Home » دار الافتاء »  بٹ کوئن کی شرعی حیثیت

 بٹ کوئن کی شرعی حیثیت

نوٹ  : زیر نظر  سوال وجواب  مولانا مفتی  محمود اشرف  صاحب دامت برکاتھم  کی خدمت میں   پیش کیا گیاتھا  استاد محترم  کی رائے تھی کہ مال کا  ” عین ”   ہونا ضروری ہے ،ا ور BITCOIN” ”  عیان میں سے نہیں ہے  بلکہ اعراض  میں سے ہے  اس لیے  اس پر مال کی تعریف صادق نہیں آتی  ۔ا س کے بعد یہ مسئلہ شیخ الاسلام  حضرت نائب  صدرصاحب  دامت برکاتہم کی  خدمت میں  پیش  کیاگیا ، حضرت نے فرمایا  کہ ابھی اس کی صوتحال  پوری طرح واضح نہیں ہے اس لیے  فی الحال اس کا جواب دینے  سے توقف  کیا جائے  ۔

 حررہ : العبد محمد عزیر قاسم

 4/ صفر  /1438

5/نومبر /2016 

بٹ کوئن  : تعارف

بٹ کوئن  ایک ڈیجیٹل کرنسی اور پئیر ٹو پئیر  پیمنٹ نیٹورک ہے جو آزاد مصدر دستور پر مبنی ہے۔ اورعوامی نوشتہ سوداکا استعمال  کرتی ہے ۔ بٹ کوئن کمانے یا حاصل کرنے میں کسی شخص یا کسی بینک کا کوئی اختیار نہیں ۔ یہ مکمل آزاد کرنسی ہے  جس کو  ہم اپنے کمپیوٹر  کی مدد سے خود بھی بناسکتے ہیں ۔

بٹ کوئن کرنسی کا دیگر رائج کرنسیوں مثلا  ڈالر  اور یورو سے موازنہ کیاجاسکتا ہے  ، لیکن رائج کرنسیوں  اور بٹ کوئن میں کچھ فرق ہے  ۔

سب سے اہم فرق یہ ہے کہ بٹ کوئن مکمل طور پر ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے  جس کا وجود محض انٹرنیٹ  تک محدود ہے  ، خارجی طور  پر ا س کا کوئی  جسمانی وجود نہیں۔ اسی طرح  بٹ کوئن کرنسی  کے پیچھے  کوئی طاقتور  مرکزی ادارہ  مثلا  مرکزی بینک  ہے اور نہ ہی  کسی حکومت نے  اسے جائز کرنسی قراردیا ہے ۔ کیونکہ اس کرنسی کوایک شخص براہ راست دوسرے شخص کو منتقل کرسکتا ہے اس کے  لیے  کسی بینک یا حکومتی  ادارہ کی ضرورت  نہیں ہوتی  ۔ تاہم انٹرنیٹ کے ذریعہ بٹ کوئن  کو دیگر رائج کرنسیوں کی طرح ہی استعمال کیاجاسکتا ہے ۔

 بٹ کوئن کا آغاز  2009  میں کازب نام ستو شی ناکاماتو نے کیااسے  کرپٹو کرنسی کہتے ہیں کیونکہ یہ پبلک  کی کرپٹو  گرافی کے اصولوں  پر مبنی ہے  ۔

یہ کرنسی حسابی عمل  لوگوتھرم کی بنیاد پر کام  کرتی ہے جس کےلیے کمپیوٹر  کو انٹرنیٹ  سے  منسلک  کرکے،  کمپیوٹر کے پروسیسر  سے کام لیا جاسکتا ہے۔جس کمپیوٹر کا پروسیسر جتنا  طاقتور ہوتا ہے  اتنی جلدوحسابی  عمل لوگرتھم  کا سوال حل کرکے بٹ کوائن بناتا ہے  ۔

بٹ کوئن خاصی تحقیقی  وتجسس کا موضوع رہاہے  کیونکہ کرپٹو گرافی کرنسی  ہونے کی وجہ سے  اس کے مالکان  اور صارفین  پتہ لگانا  خاصا مشکل ہے ، اس وجہ سے  اس کا غیر قانونی  استعمال  بھی کیا جاسکتا ہے ۔ 2013ء میں غیر قانونی سرگرمیوں  میں  ملوث  ویب سائٹ سلک روڈ کو امریکی ایف بی آئی نے ند ،ا ور  144،000بٹ  کو منجمد کردیا ، اس وقت اس کی قیمت 28.5ملین  ڈالرز تھی ۔ جبکہ امریکی حکومت  بٹ کوئن کے معاملہ میں  دیگر حکومتوں  سے زیادہ  فراخ دلی  سے کام لیتی  ہے ۔چین میں یوان  کے ساتھ بٹ کوئن کی   فروخت پر پابندی   ہےنیز   بٹ کوئن  منڈیاں   ( Exchanges ) کے لیے بینک اکاؤنٹ رکھنے کی اجازت نہیں  ۔

