Home » ہم سے رابطہ

ہم سے رابطہ

ہم سے رابطہ

31 comments

  1. شکریہ عروج و زوای مکمل چاہیے شکریہ
  2. محترم عروج و زوال مکمل مطلوب ہے شکریہ
  3. آپکو عروج وزوال اسی صفحات میں مل جائے گا ۔۔۔آپ وزٹ تو کریں
  4. موبائل اور انٹر نیٹ پر گیم کھیلنے کا شرعی حکم :
    انٹر نیٹ ، موبائل اور کمپیوٹر پر گیم کھیلنے سے اگر فرائض میں غفلت لازم آتی ہو تو یہ کھیل ناجائزاور حرام ہوگا اور اگر واجب میں غفلت لازم آتی ہو تو مکروہ تحریمی ہوگا ،ا ور اگر سنن و مستحبات میں کوتاہی لازم آتی ہو تو مکروہ تنزیہی ہوگا، کیونکہ کہ ہر وہ کام جو ترک فرض کا ذریعہ بنے وہ حرام اور جو ترک واجب کا ذریعہ بنے وہ مکروہ تحریمی اور جو ترک سنن ومستحبات کا ذریعہ بنے وہ مکروہ تنزیہی ہے ۔
    حضرت اس میں جو یہ بات لیکھی ھے” ھر وہ کام جو ترک فرض کا ذریعہ بنے وہ حرام اور جو ترک واجب کا ذریعہ بنے وہ مکروہ تحریمی وغیرہ ”
    اس کا حوالہ عربی عبارت سے مل سکتا ھے ؟
    ek jagah humne is se nakal kiya to aha se iskal huwa hai!
  5. Asalamolaikum
    Okasaha sahab aap ki taraf se ab tak hawala jaat post nahi kiye gaye hume badi diqat ka samna karna padh raha hai barye qaram hawal bhej de bad i meharbani ho gi .wasalam

    • وعلیکم السلام جی بالکل آپ کو جواب دیاجائے گا ،،،آج کل مصروفیات زیادہ ہیں
      • حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح مکروھات صلوۃ
        آپ مراقی الفلاح شرح میں دیکھیں وہاں آپ کو یہ قاعدہ مل جائے گا
  6. السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ ۔
    فتنہ غامدیت کے بارے میں آپ کے سائٹ پر جو مواد ہے
    ( http://www.suffahpk.com/fitna-gahmdi-afkar-wa-nazriyat/ )
    کیا یہ غلط نہیں ہوسکتا ہے ؟؟؟
    آپ کے پاس کیا دلیل ہےیہ سب کچھ جو آپ نے لکھا ہے ان کے کتابوں میں موجود ہے ۔؟؟؟
    مجھے بھی ذرا اس سے آگاہ فر مائیے پلیز ،آپ کا بہت پہت شکریہ ہوگا ۔
    کیوںکہ یہ سب کچھ تو آپ کے ویب پر موجود ہے مجھے تو نہیں معلوم کہ یہ باتیں واقعی ان میں ہیں یا نہیں ۔؟؟؟
    • ریفرنس موجود ہے پھر بھی آپ کو اطمینان نہیں. مزید تسلی کے لیے یہ کتاب پڑھنا مفید رہے گا: مجلہ صفدر غامدی نمبر جون 2015 کی اشاعت
  7. Iftikhar Hussain

    Assalamualaikum,

    Aap se rabta karna tha rishte ke silsile main. Aik larki ka rishta karwana hai jo Peru main hai aor Muslim ho gayi hai.

    Agar koi pakistani wahan jana chahta hai ya usko pakistan bula kar shadi karna chahta hai to batayen.

    Larki ke aane ka kharcha mera hoga.

