Home » دار الافتاء » سترہ کا مسئلہ

سترہ کا مسئلہ

 کیا فر ماتے ہیں  علماء کرام  اس مسئلہ کے  بارے میں  کہ مسجد میں سترہ کے لیے  دو لکڑیاں  جس کی  لمبائی ایک ہاتھ  سے زائد  اور موٹائی  ایک انگلی  سے زائد  اور موٹائی  ایک انگلی  سے زیادہ  ہو دونوں  کو سات آٹھ فٹ  کے فاصلہ پر رکھ  کر درمیان   میں زنجیر  یا تار  یا رسی باندھ  دی  جائے توکیایہ پورا سترہ کہلائے گا ۔

الجواب حامداومصلیاً

کیافرماتے ہیں  علماء کرام  اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسجد  میں سترہ  کے لیے دو  لکڑیاں  جس کی لمبائی  ایک ہاتھ سے زائد اور ایک  انگلی  سےزیادہ  ہو دونوں  کو سات آٹھ فٹ  کے فاصلے  پر رکھ کر  درمیان میں زنجیر  یا تار یا رسی  باندھ  دی جائے تو کیایہ پورا سترہ  کہلائے گا ؟

الجواب حامداومصلیا ً

 نمازی کے سامنے سترہ کا ہونا مستحب  ہے اور اس کی مقدار  یہ ہے کہ سترہ ایک ہاتھ  اونچا اور ایک انگلی کے بقدر  ہونا چاہیے  اور عام حالات  میں اسی کا اہتمام  کرنا چاہیے  ، البتہ  ا  س سے کم  مقدار  کا سترہ کافی  ہے یا نہیں  ؟ تو ا س  میں اختلاف  ہے راجح قول کے مطابق  اگر بقدر  ذراع  ( ایک ہاتھ)  سترہ میسر  نہ ہوتو ضرورت  کے وقت  اس سے  کم بھی کافی  ہے لہذا صورت  مسئولہ میں ذکر  کردہ ستر ہ کی صورت   بوقت  ضرورت کافی  ہوگی ۔

عربی حوالہ جات اور مکمل فتویٰ پی ڈی ایف فائل میں حاصل کرنے کے لیے دیے گئے لنک پر کلک کریں :

https://www.facebook.com/groups/497276240641626/526468091055774/

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

WpCoderX