  کرپٹو کرنسی   

 بٹ کوئن  کو ایک  کرپٹو کرنسی   cryptocurrency سمجھاجاتا  ہے اس کا مفہوم  یہ ہے کہ یہ کرنسی بنیادی طور  رازداری کے اصولوں کو ملحوظ رکھتی ہے  ۔ نیز اسے اپنی نوعیت   کی واحد  کرنسی  سمجھاجاتا ہے  لیکن در حقیقت اس  طرح کی کم از کم  60 کرپٹو کرنسیاں  انٹرنیٹ پر موجود  ہیں جن میں سے 6 کرنسیاں اصل ہیں  ۔چونکہ  بٹ کوئن  ایک آزاد مصدر کرنسی  ہے اس لیے اس کی نقل   اور اس میں کچھ اصطلاحات  کرکے دوسری نئی کرنسی  بنائی  جاسکتی ہے ۔ا س لیے  اس وقت تمام  موجود کرپٹو کرنسیاں  باستثناء رپل   Ripple بٹ کوئن  کی طرح ہی کام کرتی ہیں  ۔

السلام علیکم  

موجودہ دور کی سب سے اہم  کرنسی  بٹ کوئن  کے مطابق  میں آج کچھ  باتیں آپ  کو  بتانا  چاہوں گا  ۔

 بٹ کوئن  پہلی ڈیجیٹل  کرنسی ہے  ۔جس کوکمانے  میں یا حاصل  کرنے میں کسی شخص یا کسی  بینک  کاکوئی اختیار  نہیں ۔  

یہ مکمل آزاد کرنسی ہے  ، جس کو ہم  اپنے کمپیوٹر  کی مدد سے  بھی خودجنریٹ کرسکتے ہیں  ۔

اس کرنسی  کو بنانے کا خیال سب سے  پہلے  2009 میں تب آیا  جب معاشی  بحران  کے سبب  امریکہ  کے کئی بینک  دوالیہ ہوگئے  اور لوگوں کا کئی بلین  ڈالرز  کا نقصان ہوا۔

اس کرنسی  کو کرپٹو کرنسی کا نام  دیاگیا  ۔ یہ کرنسی   حسابی  عمل لوگرام تھم  کی بنیاد  پر کام کرتی ہے ۔

جس کے لیے ہم   اپنے کمپیوٹر  کو انٹرنیٹ سے منسلک  کرکے کمپیوٹر  کے ان  حصوں کو کام میں لاتے  ہیں جو حسابی  عمل میں بھرپور  حصہ لیتے  ہیں ۔

جیساکہ  ہمارے کمپیوٹر کا پروسیسر۔

اس حسابی عمل کی  بدولت  کمپیوٹر  ایک لوگراتھم  کا سوال حل کرتاہے  ۔

کریپٹو کرنسی  مائنگ  

کریپٹو کرنسی  مائنگ  کی اصطلاح  اس کام کے لیے استعمال کی جاتی ہے  جس کی بدولت  ہمارا کمپیوٹر کسی کریپٹو کرنسی کو کھود نکلتا ہے  ۔ لوگراتھم  کے ایک مشکل  سوال کوحل کرنے  کے لیے ہم اپنے  کمپیوٹر  کو کسی ایک  پول سے منسلک  کردیتے ہیں  ، جہاں ہمارے  کمپیوٹر جیسے  ہزار  ہا کمپیوٹر  اس کام کو کرنے میں جتے ہوتے ہیں ۔

اورجیسے ہی ایک بلاک حل ہوتا ہے  تو اس سے برآمد  ہونے والی کرنسی  کو ان تمام کمپیوٹر  ز میں ان کی اسپیڈ اور کام کرنے کی صلاحیت کے  حساب سے تقسیم  کردی جاتی  ہے ۔

کریپٹو کرنسی کا خاندان  

اس کی دو بنیادی اقسام  ہیں جن میں ایک  کانام  سکریپٹ کوئن ہے جبکہ دوسرے  کو شاہ  256 کے نام سے جانا جاتا ہے ۔

دونوں کوئنز  کے مابین  بنیادی  فرق  

ان دونوں  اقسام  کے کوئنز کا تعلق  گو کہ کریپٹو کرنسی ہی ہے مگر ان دونوں میں بے انتہا  فرق ہے  ۔

جیسے سکرپٹ  کوئن  کو ہم  کم بیش  پاور سے مائن  کرسکتے ہیں جیسے  اپنے  سی پی یو سے جبکہ  شاہ کوئن  ، سی پی یو کے بس کی بات نہیں ۔

سکریپٹ  کوئن  کو ہم کم وبیش  پاور سے  مائن کرسکتے ہیں ۔ جیسے  اپنے پی  یو  سے ۔ جبکہ شاہ کوئن ، سی پی یو کے بس کی  بات نہیں ۔

سکریپٹ  کوئن کی مشکلات  کم ہوتی ہے  جس کے سبب  وہ  جلدی  برآمد  کیاجاسکتا ہے جبکہ شاہ  کوئن  کی مشکلات  انتہائی زیادہ  ہوتی ہیں اس لیے  اسے کسی عام  سی پی یو  سےمائنن نہیں کیاجاسکتا ۔

 سکریپٹ  کوئن  کو سی  پی یو سے مائن  کیاجاسکتا ہے  جبکہ  شاہ کوئن کے لیے ہمیں کمپیوٹر  میں الگ سے ایک گرافکس  کارڈلگانا پڑتا ہے  ۔

  کریپٹو کوئن کی اقسام  

کریپٹو کوئن کی سب سے پہلی اقسام بٹ کوئن  کو جاپانی  ریاضی  دان ستو شی  ناگاموٹو نے 2009 میں متعارف کروایا  ۔ اسی لیےکسی  بھی  کوئن ملی  ۔یامائیکرو قیمت کوستوشی کہاجاتا ہے۔