    • وعلیکم السلام ۔۔مشورہ کے بعد آپ کو جواب دیاجائے گا تھوڑا انتظار
  8. Assalamu alaikum,muftibsahab maloom karna tha ke aap online class kab shuro karen ge men apni bachion ko parhwana he? JAZAKALLAH

    • وعلیکم السلام آپ کا تعلق کس شہر سے ہے اور کتنی بچیاں ہیں ان کی عمر کیا ہے۔۔اپنا ای میل ایڈرس سینڈ کریں

  9. Aslam o Alaikum. Mera sawal ye hai k mujhe apni almari k bilkul sath paray huwy 2000 rupees milay. Mene sub ghar walo sy aur jin ka ghar me ana jana hai un sub sy pucha per kisi k na thy. Mene wo paisay 2 months tak apny paas rakhy. Per phr mujhe kuch paiso ki zarurat parr gai tou wo paisay mene use kr liye. Kya ye jaiz hai? Me abi khud sahib e rozgaar nahi hon aur zarurat ki wja sy mene wo paisay istmaal kiye. Kya ye jaiz hai?

    • وعلیکم السلام اگر اچھے طریقے سے سب سے پوچھ لیاتھا اور پیسوں کا مالک نہیں ملا اور آپ مستحق بھی ہیں تو اس صورت میں خرچ کردینا مناسب ہے
  10. سلام۔ برادران عزیز۔آپ لوگوں نے بہت اچھی ویب سائٹ لانچ کی ہے۔ لوگوں کی صحیح راہنمائی وقت کا تقاضا ہے۔
  11. میری دوست نے خواب دیکھا ہے کہ اس سے کوئی پوچھتا ہے کہ آپ نے کسی سے بیعت کی ہے تو وہ کہتی ہے کہ میرا مرشد غوث پاک ہے منظر بدل جاتا ہے اور وہ پیر سید فاروق انور شاہ کاظمی جو کہ ان کے پیر ہیں وہ ان سے کہتی ہے کہ میں نے خواب میں غوث پاک سے بیعت کی ہے تو کیا میری بیت ہوگئی تو فاروق شاہ نے کہا کہ تمہاری بیعت ہوگئی اب وہ تمہارے مرشد ہیں اور تم اسکی مرید ہو ،اسکی تعبیر بتائیں ۔
    • السلام علیکم اگر ان کے عقائددرست ہیں تو حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کا فیض نصیب ہوگا
  12. اور کتنے عرصے میں جواب اجاتاہے استفتا اپ کو کیسے سینڈکرنا ہے؟
  13. جناب فتوی محفوظ کیجییے
  14. send krdya ha check kry

    • جی مل گیا لیکن وہ ان پیج کی فائل ہے کھل نہیں رہی ہے ان پیج تھری میں نہیں کھل رہی
  15. موبی کیش اکائونٹ اوپن کرکے فری منٹس استعمال کرنا کیسا ہے ؟؟ کیا وہ رقم قرض کے زمرے میں آتی ہے ؟؟ جبکہ اسے کسی بھی وقت استعمال یہ خرچ کیا جاسکتا ہے ۔۔
    • لجواب حامدًا ومصلّياً
      واضح رہےکہ ہماری معلومات کےمطابق’’موبی کیش اکاؤنٹ ‘‘بینک اکاؤنٹ کی طرح ایک اکاؤنٹ ہے،جس کےاکاونٹ ہولڈرکوکمپنی کی طرف سے اپنے اکاؤنٹ کی بنیادپرمختلف سہولیات اورخدمات (Services) حاصل کرنےکی اجازت ہوتی ہےجو مندرجہ ذیل ہیں
      (1) ایزی لوڈ کرنے کی سہولت۔
      (2 ) بجلی ٹیلیفون اور یوٹیلٹی بل جمع کروانے کی سہولت۔
      (3 ) ایک جگہ سے دوسری جگہ رقم منتقل(Transfer) کرنے کی سہولت۔
      مندرجہ بالا سہولیات سےفائدہ حاصل کرنے کےلیے آپ کے اکاؤنٹ کے اندر مخصوص مقدار میں رقم کاموجودہونا ضروری نہیں ہے۔

