گھر کے لان میں جمعہ ادا کرنا

السلامُ علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔
سوال ایک صاحب جمعہ نماز اپنے بنگلے کے لان/باغ میں کرواتے ہیں۔۔ لان کافی بڑا ہے۔ کیا یہ جائز ہے ؟ جمعہ ادا ہو جائے گا؟ کیونکہ مسجد دور ہے اور بنگلہ میں مرد ملازمین کی تعداد زیادہ ہے۔ پھر آس پاس کے لوگ بھی آجاتے ہیں ۔

تنقیح: گھر دیہات میں ہے یا شہر میں نیز مسجد کتنی دور ہے؟

جواب تنقیح: شہر میں ۔۔ مسجد پیدل بیس سے پچیس منٹ کی مسافت پر اور گاڑی میں دس منٹ بمشکل۔

جواب: نمازِ جمعہ فرضِ عین ہے اور اس کی فرضیت ظہر سے زیادہ مؤکد ہے،نیزجمعہ کے دن مسلمانوں کا اجتماع ہوتا ہے،جس سے مسلمانوں کی شان وشوکت ظاہر ہوتی ہے۔لہذا عام حالات میں بلاعذر گھر میں جمعہ پڑھنا مکروہ ہوگا۔جو عذر آپ نے بیان کیا ہے وہ ایسا عذر نہیں کہ جس کی بنا پر گھر میں جمعہ قائم کیا جائے،البتہ اگر کسی بنا پر مساجد بند کردی جائیں یا بعض افراد کے آنے پر پابندی لگادی جائے یا بارش کے پانی کی وجہ سے مسجد جانا مشکل تو پھر اگر
امام کے علاوہ تین بالغ مرد مل کر گھر کے لان میں اس طرح جمعہ ادا کرلیں کہ باہر سے بھی لوگوں کو آنے کی اجازت ہو اور نماز جمعہ کی ادائی کے وقت دروازے کھلے رکھے جائیں تو جمعہ ادا ہو جائے گا؛ کیونکہ جمعہ صحیح ہونے کے لیے مسجد ہونا شرط نہیں،تاہم مسجد کا ثواب نہیں ملے گا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:

1.إِذَا قُلْتَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَلاَ تَقُلْ حَيَّ عَلَى الصَّلاَةِ، قُلْ: صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ، فَكَأَنَّ النَّاسَ اسْتَنْكَرُوا، قَالَ: فَعَلَهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي، إِنَّ الجُمْعَةَ عَزْمَةٌ وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أُحْرِجَكُمْ فَتَمْشُونَ فِي الطِّينِ وَالدَّحَضِ.
جب تم أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ کہہ لو تو حَيَّ عَلَى الصَّلاَةِ نہ کہنابلکہ صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ (اپنے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو) کہنا۔ لوگوں نے اس پر تعجب کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایسا اس ہستی نے کیا جو مجھ سے بہتر ہے۔ بے شک جمعہ ضروری ہے لیکن میں نے ناپسند کیا کہ تمہیں باہر نکالوں تو تم کیچڑ اور پھسلن میں چلو۔
(بخاري، الصحيح، كتاب الجمعة، باب الرخصة إن لم يحضر الجمعة في المطر، 1: 306، الرقم: 859)
(مسلم، الصحیح، كتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب الصلاة في الرحال في المطر، 1: 485، الرقم: 699)
مذکورہ بالا روایت کے مطابق انسان کو تکلیف سے بچانے کی خاطر نماز باجماعت اور نماز جمعہ میں رخصت دینے کا ثبوت ملتا ہے۔ لہذا اگر مجبوری ہو تو گھر میں جماعت کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں بشرطیکہ اذنِ عام (یعنی ہر کسی کو جمعہ کی نماز کے لیے وہاں آنے کی مکمل اجازت ہو، کسی کو جمعہ کی نماز کے لیے آنے سے روکا نہ جاتا ہو) ہو۔ لیکن اگر نماز کی ادائی کے لیے آنے کی کسی کو اجازت ہو کسی کو نہ ہو تو پھر اذنِ عام کی شرط کے نہ پائے جانے کی وجہ سے جمعہ کا قیام درست نہ ہوگا۔ نیز گھر میں مجبوری کی حالت میں جمعہ قائم کرنے سے جمعے کی نماز ادا ہوجائے گی لیکن مسجد کا ثواب نہیں ملے گا۔

2.من صلی الظہرفی منزلہ یوم الجمعة قبل صلوة الامام ولاعذرلہ کرہ لہ ذلک وجاز صلاتہ
[ھدایة: 179/1باب صلوة الجمعة)۔

3.فتاوی ہندیہ میں ہے:
“(ومنها: الإذن العام) و هو أن تفتح أبواب الجامع فيؤذن للناس كافةً حتى أن جماعة لو اجتمعوا في الجامع و أغلقوا أبواب المسجد على أنفسهم و جمعوا لم يجز، و كذلك السلطان إذا أراد أن يجمع بحشمه في داره فإن فتح باب الدار و أذن إذنًا عامًّا جازت صلاته شهدها العامة أو لم يشهدوها، كذا في المحيط.”
(کتاب الصلاۃ، الباب السادس عشر في صلاة الجمعة، ج:1، صفحہ: 148، ط: رشيدية)

4.المبسوط للسرخسي (2 / 25):
“وأما الإساءة فلتركهم أداء الجمعة بعد ما استجمعوا شرائطها، وفي حديث ابن عمر قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ترك ثلاث جمع تهاونًا بها طبع على قلبه»”.

5.الفتاوى الهندية (1 / 148):
“(ومنها الجماعة) وأقلها ثلاثة سوى الإمام”.

6.فتاوی شامی میں ہے :
“(قوله: الإذن العام) أي أن يأذن للناس إذنًا عامًّا بأن لايمنع أحدًا ممن تصح منه الجمعة عن دخول الموضع الذي تصلى فيه، وهذا مراد من فسر الإذن العام بالاشتهار، وكذا في البرجندي إسماعيل، وإنما كان هذا شرطًا لأن الله تعالى شرع النداء لصلاة الجمعة بقوله: {فاسعوا إلى ذكر الله} [الجمعة: 9] والنداء للاشتهار، وكذا تسمى جمعة لاجتماع الجماعات فيها، فاقتضى أن تكون الجماعات كلها مأذونين بالحضور تحقيقًا لمعنى الاسم، بدائع”.(2 / 151)

7.کبیری میں ہے:
والمسجد الجامع لیس بشرط؛ لہذا أجمعوا علی جوازھا بالمصلی في فناء المصر إلخ (ص: ۵۵۱، ط: اشرفی)

فقط واللہ اعلم بالصواب

قمری تاریخ: 5 ربیع الثانی 1443ھ
شمسی تاریخ: 12 نومبر 2021

اپنا تبصرہ بھیجیں