بٹ کوئن کےعلاوہ  اس وقت کئی  اور کوئن  مارکیٹ میں آچکے ہیں  ۔

جن میں لائٹ کوئن  پئیر کوئن ، فیدر کوئن ،ورلڈ  کوئن ، مون کوئن  ، ڈیجیٹل  کوئن  ۔۔۔وغیرہ

الجواب باسم ملہم الصواب

Bitcoin اور اس کی ہم مثل  دیگر مجازی  / غیر حسی  crypto currencies اور فقہ  اسلامی  میں  مذکور  مال اور ثمن  کی  تفصیلات  پرتفصیلی  غور کرنے کے بعد Bitcoin کی شرعی حیثیت ہماری رائے  درج ذیل  ہے :

1۔ Bitcoin شرعی لحاظ  سے ” مال”  کے زمرے میں آتا ہے  ۔ مال کی تعریف فقہاء  نے یہ کی ہے : ” جس چیز کی  طرف طبیعت   ( سلیمہ)  مائل ہو،ا ور بوقت حاجت  اسے محفوظ کرناممکن  ہو۔” دور حاضر میں ایسی بیسوں اشیاء  ہیں جنہیں  غیر حسی  ہونے کے   باوجود  شرعا بھی مال تسلیم کیا گیاہے۔  Bitcoin بھی مال کی تعریف  میں بیان  کردہ ان دونوں  شرائط پر پورا اترتا ہے :  

1 ) اس وقت  ہزاروں  لوگ اس  کے ذریعہ  تبادلہ  کررہے ہیں ، کرنسیوں  کے باہم تبادلے  کے ریٹ بتانے والی  معروف ویب سائٹس  Bitcoin کا ایکسچینج  ریٹ بھی بتاتی ہیں  ، جس سے یہ بات واضح  ہوتی ہے  کہ اس کا عرف  عام قائم ہوچکاہے  ۔

2) اسے کسی بھی  برقی آلہ   ( Electronic Device ) میں محفوظ  کیاجاسکتا ہے  ۔ اگر کوئی  شخص اسے کسی آلہ   میں محفوظ  کرکے سالوں استعمال  نہ بھی کرے  تو وہ محفوظ  رہتے ہیں ۔ یہ ضائع اسی وقت ہوں گے جب وہ برقی  آلہ گم ہوجائے  یا خراب  ۔ ضائع  ہونے کی صورت میں  حکومت  یا کوئی  اور اتھارٹی  اس  کی ضامن نہیں اور  اس کا  بدل ادا کرنے کا پابند نہیں ۔ا س سے  یہ ثابت ہوا   کہ یہ  بذات خودمال ہے  چیک یا ڈرافٹ کی طرح کسی اور کی رسید  نہیں   ہے ۔ ( فقہی مقالات  ، کرنسی  نوٹ کی شرعی حیثیت   ) میں ہے  : ثمن عرفی  کی ہلاکت  کے وقت حکومت  اس کا  بدل ادا نہیں کرتی ہے ۔”  

2۔  پھر یہ شرعی لحاظ سے  ثمن بھی  ہے  ۔ شریعت میں  ہر اس  چیز کو ثمن رائج  کہاجاتاہے جس کی لوگوں  کے عرف  میں مالیت  ہو اور لوگ اسے بطور ذریعہ  مبادلہ ( کرنسی )  کے طور پر  استعمال  کرنا شروع کردیں۔ مختلف ادوار میں کرنسی  مراحل  سے گزرتی   رہی ہے  ان تمام  اقسام کی کرنسیوں کے ساتھ  تبادلے  کو فقہاء نے جائز کہاہے ۔چاہے   اس کی مالیت  کسی  حکومت  کے جاری  کرنے سے پیداہوئی  ہو جیسے  کرنسی نوٹ  جسے     Legal tender کہاجائے  یا محض  لوگوں کے استعمال سے رائج  ہوئی ہو ، دوونوں صورتوں  میں  وہ شرعاً کرنسی کہلائے گی  ۔ لہذا Bitcoin اور دیگر ڈیجیٹل   Virtual کرنسیاں  شرعی لحاظ  سے فلوس رائجہ  کے حکم میں ہیں  ۔ان میں ا کثر علامات  کرنسی نوٹ کی ہیں  اور ان کے تمام احکام وہی ہوں گے جو کرنسی  نوٹ کے ہیں  ۔ جیسے  : جریان  الربا ، وراس  مال المضاربہ ، والشرکۃ ،و السلم  بہا ،  والاستقراض  ، ووجوب  الزکاۃ  ، ( البتہ  ان دونوں   میں  فرق  یہی ہے کہ  کرنسی نوٹ کی ثمنیت   حکومت کی مرہون منت ہوتی ہے  ۔ حکومت  اگر ثمنیت  باطل کردے تو ان  کی کوئی قیمت باقی  نہیں  رہے گی  ۔ (  کرنسی  نوٹ کی شرعی حیثیت  : ص 25 )  جبکہ  غیر حسی  کرنسیوں  کی ثمنیت  باصطلاح   الناس قائم    ہوتی ہے  ، لہذا جب تک  یہ عرف  قائم ہے  ثمنیت  بھی باقی  رہے گی  ، عرف  ختم ہونے کے بعد  یہ سلعہ  کے حکم میں ہوگا ۔ فقہ  میں اس کی مثال  نبھر  جہ یا زیوف کی ہوگی  )

الدرالمختار  وحاشیۃ ابن عابدین  ( رد المختار )   ( 5 /233)

