Home » دار الافتاء » خاندانی مسائل » صرف ایک وارث  تقسیم   میراث کا مطالبہ کرے  اور باقی  تاخیر  پر راضی  ہوں ۔

صرف ایک وارث  تقسیم   میراث کا مطالبہ کرے  اور باقی  تاخیر  پر راضی  ہوں ۔

 سوال: ایک مکان  میں تین بھائی  اور ایک مطلقہ  بہن رہائش پذیر  ہے ۔ اب دوسرے  نمبر والے بھائی  نے پر زور مطالبہ  شروع  کردیا ہے کہ والد صاحب کی جائیدادکا بٹوارہ کر کے  سب کو الگ الگ  اپنا حصہ  دے دیاجائے ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا شریعت میں ایسی  کوئی صورت  ممکن ہے  کہ اگر تمام  ورثاء  راضی ہوں  سوائے ایک  وارث  کے  تو محض  اپنے فائدے  کے لیے  مناسب وقت  تک تقسیم  میراث  کو مؤخر  کردیاجائے؟ اور مذکورہ  ایک وارث  کو راضی  نہ  ہونے کی صورت میں   صرف اسے  اس کا حق  دے  دیاجائے  تو پھر  اسے اعتراض  کا کوئی  حق تو شرعا نہیں ہوگا  نا؟

 جواب: آپ کے بھائی کامیراث  کی تقسیم  کا مطالبہ کرنا درست ہے ۔ میراث کی تقسیم  میں تاخیر  کرنا درست  نہیں۔  البتہ  اگر کسی  سخت مجبوری  کی بنا پر  فی الفور  تقسیم میراث  ممکن نہیں  تو یہ صؤرت اختیار کی جاسکتی ہے  کہ  مکان کی قیمت  لگا کر  بھائی کو اس کے حصے  کی رقم کوئی ایک  وارث   یا سب مل کر ادا  کردیں  اور پھر تقسیم  میراث کے وقت   جس وارث نے جتنی  رقم  ادا کی  ہو پہلے  وہ رقم  اس کع دیدی جائے  پھر بقیہ   رقم   کو ورثاء  کے حصوں   کے  بقدر  تقسیم  کردیا جائے  تو اس کی گنجائش ہے  

 تقسیم کا طریقہ یہ ہوگا  کہ مکان  کی قیمت   لگا کر  اسے سات  برابر  حصوں  میں تقسیم  کردیاجائے ۔ہر بھائی  کو دو اور  ہر بہن  کو ایک حصہ  دیدیاجائے ۔

2 comments

  1. في المسئلة التي ذكرت فوق تقسم التركة علي 7 اثنين للإخوان و واحد للأخت
    • غلطی کی نشاندہی کےلیے شکریہ !
      جزاکم اللہ خیرا کثیرا
WpCoderX