Home » دار الافتاء » خلع کا  فتویٰ

خلع کا  فتویٰ

سوال اورا س کے ساتھ منسلکہ  عدالتی فیصلہ کا مطالعہ کیا گیا ، جس کا حاصل یہ ہے کہ مدعیہ فرحین  یاسین  بنت محمد یاسین نے شوہر سے  چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے عدالت  میں اپنا دعویٰ داخل کیا جس  میں اس  نےمدعی  علیہ شوہر آصف خالد ولد خالد جاوید قیصر پر کچھ الزامات  لگائے ہیں  جن میں چھوٹی  چھوٹی باتوں  پر اذیت  دینا،ا ور  نان  نفقہ  نہ دینا شامل ہیں ، مدعیہ  کا کہنا یہ ہے کہ  ان حالات  کی وجہ سے  اب وہ اپنے شوہر کےساتھ نہیں  رہ سکتی ، کیونکہ  شوہر  کےرویے  کی وجہ سے اس کے دل میں  شوہر کے لیے نفرت  پیدا ہوچکی ہے ۔

اس کے بعد عدالت   نے  شوہر  کو بلانے  کے لیے سمن جاری کیے  ،ا ورروزنامہ  ایکسپریس میں اشتہار  بھی  شائع   کیاگیا، لیکن اس کے باوجود شوہر حاضر عدالت  نہیں ہوا اورا پنا دفاع نہیں کیا چنانچہ  اس کےبعد عدالت س نے بیوی کے حلفیہ   بیان کو بنیاد بناکر  ڈگری  کرکے بطریق  خلع  بعوض  مہردونوں  کا نکاح ختم  کردیا۔

 اس فیصلہ کا حکم یہ ہے کہ چونکہ  دعویٰ میں فسخ  نکاح کی شرعی بنیاد موجود ہے   یعنی  شوہر  کا ” تعنت  ” کیونکہ  دعویٰ  کے مطابق  مدعا علیہ   نے  مدعیہ   کو  نان نفقہ  نہیں دیا   لہذا  دعویٰ  داخل ہونے کے بعد اگر واقعۃً شوہر کو اس  مقدمہ کی اطلاع  ہوئی تھی اور اس کو معلوم  تھا کہ میرے خلاف کیس عدالت  میں چل رہاہے اورعدالت  مجھے طلب  کررہی  ہے لیکن  اس کے باوجود  وی جان بوجھ کر    حاضر عدالت  نہیں  ہوا  اور کسی وکیل کے ذریعہ  بھی اپنا دفاع  نہیں کیا   تو  اس سے شوہر کا ” تعنت  ” ثابت  ہورہاہے  اسی طرح  یہ اس کی طرف سے ” نکول ”  یعنی قسم  سےا نکار بھی  ہے لہذا اب یہ سمجھاجائے گا  کہ مذکورہ صورت  میں  نان ونفقہ  نہ دینے کی  وجہ سے شوہر متعنت ہےا ور مدعیہ  بیوی فرحین  یاسین کے پاس  شرعی گواہ  نہ ہونے یا پیش نہ  کرنے  کی بنیاد پر شوہر کو قسم کے لیے  بلایاگیا لیکن وہ حاضر عدالت نہیں ہو اور اپنا دفاع  نہیں کیا، اس کے بعد عدالت   نے مدعیہ  فرحین  یا سین کے حلفیہ  بیان کو بنیاد بناکر فسخ   کیا شرعاً درست ہے۔

ا س فیصلہ  میں  گو عدالت نے تعنت کو صراحۃً  فسخ نکاح  کی بنیاد نہیں  بنایا بلکہ  منسلکہ  فیصلہ خلع کی بنیاد پر دیاگیا ہے جو  شرعاً درست نہیں  لیکن چونکہ  ا س فیصلہ  میں فسخ   نکاح  کی بنیاد فی الجملہ  موجود ہے  یعنی شوہر کا متعنت  ہونا اور شوہر بھی بلانے کے باوجود حاضر عدالت  نہیں ہوا جو اس کی   طرف سے  قسم سے نکول  بھی ہے  لہذا نکول (یعنی  شوہر کا متعنت ہونااور بار بار ملانے کے باوجود نہ آنا)  کی بنیاد پر یہ نکاح  شرعاً فسخ  سمجھاجائے گا اور مدعیہ مسماۃ  فرحین  یاسین  مدعی علیہ  آصف خالد ولد خالد جاویدقیصر کے  نکاح سے خارج  سمجھی جائے گی ۔ چنانچہ اس کے بعد اگر  آپ شیخ فرحین  یاسین ، کادوبارہ آصف خالد سے نکاح  نہیں ہوا تھا  اور جس وقت  شوہر  نے طلاق    کے سوال  میں  مذکورہ  الفاظ کہے  اس وقت آپ کی عدت بھی گزرچکی  تھی تو ایسی صورت میں شوہر کے مذکورہ  الفاظ سے  کوئی  طلاق واقع نہیں ہوئی  ، اورآ پ دونوں اگر چاہیں  تو دوبارہ نکاح  کرسکتے ہیں  لیکن دوبارہ  نکاح کی صورت میں شوہر کو محض دو طلاقوں  کا اختیار رہے گا ، لہذا طلاق کے معاملے میں   پھر بہت  احتیاط کی ضرورت  ہوگی  ۔

واللہ اعلم 

 بلال احمد قاضی

دارالافتاء جامعہ  دارالعلوم  کراچی

عربی حوالہ جات اور مکمل فتویٰ پی ڈی ایف فائل میں حاصل کرنے کے لیے دیے گئے لنک پر کلک کریں :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

WpCoderX