3۔ اس کےا ستعمال  کے جواز کا مدار اس بات پر ہے  کہ مستعمل کس ملک  میں اسے استعمال کررہاہے ۔

الف ۔بعض ممالک نے اسے  قانونی طور پر تسلیم  کیاہے  اورا س  پر دیگر کرنسیوں  کی طرح ٹیکس بھی لگایا ہے  جیسے  امریکا  ، جرمنی ، ہالینڈاورا کثر ترقی  یافتہ ممالک ۔

ب)ٰ  بعض نےا س سے منع  نہیں کیا اور نہ ہی اس کےا ستعمال  کے ضوابط    Regulations  بنائے ہیں  جیسے  ہانگ  کانگ  ۔

 ج)  بعض ممالک ا س معاملے میں  بالکل ساکت ہیں   جیسے پاکستان  ۔

اس قسم کے ممالک میں   Bitconics کو بطور  کرنسی  استعمال کرنا جائز ہے  ۔

جن ممالک میں ا س کو ذریعہ  تبادلہ  بنانا قانونی  طور پر منع  ہے ( ایسے ممالک  بہت ہی کم ہیں )  ان میں اس  حکم حاکم کی وجہ سے  اس کا استعمال جائز نہیں ہوگا ۔

 (ا لبحرا الرائق  شرح  کنز الدقائق  5/277 دارالکتاب  الاسلامی )

اکموسوعۃ الفقھیۃ ، مصطلح : ثمن ، 15/27)

8۔  ذھب الحنفیۃ الی ان الاموال  اربعۃ انواع :

فتح القدیر للکمال  ابن الھمام ( 7/12)  

الدر المختار وحاشیۃ ابن عابدین  ( رد المختار  ) 2/300)

الدرالمختار  وحاشیۃ ابن عابدین  ( رد المختار ) ( 5/180)

واللہ سبحانہ وتعالیٰ  اعلم

 احمد افنان 

6 ربیع الثانی  1436ھ  

مفتی محمد حسین باجوری  صاحب کی رائے

اس کرنسی  کی درج ذیل خصوصیات  قابل غور ہیں  ۔

  • کوئی مجازومعتبراتھارٹی جو اس کی اجراء اور استخداام  کو اپنی ذمہ داری  پر جاری کرسکے  ۔ ( یہ بات ثمن خلقی  میں بھی تھی ، لہذا مضر نہیں ۔ افنان )
  • اس  کے ضائع ہونے کے احتمالات  کافی زیادہ ہیں ۔ مثلا ً ہارڈ ڈرائیو کی خرابی  پاس مرڈ کا کم ہوجانا ۔ ( آئی  ٹی کی اس  ترقی  کے بعد تعلیم  یافتہ  لوگوں کے لیے یہ احتمال  بے حیثیت ہے ۔ افنان )
  • اس کا آخر تعاقب ممکن نہیں ہوتا، لہذا اس  کے ذریعے مضرا شیاء  مخدرات وغیرہ  کی تجارت  کو فروغ  مل سکتی  ہے ۔ ( درست )
  • کرنسی نوٹ ویسے استحصال  کا ذریعہ  ہے  ( اگر چہ عرف وتعامل  اور متبادل  نہ ہونے کی وجہ سے اس کے استعمال کی اجازت ہے ) جبکہ  کرنسی  نوٹس میں بہت سارے  حدود وقیود ہیں تو  جبکہ پیپرکرنسی  کی جگہ عالمی  کرنسی  بننے کی جیسا  کہ اس  کے بنیادی  مقاصد میں یہ بات شامل ہے کہ کرنسی  کو ساری دنیا کے لیے  ایک اور یکساں  کیاجائے  جیساکہ  نیٹ کے ذریعے  اسالیب  النشر یکساں ہوچکے ہیں  ۔
  • Block Chain کے ذریعے  صفقات  کی حفاظت کافی حد تک  باعث اطمینان  ہے لیکن  یہ سارا حفاظتی  نظام جن آلات کے ذریعے  ہوتی ہیں وہ کسی  بھی وقت کرپٹ ہوسکتے  ہیں ۔ ( اس کا زیادہ  دنیا کا سارا فائینشل نظام  ڈیجیٹلائز ہی چل رہاہے  ، یہ امکان  ہر جگہ  ہے ۔افنان )
  • ڈیجیٹک کرنسیز کا یہ سلسلہ پھلتا جارہاہے چنانچہ  60 کے  قریب  کرنسیاں  وجود  میں آچکی  ہیں جن میں سے چھ  کو اساسی عملات  قرار دیاجاتا ہے ۔
  • جب ایک قوت حاکم اس کے پیچھے  نہیں تو ا س کے طلب  ورسد کے طلب  کا صحیح اندازہ اور اس کے تحت  ا س کی حقیقی حالت  کو کنٹرول  کرنا یا معلوم  کرنا ناممکن   کے درجے  میں ہے  جس کی وجہ سے  تعزیر وتبلیس  بہت آسان  ہے ۔ ( مسائل تو پیدا ہی کنٹرول  کی وجہ سے  ہورہے ہیں  ، اگر خالصتاً طلب ورسد پر ہو  جیسے نقدین  میں اصل  نظام یہی تھا   ، تو بہتر ہے)
  • کرنسی ایسی  چیز ہونی  چاہیے  ہر عام  وخاص کی بروقت  رسائی ممکن  ہو اور اس میں یہ صفت نہیں  ۔ ( صغری مسلم نہیں )
  • کرنسی ایسی ہونے چاہیے جس کی ریزگاری اور وحدات بآسانی  دستیاب  ہوں ، یہاں  بہت پیچیدہ  طریقے  ہیں ، نیز   ایک  Bitcom کے ہزاروں اکائیاں  بن سکتی ہیں جو ناقابل  ضبط   بھی ہیں ۔
  • جرمنی کے علاوہ  سرکاری سطح  پر اس کی تمنیت کی حیثیت تسلیم  نہیں ۔( اکثر  دنیا اسے سند جواز فراہم کرچکی  ہے ۔ )
  • اس طرح کرنسیوں کی ریٹ  میں نامعلوم  وجوہات کے غیر متوقع  اورشدید اتار چڑھاؤ جاری رہتا  ہے چنانچہ   6 جنوری  2014 میں ایک  Bitcom  کی ریٹ 917 ڈالر جب کہ اس سال  دسمبر میں  330 ڈالر تک آگیاتھا۔

