Home » دار الافتاء » بلاوضوکتابت قرآن

بلاوضوکتابت قرآن

سوال:  بلا وضو کسی ورق  پر قرآن کریم  کی آیت لکھنا  کیساہے ؟  معلمہ یا متعلمہ  کو حالت حیض  میں کوئی آیت  لکھنے کی ضرورت   پیش آئے تو ا س کی گنجائش ہے یا نہیں  ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

کاغذ کو ہاتھ لگاکر آیت  لکھنے کی  گنجائش نہیں  ، بلا مس ورق  جواز کتابت  میں اختلاف  ہے بوقت  ضرورت  گنجائش  پے۔

تنبیہ  : بعض  علماء کو بعض روایات  کے ظاہر  سے بصورت  مس ورق   بھی جوا ز کتابت  کا شبہہ ہوا ہے  جس کی تفصیل  مع الجواب  درج ذیل ہے  :

 بناء تشبہ :

1 ) رسائل  ابن عابدین کی عبارت  الا ان یمسہ بیدہ میں یمسہ کی ضمیر مذکر ہے اورصحیفہ  مؤنث  ہے اس  لیے  کہ اس  کا مرجع مکتوب ہی ہوسکتا ہے   جو سباق  کلام سے مفہوم ہے ۔

2) الجواھرۃ میں مکتوب کی تصریح ہے۔

3) اگر ورق پر کوئی آیت لکھی  ہوئی ہو تو آیت  کے سوا دوسرے حصہ کامس بالاتفاق جائز ہے  تو بوقت  کتابت مس ورق کیوں جائز نہیں ؟مابہ  ا لفرق کیاہے  ؟

 جواب :

  • یمسہ کی ضمیر کا مرجع صحیفہ بتاویل بیاض  ہے مفہوم کلام کی تاویل  بلادلیل وبلاضرورت  ہے نیز اگر  مرجع مکتوب   ( آیت  مکتوبہ )  قراردیاجائے  تو وضع  علی الارض  کی قید لگانے کا کوئی فائدہ   ظاہر نہیں ہوتا.
  • الجوھرۃ کی عبارت میں ” مکتوب ” بمعنی  کتاب وصحیفہ ہے، ورنہ  صدر کلام  مباشر اللوح والبیاض  سے اس کا تعارض ہوگا ، نیز ان  وضعھا  علی الارض  کی قید لگانے کا کوئی فائدہ ظاہر نہیں ہوتا  ، کیونکہ آیت مکتوبہ مراد ہوتو وضع علی الارض  اور حمل  فی الید میں کوئی فرق نہیں.
  • وجہ الفرق یہ معلوم ہوتی ہے کہ قلم ذریعہ کتابت  ہے اس   لیے  تنکے وغیرہ  پرا س  کا قیاس تام نہیں  ، فرق مذکور  کی وجہ سے قلم من وجہ بالواسطہ  ہے اور من وجہ  واسطہ  نہیں۔ا ور کتابت  کی  دو صورتیں  ہیں :
  • کاغذ پر ہاتھ رکھ کر
  • کاغذ پر ہاتھ  رکھے بغیر ،تپائی وغیرہ  پر رکھ  کر ۔

 صورت   اعلیٰ  کے متعارقہ ہونے کی وجہ سے  اس میں واسطہ  قلم کو غیر معتبر  قرار  دے کر  عدم جواز  کا قول کیاگیا اور صورت  ثانیہ  غیر  متعارفہ   ہونے کی وجہ سے واسطہ قلم کو معتبر  قرار  دے کر  قول جواز اختیار کیاگیا ۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ  اعلم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

WpCoderX