      (4 ) فری منٹ ،ایس ایم ایس ،ایم بیز کی سہولت۔
      اس سہولت کے حصول کیلئے اکاؤنٹ میں مخصوص مقدار میں رقم کا موجود ہونا ضروری ہے
      (5)۔بیمہ(انشورنس)کی سہولت
      اس کیلئے باقاعدہ طور پر ایپلیکیشن جمع کرانے کے بعد ،مختلف پلانز کے تحت مخصوص مقدار کی رقم جمع کرانے پر کسٹمر کی قدرتی یا حادثاتی موت کی صورت میں کسٹمر کے لواحقین کو مخصوص رقم کی ادائیگی کی جاتی ہے

      مذکورہ بالا سہولیات میں سے پانچویں صورت میں چونکہ بیمہ (انشورنس) پایا جارہا ہے جوکہ سود،قمار(جوا )اورغررپرمشتمل ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہے، اس لئے اس سہولت سے فائدہ اٹھانا ناجائز ہے ۔
      نیزاس اکاؤنٹ میں جو رقم جمع کرائی جاتی ہےاس کی شرعی حیثیت قرض کی ہے،اوراسی قرض کو باقی رکھنے کی شرط پرگاہک کو سہولیات مفت فراہم کرناقرض پر مشروط نفع ہےجو کہ سود ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے، اس لئے نمبر 4 میں ذکر کردہ سہولیات( اکاؤنٹ میں دوہزاررکھوانےپر​فری منٹ ایس ایم ایس اور ایم بی انٹرنیٹ کی سہولت) سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں ہے، اس سے اجتناب لازم ہے
      البتہ پہلی تین قسم کی سہولیات سے فائدہ حاصل کرناجائز ہے،بشرطیکہ اس میں کوئی اورغیر شرعی امر نہ پایا جائے ۔

      قال الله تعالي – [البقرة : 278 ، 279]
      يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (278)
      فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ

      معرفة السنن والآثار- البيهقي – (8 / 173):
      وروينا عن فضالة بن عبيد أنه قال : كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا. وروينا في معناه عن عبد الله بن مسعود وأبي بن كعب وعبد الله بن سلام وابن عباس

      مصنف ابن أبي شيبة – ترقيم عوامة – (6 / 180):
      21078- حدثنا حفص ، عن أشعث ، عن الحكم ، عن إبراهيم ، قال : كل قرض جر منفعة ، فهو ربا.

      حاشية ابن عابدين (رد المحتار) – (5 / 166):
      (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر،

      الأشباه والنظائر – حنفي – (1 / 293):
      كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن كما في الظهيرية

      في اعلاء السنن- دار الفکر – (13/6446):
      عن علي امير المؤمنين مرفوعاً ’’کل قرض جر منفعة فهو ربا‘‘ اخرجه ابن ابي اسامة في سنده قال الشيخ حديث حسن لغيره،کذا في ’’العزيزي‘‘ وفي سنده سوار بن مصعب وهو متروک قلت ولما رواه شواهد کثيرة کما سيأتي، ولاجل ذلک صححه امام الحرمين کما في ’’التلخيص‘‘ ايضاً

      في اعلاء السنن- ادارة القران – (14/548):
      وقال الحنفية: يبطل الشرط لکونه منافيا للعقد، ويبقي القرض صحيحاً
      بحوث فى قضايا فقهية معاصرة – أحكام الجوائز – (2 / 162):
      الجوائز على الحسابات الجارية: وما ذكرناه فى الجوائز على السندات الحكومية ينطبق تماما على الجوائز الممنوحة على الحسابات الجارية فى البنوك؛ لأن الحسابات الجارية، سواء أكانت فى البنوك الإسلامية، أم فى البنوك التقليدية، كلها قروض من الناحية الفقهية؛ فلا يختلف حكمها الفقهي عن حكم القروض المقدمة إلى الحكومات عن طريق السندات؛ فما يعطى على تلك الحسابات من الجوائز، إن كانت معلنة من قبل البنوك عند فتح الحسابات، فإنها زيادة مشروطة فى القرض، فتحرم لكونها ربا.
      واللہ اعلم بالصواب
      محمدعثمان غفرلہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

WpCoderX