اور 2014 ء کا سب سے خراب  اور باعث نقصان  کرنسی ریٹ قرارپایا ۔اس وجہ سے بینک  اس سے اعتراز کرتے ہیں ۔ ( خدشہ  حقیقی ہے )

مذکورہ بالا وجوہ اس میں خرید بھی تحقیق  کر جانے کی وجہ سے  ا س طرح  کی کرنسی  کی زبردست حوصلہ شکنی  کرنی چاہیے ، تاہم جہاں رائج  ہوتو وہاں  آپ کے ذکر کردہ وجوہات  کی بنا پر اس پر کئےجانے  والے معاملات  کو درست قرار دیاجانا  چاہیے  ۔ ویسے  بھی نوٹ میں اصلی مالیت مخصوص نمبر دو کی وجہ سے ہے باقی  مشکل وصورت  تو نمبر  کے نقل وحمل کو آسان   بنانے کے لیے  ہے  لہذا جو کوئی   جوہری  فرق نہیں ۔

 مفتی حسین صاحب کی اس قسم کے معاملات  میں یہ رائے  ہے کہ ہمیں صرف حکم  فقہی   نہیں لکھنا  چاہیے  ،بلکہ ان کے خارجی  منافع ومضار کومد نظر  رکھتے ہوئے مشورہ   بھی دینا  چاہیے۔ یا سد ذریعہ  کے طور  پر کراہت  کا حکم لگانا  چاہیے  ۔ ( ناقل )  

رائے گرامی مفتی ارشاد اعجاز   ( شریعہ ایڈوائز ر بینک اسلامی  )

بٹ کوائن کی اساس تو کسی ملک کے نقود  ہی ہوتے ہیں  اور ممکنہ  طور پر بٹ کوائن کسی اثاثے  کے بدلے   بھی جاری  کیاجاسکتا  ہے۔ یعنی  ڈالر یا پاؤنڈ کو ایک  آئی ٹی  کے سسٹم س ( سافٹویئر) میں ڈپازٹ  کرکے دینے والے کا اکاؤنٹ  کریڈٹ کردیاجاتا ہے  پھر مختلف تبادلوں  کے نتیجے میں یہ کرنسی  استقلال  حاصل  کرلیتی ہے۔ا س کا مطلب یہ ہوا کہ یہ کرنسی  اصالتا کسی  اور کرنسی  یا اثاثے  کی بناید پر قائم  ہونے  کے بعد  استقلال  حاصل کرتی ہے  ۔

کرنسی  کے نظام پر دو حیثیتوں  سے گفتگو  کی جانی چاہیے ،ا یک شرعی  اوردوسری  حیثیت انتظامی ہے ۔

 شرعا تو کرنسی  کے اجراء  پر کوئی خاص قید وبند تو نہیں ہے ۔ حکومت  کے علاوہ  افراد بھی فی نفسہ  ا س کو جاری رکھ سکتے ہیں  جیسے  بیع مقایضہ  میں افراد کسی  بھی مشروع چیز  کو ثمن بناسکتے ہیں ۔

انتظامی  رخ پر کرنسی  کےا جراء  اور نظم  ونسق  پر بہت سے شرائط  کا لحاظ  رکھاجانا   ضروری  ہوگا۔ کرنسی  خداع پر متنج  نہ ہو ،  افراد کے کنٹرول  کی وجہ سے اس میں تعامل  کرنےو الوں  کے حقوق  کا تحفظ  ، حکومتی  قوانین  کی پاسداری  اور اس طرح  کے دیگر  انتظامی امور  کا لحاظ ضروری ہوگا ۔

 لہذا میری  رائے میں  بٹ  کوائن  فی نفسہ  جائز  زر مبادلہ  ہے کیونکہ  اس کی اساس  اگر چہ  خود کرنسی  یا اثاثے  تھے مگر اب یہ خودمستقل  بالذات  زرکا درجہ  کسی نہ کسی حد تک رکھتا  ہے ، اورزر  کے لیے کسی  اثاثے  یا نقود کی اساس  پر ہونا ضروری  نہیں  جیسا کہ  فیاٹ  منی  کے جواز پر علماء  کی آرا ء سے  یہ واضح ہوتا  ہے البتہ  اس کے جواز  کے فتوی  کے ساتھ قانونی  اور انتظامی  شرائط  کا ذکرضروری ہے  تاکہ مستفتی  کو ا س کی  صحیح حیثیت کا  علم ہوسکے  خصوصاً وہ ممالک جہاں یہ قوانین  کے تحت ممنوعات  میں شامل ہووہاں  اس میں تعامل  ناجائز ہوگا ۔

