Home » مضامین » اصلاح معاشرہ » بچہ کی تربیت کے لیے کیا طریقہ کار اپنایا جائے؟

بچہ کی تربیت کے لیے کیا طریقہ کار اپنایا جائے؟

“درس نمبر تین “

بچوں کی دینی تربیت کا کیا طریقہ کار ہو یہ ایک مستقل اور طویل موضوع ہے،البتہ قرآن کریم اور احادیث نبویہ کی روشنی میں کچھ باتیں جو اس موضوع سے متعلق ہیں ،وہ عرض کی جاتی ہیں :

1۔بچوں کی دینی تربیت کو اپنی ذمہ داری سمجھنا:

سب سے پہلے تو والدین تو یہ بات سمجھیں کہ اولاد کی دینی تربیت ہماری ذمہ داری ہے،جب تک یہ احساس ہی دل میں پیدا نہیں ہوگا اس ذمہ داری میں کوتاہی کرتے رہیں گے،اس ذمہ داری کی فکر اپنے اندر پیدا کرنا ضرروی ہے، یہ نہیں کہ اسکول بھیج دیا،مدرسہ اور ٹیوشن بھیج دیا ہماری ذمہ داری ختم ،یہ بہت بڑی غلطی ہے بلکہ ان اداروں میں بھیجنے کے باوجود یہ ذمہ داری والدین کی ختم نہیں ہوتی ۔

جب والد گھر میں نہ ہوں تو والدہ بچوں کی نگرانی کرے اور اپنی ذمہ داری سمجھیں اور جب والد کام سے فارغ ہوکر گھر آئے تو کچھ وقت اولاد سے پورے دن کے بارے میں پوچھے کہ آج کا دن کیسا گزرا،جو غلطی ہو اس پر سمجھائے،اچھا کام کیا ہو تو اس پر حوصلہ افزائی کرے ،تاکہ بچوں کو بھی معلوم ہوجائے کہ ہم ہر کام کرنے میں آزاد نہیں ،ان سے یہ بھی پوچھا جائے کہ بیٹا کسی چیز کی ضرورت تو نہیں،خاص کر والد میں یہ فکر زیادہ ہونی چاہیے ،حدیث میں ہے کہ “کسی باپ نے اپنی اولا د کو کوئی تحفہ حسن ادب اور اچھی سیرت سے بہتر نہیں دیا”(ترمذی:1952)۔

اب والد ساری چیزوں کا خیال کرے ہر ضرروت کی چیز لاکر بچو ں کو دے لیکن اگر دینی تربیت بچوں کی نہیں کر رہا تو سمجھ لے کہ ابھی سب سے اچھا اور قیمتی تحفہ میں نے بچوں کو نہیں دیا۔

2۔۔۔والدین کا آپس میں تعلق کا مضبوط ہونا:

یہ بہت اہم بات سمجھنے کی ہے کہ جب میاں بیوی دونوں کو مل کر بچے کی تربیت کرنی ہے تو دونوں کا تعلق آپس میں خوشگوار ہونا چاہیے ،یہ نہیں کہ آئے دن دونوں میں ہی بات خراب اور تلخ کلامی ہورہی ہے ،اس کا اثر بچوں پر بھی پڑے گا، بچوں کی پڑھائی اور ان کا ذہنی سکون اس سے متاثر ہوتا ہے،اس سے متعلق دو باتیں یا د رکھیں 

(1)اگر کبھی میاں بیوی میں آپس میں بات خراب ہوجائے اور ایک دوسرے سے آپس میں کوئی بات کرنی ہی ہو تو ظاہر ہے انسان ہے ایسا ہو ہی جاتا ہے لیکن خیال رہے یہ باتیں بچوں کے سامنے بالکل نہ کریں ،اپنے معاملے کو تنہائی میں ہی حل کریں ،ورنہ بچے سوچیں گے کہ خود تو روز ان کی بات خراب ہوتی رہتی ہے اور ہمیں اچھے اخلاق وغیرہ کی تعلیم دیتے ہیں۔

(2)اگر کبھی بچے نے والدہ کے حق میں کوتاہی کی تو والد کو چاہیے اس پر ے تنبیہ کرے اور کبھی اس سے ناراض بھی ہوجائے اسی طرح والد سے کوتاہی کی صورت میں والدہ اس طرح کرے،یہ نہیں کہ والد بچے کو اس بات ہر کچھ کہے نہیں کہ تم نے والدہ کی یہ بات کیوں نہیں مانی ،اس طرح میاں بیوی کا تعلق بھی اچھا اور خوشگوار رہے گا اور بچوں پر بھی اس کا اچھا اثر ضررو پڑے گا۔

3۔روزانہ کی بنیاد پر پانچ سے دس منٹ کسی دینی کتاب کی تعلیم :

