تاجر زکوۃ کیسے ادا کریں؟

تجارت میں نت نئے طریقے روز بہ روز سامنے آ رہے ہیں۔ اربوں روپے کی تجارت اب لمحوں اور سیکنڈوں میں ہو رہی ہے۔ کراچی پاکستان کا تجارتی مرکز ہے اور یہاں قسما قسم کے کاروبار ہو رہے ہیں۔ کراچی بھر میں دارالافتا بھی موجود ہیں۔مگر تجارتی

پیچیدگیوں نے اب نت نئے مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔تاجر برادری بھی اس قدر مصروف ہوگئی کہ ا س کے لیے وقت نکال کرکسی دارالافتاء میں آنا بہت مشکل ہوگیا۔ ان حالات میں ضرورت ہے ایک ایسے ادارے کی جو تاجروں کو فوری رہنمائی اور تاجروں کے پاس جاکر فراہم کرے۔ اس مقصد کے لیے صدر کراچی میں ایک دارالافتاء قائم کیا گیا۔ اس دارالافتاء کا مقصد تاجروں کو نت نئے مسائل کے بارے میں بروقت اور فوری رہنمائی فراہم کرنا ہے۔ ادارے کی طرف سے ہی آسان اور عام فہم انداز میں مسائل زکوٰۃ سے آگہی کے لیے ذیل مضمون پیش کیا جارہا ہے۔ ہفت روزہ ’’شریعہ اینڈ بزنس ‘‘ میں تاجروں کے مسائل کا شرعی حل بھی پیش کیا جائے گا۔ دارالافتاء برائے تجارتی و مالیاتی امور (SCS) کے مفتیان کرام تاجروں کی شرعی رہنمائی فرمائیں گے۔ آئندہ ہر شمارے میں مفتیان کرام کے مضامین کے ساتھ ساتھ جدید تجارتی مسائل کا حل بھی پیش کیا جائے گا۔ اپنے کاروبار سے متعلق شرعی رہنمائی حاصل کرنے کے لیے مفتیان کرام میگزین کے پتے پر مسائل ارسال کر سکتے ہیں۔ یہ مسائل فوری طور پر مفتیان کرام کی خدمت میں پیش کردیے جائیں گے۔ بعد ازان اپنے مسائل کا شرعی حل آپ انہی صفحات میں پڑھ بھی سکیں گے۔

زکوٰۃ کے نصاب:

امیر، متوسط اور غریب طبقوں کو ممتاز کرنے کے لیے شریعت نے دو معیار قائم کیے ہیں جنہیں نصاب کہا جاتا ہے۔ ذیل میں ان کی تفصیل دی گئی ہے۔

نصاب نمبر 1برائے غنی (امیر)

کسی کے پاس درج ذیل چارٹ میں دی گئی صورتوں میں سے کسی کے مطابق مال ہو تو وہ شریعت کی اصطلاح میں غنی (صاحب نصاب/ امیر) ہے۔ لہٰذا اس پر زکوٰۃ و صدقہ فطر لازم ہے۔

نصاب نمبر 2برائے متوسط طبقہ (سفید پوش)

کسی کے پاس درج ذیل چارٹ میں دی گئی صورتوں میں سے کسی کے مطابق مال ہو تو وہ شریعت کی اصطلاح میں متوسط (سفید پوش) ہے، لہٰذا اس پر زکوٰۃ دینا لازم نہیں لیکن لینا بھی جائز نہیں۔ البتہ ایسے شخص پر صدقۂ فطرکی ادائیگی لازم ہے۔

ضرورت سے زائد سامان:ہر وہ سامان جس کی عام طور پر ضرورت نہ پڑتی ہو، مثلاً: ایسے برتن جو عام طور پر استعمال نہ ہوتے ہوں، کبھی سال میں ایک آدھ دفع ضرورت پڑتی ہو یا ایسا سامان جو پیک رکھا ہو ا ہو اور استعمال نہ کیا جا تاہو ضرورت سے زائد شمار ہوتاہے۔ ٹی وی، وی سی آر وغیرہ جیسی خرافات بھی ضرور ت سے زائد ہوںگی۔ ان اشیاء کی موجو دہ حالت میں تخمینی قیمت فروخت لگائی جائے گی۔

فقرائ:شریعت کی اصطلاح میں فقراء ایسے لوگوں کو کہا جاتاہے جو متوسط طبقے کے بقدر بھی مال نہ رکھتے ہوں۔ یعنی نصاب نمبر ۲ کی کسی صورت میں بھی داخل نہ ہوں۔ یہ لوگ زکوٰۃ لینے کے مستحق ہیں۔

فریضہ زکوٰۃ سے متعلق چند اہم امور

زکوٰۃ کی تاریخ:زندگی میں پہلی بار قمری سال کی جس تاریخ کو بھی آپ نصاب نمبر (۱) کے مالک ہوگئے، وہ تاریخ آپ کے زکوٰۃ کے حساب کی تاریخ کے طور پر طے ہوجائے گی۔

زکوٰۃ کا حساب:ہر سال اسی تاریخ کو آپ اپنے مال کا حساب کریں گے۔ اگر آپ کے پاس نصاب کے بقدر اموال زکوٰۃ موجو د ہیں تو ان پر 2.5% ڈھائی فیصد زکوٰۃ دینا ہوگی۔

سال گزرنے کا مطلب:اوپر ذکر کردہ تفصیل سے واضح ہے کہ ہرمال پر سال گزرنا لازم نہیں۔ درمیان میں ہونے والی کمی بیشی کا کوئی اعتبار نہیں، سال مکمل ہونے پر نصاب باقی ہو تو ادائیگی لازم ہوگی ورنہ نہیں۔

تملیک (مالک بنانا ) ضروری ہے: زکوٰ ۃ میں کسی مستحق کو مالک بنانا ضروری ہے۔ خالی کسی نیک کام (مسجدکی تعمیر، غریبوںکی دعوت وغیرہ) پر خرچ کرنے سے زکوٰۃ ادانہیں ہوگی۔

قمری تاریخ کا اعتبار:زکوٰۃ کی تاریخ کا اعتبار قمری سال سے ہوگا۔ اگر کسی کو تاریخ یاد نہ ہو غور و فکر کرکے کوئی قمری تاریخ مقرر کرلی جائے۔ آئندہ اس کے مطابق حساب ہوگا۔ باقی حساب کرنے کے بعد او ر انتظامی سہولت سے ادائیگی شمسی تاریخ میں کرنا جائز ہے۔ قیمت فرخت کا اعتبار ہے: زکوٰۃ میں قیمت فروخت کا اعتبار ہوتاہے۔ یعنی جس قیمت پر آپ کا بیچنے کا ارادہ ہے اور عموماً اس پر بِک بھی جاتی ہو۔ مال تجارت: ہر وہ چیز جو آگے بیچنے کی نیت سے خریدی ہو اور زکوٰۃ کی ادائیگی کے دن تک یہ نیت برقرار ہو۔ بہترین مصارف:

جدیدتجارتوں کے احکام صنعت (Manufacturing)

متفرق اہم مسائل قرض پر زکوٰۃ کے احکام

شیئرز (Shares) پر زکوٰۃ

 

اپنا تبصرہ بھیجیں