 واللہ اعلم بالصواب بالخیر

ارشاد احمد اعجاز  

الجواب حامداومصلیاً

بٹ  کوئن  ( Bitcoin) اور دیگر  غیر حسی کرنسیوں    ( Digital Currencies )   کے  متعلق  ماہرین  اقتصاد کے فراہم  کردہ مطالعتی  مواد پر تفصیلی  غور وفکر  کرنے کے بعد ، بٹ کوئن  کی فقہی  تکییف  اور اس کےجواز یا عدم جواز  کے متعلق   جواب دینے  سے پہلے  ، تین امور قابل غور ہیں :

1۔ ایک یہ کہ غیر حسی  کرنسی بالخصوص  بٹ کوئن  کی اصلیت کے متعلق  ماہرین اقتصاد کی کیا  تحقیق  ہے۔

2۔  بٹ کوئن  اورا س کے  ہم مثل  دیگر غیر  حسی کرنسیوں   کی فقہی  تکییف  اورا س کا  مروجہ  آلہ تبادلہ یعنی کرنسی   نوٹ  پر فقہی  انطباق ۔

3۔انتظامی امور  کے رخ سے بٹ  کوئن کی حیثیت اور اس کے جواز  پر مدار شرائط ۔

بٹ کوئن کی حقیقت ماہرین اقتصاد کی  نظر میں :۔

موجودہ دور میں غیر حسی  کرنسیوں  میں سے سب سے  زیادہ  رواج پکڑ نے والی کرنسی  بٹ کوئن  ہے، جس کے ھوالہ  سے ماہرین اقتصاد کے تحقیقی مقالے   نیز قانونی  اور انتظامی  جائزہ موجود ہیں  ۔ چنانچہ  بٹ کوئن  کا قانونی  جائزہ لینے  کے لیے   امریکہ  کے ایوان  بالا میں  قانون  سازوں  کی زیرصدار ت  دو مجلسیں  منعقدہوئی  ،جن میں ایک مشہور  مرکزی  ادارہ تحقیق    ( Congressional Research Service )  کے پیش کردہ  مقالہ میں بٹ  کوئن کا پورا جائزہ  لیا گیاہے  ۔

 بٹ کوائن کی اصلیت معلوم کرنے کے لیے مذکورہ  مقالہ  میں چند امور قابل  غور ہیں جن کا ذکر درج ذیل  ہے :

1۔ بٹ کوئن ایک  غیر  حسی  کرنسی  ہے جس کا کوئی جسمانی  وجود نہیں ،ا ورا س کا  پورا مدار  انٹرنیٹ پر ہے ۔

2۔بٹ کوئن  ایک مکمل آزاد مصدر غیر حسی  کرنسی ہے جس کے پیچھے کوئی  طاقتور مرکزی یا حکومتی ادارہ نہیں ۔ چنانچہ  امریکہ  کے وزارت  خزانہ نےا س کو غیر مرکزی قرار دیاہے ۔

3۔مروجہ  کرنسی نوٹ   کی طرح بٹ کوئن  کو بھی سونے کی پشت پناہی حاصل نہیں ۔

4۔ مارکیٹ میں بٹ کوئن کی طلب  ورصد  کا معیار  کافی بلند ہے  عوام بالخصوص تاجروں کا رجحان  بٹ کوئن کے  لین دین  کی طرف بڑھتا جارہاہے ۔

5۔ بٹ کوئن کا استعمال  دیگر رائج  کرنسی   مثلا  : ڈالر اور یورو کی طرح  ہورہاہے ۔

 بٹ کوئن کی فقہی تکییف :

  بٹ کوئن  اور دیگر  غیر حسی کرنسیوں میں پائی جانے والی  خصوصیات  کو مد نظر رکھتے ہوں  یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان میںؐ اور  مروجہ کرنسی  نوٹ میں شرعی لحاظ سے کافی  قدر مطابقت  پائی جاتی ہے  ۔ چنانچہ بٹ کوئن میں  دو بنیادی امور   پائے جاتے ہیں  جو ا س بات پردلالت  کرتی ہے کہ بٹ کوئن  میں ، شرعی نقطہ نگاہ سے  ، مال ہونے  کی اورذریعہ  تبادلہ  یعنی ثمن ہونے  کی صلاحیت موجود ہے :

1۔ بٹ کوئن  کی خصوصیات  اورفقہائے کرام  کے ” مال ‘ کے  ذکر کردہ  تعریفات  میں ہم آہنگی  پائی جاتی ہے  ۔ چنانچہ  فقہاء  متاخرین  میں سے علامہ  شامی ؒ  نے مال کی توریف یوں کی ہے  :

الدر المختار  وحاشیۃ ابن عابدین  ( رد المختار )( 4/501)

المراد بالمال  مایمیل  الیہ الطبع ویمکن  ادخارہ لوقت الحاجۃ، والمالیۃ  تثبت   بتمول  الناس  کافۃ  او بعضھم  ، والتقوم  یثبت  بھا وباباحۃ الانتفاع بہ شرعا۔

اور شیخ مصطفی  احمد الزرقانے ‘المدخل  الفقھی  العام  ‘ میں مال کی جامع تعریف کرتے  ہوئے فرماتے ہیں :

 المدخل الفقھی  العام   ( 3/118)  

