Home » دار الافتاء » سونے کی کمیٹی کا حکم

سونے کی کمیٹی کا حکم

کیافرماتے ہیں مفتیان کرام    مندرجہ ذیل  مسئلہ کے  بارے میں  !

ہمارے ہاں بازار میں تاجروں کے مابین ایک کمیٹی  ڈالی  گئی ہے  جس کا  طریقہ کار مندرجہ ذیل  ہے ۔

کمیٹی کا  طریقہ کار :

ہر ممبر  ماہانہ بنیادپر  10 گرام سونا  ( خواہ ا س کی قیمت  جتنی بھی  ہو )  خرید کر کمیٹی والے کو  دیں گے۔کمیٹی ہر ماہ  قرعہ اندازی پر نکلے گی ۔ کمیٹی کی ادائیگی  بھی بصورت  سونا ہی ہوگی ۔ا س سارے معاملے میں سونے کی قیمت سےکوئی  واسطہ نہیں  کم ہو یازیادہ بہرصورت  لین دین سونے ہی کی صورت میں ہوگا۔ 2۔ نیز یہ کمیٹی تقریبا دو سال کی ہے  ۔

سوال یہ ہے کہ آیا ا س طرح  سونے کی کمیٹی ڈالنا جائز ہے ؟

2۔زکوۃ کی ادائیگی کی صورت کیاہوگی ؟ کون ادا کرے گا ؟

نیز جواز کی صورت میں مزید کوئی رہنمائی فرمانا چاہیں تو وہ بھی فرمادیں

الجواب حامداومصلیاً

 سونے کی کمیٹی   ڈالنا شرعاً جائز نہیں ہے اس لیے کہ  کمیٹی  میں ہرآدمی کی دی ہوئی  رقم یا دیا ہوا سوناقرض  ہوتا ہے  ،ا وراس میں  ہر آدمی اس   شرط  کے ساتھ قرض دیتا ہے کہ  دوسرے شرکاء بھی اتنی رقم یا سونا قرض  دیں گے ،ا ورفقہی اصولوں کی رو سے  ” قرض  بشرط القرض  ” کا معاملہ ہوجاتا ہے  ،جو کہ شرعاً ناجائز ہے ۔ لقولہ علیہ السلام : “نھی عن بیع وسلف

اور اس اصول کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو نقد  رقم کی کمیٹی بھی ناجائز ہونی  چاہیے  لیکن  ” لوگوں کے  تعامل ” اور ” حاجت ” کی وجہ سےاس کی گنجائش دے دی گئی  ہے ، چنانچہ  فقہاء کرام  کے کلام میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ عقد کے بعض  ایسی شرائط  جو اصلا ً عقد کو فاسد  کرنے والی ہوں  لیکن لوگوں کے تعامل اور ابتلاء  عام کی وجہ سے سن کو غیر مفسد قرار دیا گیا ۔

اس کے بر خلاف  سونے کی کمیٹی  میں لوگوں کا اس قدر  عام  تعامل نہیں ہے  کہ زیادہ تنگی اور حرج  کی وجہ سے  عرف کو بنیاد  بناکر جائز قراردیاجائے  ، اس لیے  اس کو اصل اصول  کے مطابق  ناجائز ہی کہاجائے  گا ۔

مذکورہ بالا تفصیل سے قطع نظر کسی حد تک یہ بات بھی  ہے کہ سونے کے معیار  کی پہچان  اورا س میں کھوٹ  کی مقدار   کا جانچنا  ( کہ یہ سونا کتنے کیریٹ کا ہے )  ایساکام ہے کہ بعض  مرتبہ ماہرین  کی رائے میں بھی اختلاف  ہوجاتا ہے ،ا یک ہی سونے کے بارے میں ایک شخص کی ایک رائے  ہوتی  ہے اوردوسرے  شخص کی رائے  اس  سے مختلف  ہوتی ہے۔ اور چونکہ  سونا ثمن خلقی اور اموال ربویہ میں سے ہے ۔ا س لیے  اس میں تھوڑے  سے فرق  یا  معمولی سی بے احتیاط  کے ساتھ  بھی ربٰو ا لازم آسکتا ہے  ، جوکہ ناجائز اور سخت حرام ہے  ۔

اس لیے سونے کی کمیٹی  رکھتے وقت  انتہائی  احتیاط  اورسونے کے معیار کےا یک جیسے ہونے کے بارے میں مکمل اطمینان  ضروری ہو ‘ تاکہ  کمی  بیشی  اور ربو ا کا ادنیٰ شبہ بھی لازم  نہ آئے  لیکن چونکہ  عام طور  پرا س احتیاط کا   ہر گز  لحاظ نہیں رکھا جاتا اور عملا مشکل بھی  ہے ۔اس پہلو سے بھی  ایسی کمیٹی ڈالنا جائز نہیں نہیں ۔

  دارالافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی

عربی حوالہ جات اور مکمل فتویٰ پی ڈی ایف فائل میں حاصل کرنے کے لیے دیے گئے لنک پر کلک کریں :

https://www.facebook.com/groups/497276240641626/509711849398065/

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

WpCoderX