روزانہ پانچ دس منٹ مقرر کیے جائیں جس میں بچوں اور دیگر گھروالوں کو ایسی کتاب پڑھ کر سنایا جائے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور سلف صالحین کی زندگی کے حالات و اقعات،جنت و جہنم کا تذکرہ اور حسن اخلاق سے متعلق مضامین ہوں،یہ طریقہ اچھی تربیت میں بہت معاون ہے،اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اے نبی ! آپ نصیحت کرتے رہیں کیونکہ نصیحت ایمان والوں کا فائدہ دیتی ہے(سورۃ الذٰریٰت: آیت نمبر:55) لہذا پابندی کے ساتھ ان حضرات کے حالات سے متعلق سنتے سناتے رہیں گے تو انشاء اللہ کچھ دنوں میں اس کا فائدہ محسوس ہونے لگے گا۔

جو بچے سمجھدار ہوں ان کو کبھی کبھی اپنے ساتھ کسی بزرگ یا کسی عالم دین کے بیان میں بھی لے جایا جائے ،اسی طرح بیوی کو بھی دینی مجالس میں کبھی کبھی لے جایا جائے تاکہ دین کی بات ان کے کانوں میں پڑتی رہے ،انشاء اللہ اس سے بھی فائدہ ہوگا،کیونکہ مر د حضرات تو پھر بھی دین کی بات سن لیتے ہیں لیکن عورتیں گھر میں ہی رہتی ہیں اس لیے ان کو روزانہ کی تعلیم کے ساتھ کبھی کبھار ان مجالس میں جہاں پردے کا اہتمام ہو لے جا یا جائے۔

افسوس یہ ہے کہ آج کل جب سے یہ موبائل اور اس طرح کی جتنی چیزیں آئی ہیں ، ہر کوئی اسی میں مشغول نظر آتا ہے،والد کام سے فارغ ہوکر موبائل میں مصروف ،والدہ گھر کا کام کرکے مختلف چیزیں دیکھنے میں مشغول،اولاد کہاں جارہی ہے،کیا کر رہی ہے،کچھ پتا نہیں ،جب کچھ عرصے کے بعد اولاد کے اخلاق بگڑتے ہیں تو پھر فکر ہوتی ہے کہ یہ کیا ہوا،اس لیے گزارش ہے کہ والدین ضرور اپنی اولاد کے لیے روزانہ کی بنیاد پر وقت نکالیں ،اس کے بغیر اولاد کی اصلاح ہو ہی نہیں سکتی،کم از کم پندرہ منٹ ہی نکال لیے جائیں ،جس میں کچھ تعلیم ہوجائے،کچھ بچے سے پورے دن کی کار گزاری لے لی جائے،اس کو کسی چیز کی ضرروت ہو اس کا پوچھ لیا جائے،ان کے ساتھ دوستوں کی طرح رہا جائے تاکہ وہ ہر بات آپ کے سامنے رکھے ،آپ سے مشورہ کریں۔

اگر آپ بچوں کو وقت نہیں دیں گے تو بڑے ہو کر بچے بھی آپ سے دور ہی رہیں گے،پھر والدین سوچتے ہیں کہ بچے ہم سے کوئ بات ہی نہیں کرتے اپنی،تو بھائی جب آپ نے چھوٹی عمر میں ان کو وقت ہی نہیں دیا تو ان کو جو انسیت ،اپنا پن ایک ہونا چاہیے تھا والدین سے وہ کہاں ہوگا،اس لیے اولاد کے لیے وقت نکالیں ان کو بوجھ نہ سمجھیں کہ اسکول بھیج دیا،ٹیوشن بھیج دیا،مدرسے لگا دیا ،ہمارا کام ہوگا۔

حدیث شریف میں ہے کہ “اولاد کا اکرام کرو اور (اچھی تربیت کے ذریعہ )ان کو حسن ادب سے آراستہ کرو”(ابن ماجہ )اولاد کا اکرام یہ ہے کہ ان کو اللہ کی نعمت سمجھا جائے بوجھ نہ سمجھا جائے اور ان کی ضروریا ت کا خیال رکھا جائے۔

4۔اولاد كی تربیت کے لیے بیوی کی اصلاح بھی ضروری ہے:

شوہر کے ذمہ جس طرح اولاد کی دینی تربیت کرناہے ،اپنی بیوی کو بھی دین پر لانے کی پوری کوشش کرنا اس کے ذمہ ہے، یاد رہے کہ جب تک بیوی کی اصلاح نہیں ہوگی تو اولاد کا دین پر آنا بہت مشکل ہوگا؛کیونکہ چھوٹے بچوں کے ساتھ اکثر وقت ماں کا ہی گزرتا ہے ،اس لیے شوہر اس بات کو سمجھ لے کہ اولاد کی دینی تربیت بیوی کے نیک ہونے پر موقوف ہے،عورت کے اندر نرمی اور بات لینے کا جذنہ مرد کی بہ نسبت زیادہ ہوتا ہے اس لیے بیوی کو نیک بنانے کے لیے اس کو بھی تعلیم میں بچوں کے ساتھ بیٹھنے کا پابند کیا جائے،اور اس کے ساتھ کچھ دینی کتابیں اور رسائل بھی اس کو پڑھنے کے لیے دے دیے جائیں ، اس سے انشاء اللہ بیوی کی اصلاح ہوگی جو بچوں کی دینی تربیت پر بہت زیادہ اثر انداز ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

WpCoderX