المال : ھو کل عین  ذات قیمۃ مادیۃ بین الناس  ۔

مال کی مذکورہ  تعریف ڈیجیٹل  کرنسی  اور بالخصوص س بٹ  کوئن پر مکمل  منطبق  ہوتی ہے ،”مال ‘ کی تعریف میں  تین  بنیادی  امور کا ذکر  ہوا ہے  ۔ ایک یہ کہ مال اس  کو کہاجاتا ہے  جس کی طرف  طبیعت  سلیمہ مائل ہو ۔  جس وک بعض فقہاء کرام  نے شئی مرغوب ”  سے تعبیر کیا ہے  ۔ دوسرا یہ کہ اس شئی مرغوب  کو بوقت  حاجت محفوظ کرنا ممکن ہو۔ اور تیسرا  یہ کہ اس شئی   مرغوب  کے لین دین  کا عرف عام قائم ہوجائے  ۔ چنانچہ  بٹ کوئن  میں بھی مذکورہ  تین اوصاف پائے  جاتے ہیں ، جس کی واضح دلیل یہ ہے کہ مختلف کرنسیوں  کے ریٹ  بتانے والے بیشتر ، مشہور  ومعروف، ویب سائٹ ، بٹ  کوئن کا بھی  ریٹ بتاتے ہیں ۔ جس سے  یہ معلوم ہوتا ہے  کہ اس کا استعمال  عرف عام میں قائم  ہوچکاہے  ۔ا ور جہاں  تک بٹ کوئن کو محفوظ   کرنے کی بات  ہے سو اس  کو بھی دیگر  غیر حسی  مال ومتاع   (Vitrul Wealth ) کی طرح  برقی آلہ  میں محفوظ کیاجاسکتا ہے ۔

2۔بٹ کوئن میں ‘ ثمن ”  ہونے کی صلاحیت :

عہد حاضر میں کسی چیز  کے ثمن  اصطلاحی  بننے اور اس کے  ثمنیت پراتفاق  رائے پیدا  ہونے کی  دوصورت ہوسکتی ہیں  ۔ ایک یہ کہ حکومت  کسی  چیز  کو ثمن قراردیدے  اور یوں عوام  اس کو قبول  کرنے پر مجبور  ہوجائیں ۔ا س کو اصطلاحی  زبان میں ‘ زرقانونی ” اور   Legal Tender کہاجاتا ہے  ۔ اوردوسری صورت یہ ہے کہ عوام میں خود کسی شئی  مرغوب کا چلن  ہوجائے اور اس کو ذریعہ تبادلہ تسلیم کرلی جائے ۔

چنانچہ   ‘ المدونۃ الکبری ‘ میں تحریر فرماتے ہیں :

 ولوان الناس  اجازوا بینھم  الجلود  حتی  تکون  لھا سکۃ وعین لکرھتھا ان تباعبالذھب  والورق ۔

‘ ثمن  ‘ کے ارتقاع کے متعلق  ‘انسائکلو پیڈیا برٹانکا’ میں لکھاہے کہ :

ترجمہ: ‘ہر وہ چیز  ثمنیت  کی صلاحیت رکھتی  ہے جس کا  چلن  ،ا س کے کام گار  اور نفع بخش تجربات  کے مراحل  سے گزرنے  کے بعد  ، عرف عام  میں بطور ثمن  کے ہوجائے۔ اس کی واضح  مثال  مختلف زمانوں  میں مختلف اشیاء  کے اندر پائی جاتی ہیں  ۔ چنانچہ  کے عہد میں ‘ وامبم ‘ ( صدف سے پٹی ہوئی  لڑیاں )  انڈیا  میں ‘ کوریز ‘ ( چھلکوں  سے بنے ہوئے  چمک  دار گولے )  ‘ فیجی ‘  میں ویل  (حوتان ) کے دانت  ، شمالی  امریکہ میں تمباکو ،’یاپ’ کے جزیرہ  میں قرض  نما بڑے  پتھر،ا ور جنگ عظیم  دوم کے بعد ‘جرمنی  ‘ اور دنیا  بھر کے قید خانوں میں سگریٹ  کو بطور ثمن  اور زر تبادلہ کے استعمال کیاجاتاتھا۔ ثمن کے ارتقاء  میں  امتیاز،ا ن اشیاء  کے ایجاد واختراع سے ہوئی  جن  کا استعمال بطور ثمن  کے ہوتاتھا’۔

 یہ بات بھی مسلم  ہے کہ کسی شئی میں ثمنیت ہونے کی صلاحیت  پائے  جانے کے لیے یہ ضروری  نہیں کہ ا س کو حکومت   نے ‘ زرقانی’   قررادیا ہو۔چنانچہ  کرنسی نوٹ کے ابتدائی  مراحل  میں  جب اس  کی کوئی خاص شکل وصورت نہیں تھی  اس وقت لوگ سنار  اور صراف  سے سکوں کے عوض جاری کردہ  وثیقہ  اور سندیں  حاصل کرتے تھے  جس کو محض  بھروسہ  اوراعتماد  کی بنیاد پر قبول  کیا جاتا تھا ۔ نہ اس کی  کوئی قانونی  حیثیت تھی  اور نہ  ہی اپنے حق  کی وصولیابی  میں ا س کو  قبول کرنے پر کوئی  مجبور کیاجاتاتھا ۔اور دورحاضر  میں ا س کی  ایک واضح  مثال چیک اور انعامی بانڈز ہے ۔  

