہوں ان پر اللہ تعالی سے معافی مانگے اور  آنے والا دن  اس سے بہتر گزارنے کا عز م کرے۔

مراقبہ کا معنی ہے کہ کچھ وقت آدمی  یہ سوچے کہ جو کچھ میں کر رہا ہوں  ایسا نہیں  کہ اس کا حساب  وکتاب نہیں ہونا جو چاہے کرو،بلکہ ایک دن  اللہ تعالی  کا دربار لگے گا اس میں پیشی ہوگی  ، تمام اعمال کا حساب دینا ہے۔ قرآن کریم میں ہے: “اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو اور ہر شخص یہ دیکھیں کہ اس نے کل (یعنی قیامت کے دن ) کے لیے کیا آگے بھیجا ہے،اور اللہ سے ڈرو،یقین رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو،اللہ اس سے پوری طرح با خبر  ہے”(سورۃ الحشر ،آیت نمبر 18)۔

محاسبہ کرنے کی تو ہر آدمی خود بھی اور اپنے بچوں اور گھر والوں کو روز کرنے کی تعلیم کرے،سنجیددگی سے روز رات کو سوتے وقت یہ عمل کیا جائے ،انشاء اللہ اس سے  ضررو فائدہ ہوگا اور  اعمال کی اصلاح ہوگی،البتہ مراقبہ  پانچ سات منٹ روز نہیں  تین دن یا ہفتہ میں  کر لیا جائے ۔

جمع وترتیب :محمد حارث محمود
استاد وفیق دارالافتاء : جامعۃ السعید نزد نرسری کراچی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

WpCoderX