لیٹ نائٹ جاگنا

رات کے اس پہر (1:34)بلاوجہ جاگنا نقصان دہ ہے 

اس لیے نہیں کہ اس وقت شیطان کا غلبہ ہوتا یا افیر اسی وقت بنتے تنہائی میں غلط باتیں ہوتی رہتیں

بلکہلیٹ نائٹ جاگنے کی وجہ سے ہمارا نارمل بائیولوجیکل کلاک ڈسٹرب ہوجاتا ہے

کیسے؟

جواب: ہمیں  نیند لانے کا موجب ایک ہارمون ہے جسے “میلاٹونن ھارمون” کہا جاتا ہے ہمارے جسم کی default ڈیفالٹ سیٹنگز میں یہ ہارمون جیسے ہی شام کا دھندلکا شروع ہوتا اور ہلکی ہلکی تاریکی چھاتی ہے تو یہ ہارمون ریلیز ہونا شروع ہو جاتا نتیجۃً اگلے گھنٹے دو گھنٹوں میں ہمیں شدت سے نیند محسوس ہوتی ہے

لیکن ہم کرتے کیا ہیں ؟

ہم اپنی نیند کی خواہش کو دباتے رہتے ہیں چاہے وہ ڈرامے کی صورت میں ہو، پڑھائی کی صورت میں، فیسبک ہو یا چیٹ ، نتیتجا ھم مسلسل پریکٹس کے بعد میلاٹونن کے جلدی ریلیز کو روک دیتے ہیں کرتے کرتے بالآخر یا تو کلیا ہماری نیند غائب ہو جاتی ہے یا پھر دیر سے نیند آتی ہے۔

اب نیند نہ آنے کی وجہ سے کیا ہوتا سب ہی اس سے بخوبی واقف ہیں 

سٹریس ہارمون ریلیز ہوتےسٹریس ہارمون کی الگ کارستانیاں ہیں جو ہمارا بیڑہ غرق کرتے ، مختصرا  بالوں کا پتلا ہونا، چہرے پر دانے، جسم پر بال انا، رنگ گہرا پڑجانا، دل کا دھڑکنا،کمزوری اور بہت سی خواتین کی بیماریاں جن کو بیان کرنا مناسب نہیں

یہ تو ہوگئی لیٹ سونے کی ںات

اباگر کوئی یہ کہے کہ جی میں لیٹ تو سوتا ہوں لیکن 8 گھنٹے کی پوری نیندلیتا تو مجھے اثر نہیں پڑتا

نہیں جناب!

فرق پڑتا ہے اور بہت زیادہ پڑتا ہے،نیند وہی ہے جو رات کو کی جائے ، میلاٹونن ھارمون رات کے وقت ریلیز ہوتا اور صبح کے وقت اسکا اثر کم ہونا شروع ہوجاتااگر آپ ساری رات جاگ کر صبح کے وقت سوئےتو یہ میلاٹونن کی وجہ سے نہیں بلکہ تھکان کی وجہ سے غنودگی ہوگی اور آپ ڈیپ سیلیپ میں نہیں جاسکوگےجسے آپ سوتے جاگتے والی کیفیت کہتے آپ اس کیفیت میں سارا دن رہوگے۔

اس لیے کوشش کریں جلدی کھانا کھائیں اور تمام کام نمٹا کر جلدی بیڈ پہ جائیں اور فجر کے وقت جلدی اٹھیں 

اسلام نے ہمیں جو طریقہ کار سکھایا ہے

وہ نہ صرف ہماری صحت کے لیے بہترین ہے بلکہ ہماری اخلاقی تربیت اور گناہوں سے بچنے میں بھی بے حد معاون ثابت ہوتا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

اپنا تبصرہ بھیجیں