پولیو ویکسین  پلانے کا حکم

دارالعلوم کراچی فتویٰ نمبر:58

الجواب بعون ملہم الصواب

پولیو کے قطروں کانقصان دہ ہونا یا نہ ہونا ، یا اس میں مضر صحت  اجزاء یا ضبط تولیدی اجزاء کا شامل ہونانہ ہونا ایک طبی معاملہ ہے  اور ایسے معاملات میں شرعی احکام کا دارومدار  طبی تحقیق پرہوتا ہے  ۔آپ نے جو صفحات ارسال کیے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے  کہ یہ ویکسین صحت کے لیے مضر ہے ، مگر ہم نے  اس سلسلے  میں ڈاکٹروں سے ( جن میں کراچی یونیورسٹی کے مائیکرو بائیولوجی ڈپارٹمنٹ کے ماہرین  بھی شامل  ہیں ) جو معلومات حاصل کی گئی ہیں ان کے مطابق پولیو  کی ویکسین  بنانے کا جو معیاری طریقہ کار  ہے اگر اس  کے مطابق یہ ویکسین  بنائی جائے تویہ ویکسین  مضر نہیں ۔ا ور اس کے فارمولے  میں کوئی مضر صحت اجزاء  شامل نہیں اور نہ ہی یہ ویکسین شرح ولادت میں  رکاوٹ کا  باعث ہے  ،لہذا اگر اس فارمولے  کے مطابق ویکسین  بنائی جائے اور مستند لیبارٹری  سے اس کی تصدیق ہوجائے تو ایسی ویکسین  کے قطرے پلانا جائز ہے ۔ ( ماخذہ : 69/1586)

اس لیے ہمارے نزدیک  پولیو کے قطرے  پلانے کا اصولی حکم یہ ہے کہ اگر لیبارٹری سے تصدیق کے بعد ثابت   ہوجائے کہ یہ مضر صحت نہیں بلکہ مفید ہے تو اس کا  پینا اور پلانا شرعاً فی نفسہ جائز ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب

احقرشاہ محمد تفضل

دارالافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی

28رجب  المرجب  1435 ہجری

28 مئی 2014 عیسوی

عربی حوالہ جات اور مکمل فتویٰ پی ڈی ایف فائل میں حاصل کرنے کے لیے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://www.facebook.com/groups/497276240641626/554081941627722/

اپنا تبصرہ بھیجیں