تاہم ا س بات  کی وضاحت ضروری  ہے کہ بٹ کوئن  در حقیقت  وثیقہ  کی حیثیت  نہیں رکھتا بلکہ  اس کا اساس کسی  ملک کے  نقود یا اثاث  ہی ہے، جس کے تبادلہ  سےا س کو استقلال  حاصل ہو ا ہے ۔ا ور اس  کے  استقلال  حاصل ہونے  کے  بعد  اس کو لوگ  یا  تو خریدوفروخت میں ذریعہ   تبادلہ کے طور پر  استعمال کرتے ہیں یا  پھر اس کو استثمار  کے لیے حاصل کرتے ہیں ۔

بٹ کوئن کے  مستقل  بالذات ثمن اصطلاحی  ہونے کے اور وثیقہ  کی حیثیت  نہ رکھنے  کے چند وجوہات یہ ہیں  :

1۔ بٹ کوئن  کے ضائع  ہونے کی صورت میں حکومت  اس کا کوئی  بدل ادا نہیں کرے گی ۔ جبکہ مالی دستاویزات اور قرض  کے سندات   کے ضائع  ہونے کے وقت  حکومت  کی طرف سے ان سندات  کا بدل کا  انتظام کیاجاتاہے  ۔

 2۔ دور حاضر  میں  بٹ کوئن کا لین دین  مروجہ کرنسی  نوٹ کی طرح انجام دےرہی  ہے اور کسی کے خیال  میں  یہ نہیں ہوتا کہ  وہ قرض  کا لین دین کررہاہے  ، اور بدلہ  میں  بٹ  کوئن بحیثیت  وثیقہ کے حاصل  کیا جارہاہے ۔

3۔ جیسے  آج کل  کرنسی  نوٹ کا استحکام  سونے سے نہ رہا اسی  طرح  بٹ کوئن  کو بھی کسی ثمن  خلقی  ( سونا/چاندی)  کی پشت پناہی   حاصل نہیں ۔ بٹ کوئن  کی قدر وقیمت  اس کے ماوری  موجود کرنسی  نوٹ ہی کی وجہ سے  ہے ۔

 بٹ کوئن   اوردیگر  ذریعہ  تبادلہ کو اگر   تقابلی  نظر سے دیکھاجائے  تو یوں معلوم  ہوتاہے  کہ بٹ کوئن ‘ زرقانونی’ نہ ہونے کی حیثیت  سے چیک اور انعامی  بانڈز کے مانند ہے  کہ اس کو قبول  کرنے میں کسی کو مجبور  نہیں  کیا جاسکتا اور اس کے  مستقل بالذات  ‘ثمن اصطلاحی  ‘ ہونے کی حیثیت  سے کرنسی   نوٹ  ( فکوس نافقہ )  کی طرح ہے  ۔ خلاصہ  یہ کہ بٹ کوئن اپنے تمام  شرعی قید  وبند کے ساتھ مروجہ  کرنسی  نوٹ کی طرح ‘ فلوس  نافقہ ‘ ہی کے زمرے  میں آتا ہے  ۔ چنانچہ  جو  فقہی احکام  کرنسی  نوٹ  پر متفرع ہوتے ہیں  ،

مثلا  :وجوب زکاۃ ، سلم  ، استصناع  ۔،مضاربہ  ومشارکہ  میں راس المال  ہونے کی صلاحیت ، صرف ، اور ربا  ،ا سی طرح  بٹ کوئن  پر بھی وہی  فقہی احکام  جاری ہوں گے ۔

بٹ کوئن اور حکومتی قوانین کی پاسداری

  جہاں تک ملکی قانون  کی پاسداری  کا لحاظ  رکھنے کی اور قانون شکنی  سے اجتناب  کی  بات ہو تو یہ ان خارجی  امور سے  وابستہ ہیں جن کا تعلق نظم ونسق سے ہے ۔ اور انتظامی  معاملات  میں ، عمومی  اور اجتماعی   فلاح وبہبود  کے ملحوظ  خاطر ، ملکی قوانین س میں بیشتر اوقات ترمیمات کی اور بعض اوقات منسوخ ہونے کی گنجائش  ہوتی ہے  ۔لہذا جن ممالک  میں بٹ کوئن  کےا ستعمال  کی ممانعت ہو ان ممالک  میں اس کا استعمال  شرعا  بھی جائز نہیں ہوگا اور جن ممالک  میں اس کے استعمال سے کسی بھی صورت میں ملکی قوانین  وضوابط  کی خلاف ورزی  نہ ہوتو ان ممالک  میں بٹ کوئن  کو بطور  مال وثمن  استعمال کرنا جائز ہوگا  ۔

عربی حوالہ جات اور مکمل فتویٰ پی ڈی ایف فائل میں حاصل کرنے کے لیے دیے گئے لنک پر کلک کریں :

https://www.facebook.com/groups/497276240641626/500347447001172/

3 comments

  1. Assalamualaikum
    اللہ آپ کو اجر عطا فرمائے
    یہ جو آپ نے بٹ کوئن کی بحث نقل کی ھے اسکی اصل کاپی مع دستخط مفتیان عظام بھیجیں ۔۔۔ بھت ہی احسن ہوگا اور آپ کے لۓ خاص طور سے دعا کی جائیگی انشاء اللہ
    مولنا شفیع اللہ دیوبند

  2. Mohammed Luqman Khan
    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ بٹ کون کی تحقیق اچھی لگی مزید اسکی تصدیق ملیں تو ممنون ہوں گا
    فقط والسلام محمد لقمان خان سیلم مدراس انڈیا
WpCoderX