دکان کی بکنگ کا  حکم

دارالعلوم کراچی فتویٰ نمبر:90

 السلام علیکم

 چند سال پہلے زید نے اپنی ایک زمین   پر دکانیں  بنانے کے لیے  چند لوگوں   سے متعین   قیمت پر مثلاً 25 لاکھ  میں ایک  دکان  کی بکنگ  لی تھی  ،ا ور یہ طے ہواتھا کہ  کچھ رقم  پہلے دینی ہوگی ۔ اور بقیہ  رقم جب دکان  تیار ہوجائے گی اس وقت   دینی ہوگی  مثلا 3 لاکھ  روپے ابھی  اور تین  مہینہ کے بعد پھر  تین لاکھ روپے اور بقیہ  پوری قیمت  دکان پر قبضہ  دینے کے بعد ہوگی ۔ چنانچہ  خالد نے ایک دکان  کی بکنگ  کروائی  اور دومرتبہ  پیسے یعنی  تین تین لاکھ ( 6 لاکھ)  روپے  بھی دیے  مگر زید   نے پانچ سال  سےزائد عرصہ  گزرنے  کے باوجود  کوئی کام شروع نہیں کیا ٹال مٹول  کرتا رہا ۔ا ب زید خالد  سے کہتا ہے کہ مارکیٹ  قیمت  کے اعتبار سے  اس دکان کا بھاؤ یعنی قیمت  بڑھ گیا ہے ( جبکہ  دکان کا ابھی وجود ہی نہیں  ہے)  اس لیے تم اپنے  چھ لاکھ  کی جگہ  20 لاکھ  روپیہ  لے کر الگ  ہوجاؤ ۔ تو کیا خالد  کے لیے 20 لاکھ  روپے  لینے کی شرعی  میں  ہے یا خالد صرف  چھ لاکھ  کا ہی حقدار  ہے ۔ یازائد  رقم بھی لے سکتا ہے  جو آپس میں طے ہوجائے ۔

 2) زید ان چھ لاکھ  کے بدلے  خالد کو دوسری  جگہ  تیار  دکان  یا  فلیٹ  دیتا ہے  جس  کی قیمت  اب 20 لاکھ  کے قریب  ہے تو  چھ لاکھ  کے بدلے  دوسری جگہ  تیار دکان  یا فلیٹ  زید سے   لے سکتا ہے  یا نہیں ؟

 سائل  

دارالافتاء   

انڈیا

 الجواب حامداومصلیا ً

  • خالد کا زید سے چھ لاکھ   کے بدلے بیس لاکھ روپیہ لینا جائز نہیں ہے کیونکہ  خالد کا اس معاملہ سے الگ ہوجانا گویا معاملہ  کو فسخ   کرنا ہے ، چونکہ   مبیع  موجود نہیں   ہے ا س لیے  جو کچھ رقم  خالد نےزید  کو دی تھی  وہ قرض  میں تبدیل  ہوجائے گی  اور قرض  میں دی گئی  رقم زیادتی  کے ساتھ واپس لینا سود ہے  ۔
  • جی ہاں  خالد زید سے  یہ دکان لے سکتا ہے  کیونکہ زید  کو اختیار  ہے کہ اپنی چیز  جس قیمت  پر چاہے  فروخت  کردے اور  یہ  تکییف  بھی  کی جاسکتی ہے  کہ استصناع  میں معقود  علیہ وہ شی  ہوتی ہے  جس کے بنوانے  کا آرڈر  دیاگیاہے  ۔ اگر صانع  ( کاریگر )  وہ چیز کہیں سے تیار شدہ  لے آئے  اور مستصنع  ( مال بنوانے  والا )  اس پر راضی  ہوتو لے سکتا ہے  ، لہذا  اگر زید  مذکورہ  دکان چھ لاکھ  کے عوض  مذکورہ  دکان لینا  جائز  ہے۔

دارالافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی

عربی حوالہ جات اور مکمل فتویٰ پی ڈی ایف فائل میں حاصل کرنے کے لیے دیے گئے لنک پر کلک کریں :

https://www.facebook.com/groups/497276240641626/526469871055596/

اپنا تبصرہ بھیجیں