خلع کی شرعی حیثیت

سوال:السلام علیکم رحمۃ اللہ و برکاتہ

اگر کوئی  عورت اپنے شوہر سے خلع لے اور اس سے پہلے شوہر نے اسے کوئی طلاق بھی نہ دی ہو تواس خلع سے صرف ایک طلاق بائن ہوتی ہے؟

اور کیا اس خلع کے بعد میاں بیوی بعد میں اگر کبھی نکاح کرنا چاہیں تو اس کے لئے حلالہ ہونا تو شرط نہیں وہ بغیر حلالہ کے تجدید نکاح کر سکتےہیں؟

جواب:جی ہاں! خلع کی شرعی حیثیت ایک طلاق بائن کی ہوتی ہے،اگر پہلے یا بعد میں کوئی اور طلاق نہ دی ہو تو اس صورت میں صرف ایک طلاق بائن واقعی ہوگی،جس سے نکاح ختم ہوجائے گا،زوجین اگر چاہیں تو باہمی رضامندی سے بغیر حلالے کے دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، لیکن واضح رہے یہ خلع اگر عدالتی خلع تھا جس میں شوہر کی رضامندی بھی شامل تھی(یعنی شوہر نےعدالت کو خلع کا باقاعدہ وکیل بنایا ہو )تو اس صورت میں خلع نامہ دیکھا جائے گا،اگر خلع نامہ پر ایک طلاق لکھی تھی تو ایک طلاق ہی واقع ہوگی اگرتین طلاقیں لکھی تھیں تو پھر طلاق مغلظہ واقع ہوگئی جس کے بعد شرعی حلالے کے بغیر تجدید نکاح بھی نہیں ہوسکتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)وفي الہدایۃ : وإذا تشاق الزوجان وخافا أن لا یقیما حدود اللّٰہ تعالیٰ ، فلا بأس بأن تفتدي نفسہا منہ بمال یخلعہا ، وفي الزاد : وإذا فعل ذٰلک وقع بالخلع تطلیقۃً بائنۃً ولزمہا المال ۔ ( الفتاویٰ التاتارخانیۃ : کتاب الطلاق / الفصل السادس عشر في الخلع ۵ ؍ ۵ رقم : ۷۰۷۱ زکریا )

(۲) ویقع بہٖ تطلیقۃٌ بائنۃٌ ، إلا إن نویٰ ثلاثًا فتکون ثلاثًا ، وإن نویٰ ثنتین کانت واحدۃً بائنۃً ، کما في الحاکم ۔ ( شامي ،:کتاب الطلاق / باب الخلع ۵ ؍ ۹۲ ،زکریا )

فقط واللہ اعلم

اپنا تبصرہ بھیجیں