ڈاکٹرذاکرنائیک کےبارے

جناب مفتی صاحب دارالافتاءجامعہ دارالعلوم کراچی

السلام علیکم

جناب عالی!

سوال: آج کل ذرائع ابلاغ میں ایک مذھبی سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کے نام سے معروف ہیں۔ آپ سے سوال یہ ہے کہ کیا وہ ہمارے اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھتے ہیں؟ اور کیا ان کی تقاریر سننا درست ہے؟ موصوف کی تقریر وغیرہ کی سی۔ڈی بازار میں دستیاب ہیں۔

سائل: محمد عزیز 

کراچی

الجواب حامداومصلیا

ڈاکٹر ذاکر صاحب کو ہم ذاتی طور پر نہیں جانتے لیکن جو لوگ ان کو کسی نہ کسی حوالے سے جانتے ہیں یا ان کی تقریریں سن چکے ہیں یا سنتے رہتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ذاکر صاحب باقاعدہ عالم یا مفتی نہیں بلکہ وہ تقابل ادیان کے ماہرین میں شمار ہوتے ہیں اور اس معاملے میں ایک اچھے مناظر ہیں۔

لیکن ائمہ مذاہب میں سے کسی امام کی پیروی نہیں کرتے بلکہ ان کی پیروی کرنے والوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ لہذا اگر ڈاکٹر صاحب سے متعلق لوگوں کی فراہم کردہ معلومات اور ذکر کردہ باتیں درست ہوں تو ان کی تقاریر وغیرہ سننا عام اور سادہ ذہن آدمی کے لیے درست نہیں جبکہ اہل علم حضرات جائز مقاصد کے لیے جائز ذرائع سے ان کی تقاریر یا سی۔ڈی وغیرہ سن سکتے ہیں۔ لیکن چونکہ یہ عالم یا مفتی نہیں ہیں، اس لیے کسی حکم شرعی کے متلعق ان کی کوئی بات اس وقت تک مستند نہیں سمجھی جائیگی جب تک ان کی بات کی کسی مستند عالم یا مفتی سے تصدیق نہ ہو جائے۔

(ماخذ التبویب: فتوی نمبر ٧٠ رجسٹر نمبر ٧٨٨)

واللہ اعلم 

محمود اشرف

١٨۔٧۔١٤٣٩ھ

عربی حوالہ جات وپی ڈی ایف فائل میں فتویٰ حاصل کرنےکےلیےلنک پرکلک کریں:

https://www.facebook.com/groups/497276240641626/permalink/960392357663343/

اپنا تبصرہ بھیجیں