عید کے دنوں میں مقیم ہونے سے پہلے کی گئی قربانی کا حکم 

فتویٰ نمبر:799

🔎سوال: اگر کوئ شخص سفر میں ہے اور تیسری عید کو مقیم ہو جائے تو وہ قربانی تیسری عید سے پہلے کر سکتا ہے یا جب مقیم ہو گا تب ہی کرے گا؟

والسلام

الجواب حامدۃو مصلية

مقیم ہونے سے پہلے قربانی کرسکتا ہے,یہی اس کے لیے کافی ہو گی دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی.

قال العلامہ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالیٰ تحت(قولہ والاقامۃ) فالمسافر لاتجب علیہ وان تطوع بھا اجزأتہ عنھا(ردالمحتار ص ص198ج5)

وقال ایضا تحت(قولہ الی اخر ایامہ) ولو ضحی الفقیر ثم الیسر فی اخرہ علیہ الاعادۃ فی الصحیح لانہ بین ان الاولی تطوع بدائع ملخصا لکن فی البزازیۃ وغیرھا ان المتأخرین قالوا لاتلزمہ الاعادۃ و بہ نأخذ (ردالمحتار ص 201 ج 5)

🔸و اللہ سبحانہ اعلم🔸

✍بقلم : بنت خالد محمود 

قمری تاریخ:8 ذی الحجہ 1439ھ

عیسوی تاریخ:20 اگست 2018

تصحیح وتصویب:مفتی انس عبد الرحیم 

➖➖➖➖➖➖➖➖

ہمارا فیس بک پیج دیکھیے. 

📩فیس بک:👇

https://m.facebook.com/suffah1/

====================

ہمارا ٹوئیٹر اکاؤنٹ جوائن کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں. 

📮ٹوئیٹراکاؤنٹ لنک👇

https://twitter.com/SUFFAHPK

===================

ہماری ویب سائٹ سے وابستہ رہنے کے لیے کلک کریں:

www.suffahpk.com

===================

ہمارے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں:

https://www.youtube.com/channel/UCMq4IbrYcyjwOMAdIJu2g6A

اپنا تبصرہ بھیجیں