غیرکی بیع پربیع کرنا

فتوئٰ نمبر:613

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

السلام و علیکم و رحمۃ اللہ! علماء اس مسئلہ کی شرعی حیثیت کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟

زید نے خالد سے ایک مشین خریدی، زبانی عقد ہو گیا(لین دین باقی تھا )ہم زید کے پاس گئے اور ہم نے اپنی مشین کی اسکو آفر کی اور کہا کہ ہماری مشین اُسکی مشین سے بہتر ہے اور فی الواقعہ بھی ایسے ہی تھا  تو زید نے ہم سے وہ مشین خرید لی اور خالد کو جواب دے دیا اس سے کی ہوئی بیع ختم کر دی ۔سوال یہ ہے کہ شرعًا ہم نے جرم تو نہیں کیا ؟، اگر جرم کیا ہے تو اسکا کفارہ کیا ہو گا؟

 محمد یوسف  فون نمبر: ۰۳۰۱۴۷۳۱۵۶۰

            الجواب باسم ملہم الصواب

زید اور خالد کے درمیان عقد ہوجانے کے بعد آپ کا  زید کو مشین کی  پیشکش کرنا جائز نہیں تھا۔کیونکہ دو آدمیوں کے درمیان عقد ہوجانے یا  عقد کرنے پر آپس میں رضامند ہوجانے کے بعد کسی تیسرے شخص کا   اپنی  چیز پیش کرکے خود عقد کرنے سے شریعت میں منع کیا گیاہے ۔ خصوصاً  جبکہ مذکورہ صورت میں  فریقین کے درمیان بیع  بھی ہو چکی تھی ۔البتہ آپ کے اس طرح خریدوفروخت سے شرعاً عقد مکمل ہو جاتا ہے۔لیکن  اپنے  اس فعل  پر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنا  اور آئندہ اس  سے  اجتناب ضروری ہے ۔                 

فقه المعاملات – (ج 1 / ص 77)

وفي رواية : لا يبع الرجل على بيع أخيه, ولا يخطب على خطبة أخيه إلا أن يأذن له وفي رواية : نهى أن يستام الرجل على سوم أخيه. والبيع على البيع هو أن يتراضى البائع والمشتري على ثمن السلعة ويعقدان البيع فيأتي شخص ثالث ويعرض على المشتري أن يبيعه مثلها بثمن اقل, فيطلب المشترى فسخ الصفقة . والشراء على الشراء أن يعرض شخص على البائع بعد تمام الصفقة ثمنا أكثر مما باع به لكى يطلب من المشتري الفسخ۔ والسوم على السوم أن يحصل الاتفاق بين البائع والمشتري على السلعة فيعرض مشتر آخر ثمنا اكثر ليأخذها دون الذي سامها قبله .

الفقه الإسلامي وأدلته – (ج 5 / ص 189)

« لايبع أحدكم على بيع أخيه » (4) أي في الدين، وهذا في رأي أكثر العلماء خرج مخرج الغالب،فلا اعتبار لمفهومه، وأنه يحرم أيضاً على بيع الكافر. وأما حكم البيع المذكور فمختلف فيه: فذهب الحنفية والشافعية إلى صحته مع الإثم

أسنى المطالب – (ج 8/ص 58)

واللہ سبحانہٗ وتعالیٰ أعلم
محمد نعمان خالد عفی عنہ
دارالافتاء برائے تجارتی  ومالیاتی  امور
‏‏‏8‏ رجب‏ 1435ھ
‏07‏/05‏/2014ء

( بيع على بيعه ) أي على بيع أخيه ( و ) في الثاني ( شراء على شرائه ) والضابط في الأول أن يرغب المشتري في الفسخ في زمن الخيار ليبيعه خيرا منه بمثل ثمنه أو مثله بأقل وفي الثاني أن يرغب البائع في الفسخ في زمن الخيار ليشتريه منه بأكثر۔

اپنا تبصرہ بھیجیں