مسجد سے متصل گھر میں امام کی اقتدا میں نماز کا حکم

سوال:مسجد کے ساتھ پانچ قدم کے فاصلے پر گھر ھوتو عورت جماعت کے ساتھ گھر میں نماز ادا کر سکتی ھے جبکہ امام کی آواز بھی صاف سنائی دیتی ہے

نیز جمعہ کی نماز ادا کرنے کا کیا حکم ہے۔

الجواب باسم ملہم الصواب

مسجد کے ساتھ ملے ہوئے مکان میں خواتین کا مسجد کے امام کی اقتدا میں نماز پڑھنا درست نہیں؛کیونکہ اقتدا درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ یا تو امام اور مقتدی کا مکان متحد ہو یا صفیں متصل ہو یعنی امام کے بعد سے اقتدا کرنے والے تک مسلسل صفیں بنی ہوں، صرف امام کی آواز آ جانا کافی نہیں۔

____________

حوالہ جات

1.قال فی الدر:

ولو اقتدی من سطح دارہ متصلة بالمسجد لم یجز لاختلاف المکان ․․․․․․ وقال فی الشامی وان قام علی سطح دارہ ، ودارہ متصلة بالمسجد لایصح اقتداء ہ وان کان لا یشتبہ علیہ حال الامام لان بین المسجد وبین سطح دارہ کثیر التخلل فصار المکان مختلفاً (ج: ۲/۳۳۴، الدر مع الرد)

2.”فتاوی عالمگیر ی”

”ويجوز اقتداء جار المسجد بإمام المسجد وهو في بيته إذا لم يكن بينه وبين المسجد طريق عام وإن كان طريق عام ولكن سدته الصفوف جاز الاقتداء لمن في بيته بإمام المسجد”. (1 / 88، الباب الخامس فی بیان مقام الامام والماموم،ط: رشیدیہ)

3.”فتاوی شامی”

”والصغرى ربط صلاة المؤتم بالإمام بشروط عشرة: نية المؤتم الاقتداء، واتحاد مكانهما وصلاتهما،

(قوله: واتحاد مكانهما) فلو اقتدى راجل براكب أو بالعكس أو راكب براكب دابة أخرى لم يصح لاختلاف المكان؛ فلو كانا على دابة واحدة صح لاتحاده كما في الإمداد، وسيأتي”۔(1 / 549، 550، باب الامامۃ، ط؛ سعید)

واللہ تعالیٰ اعلم

اپنا تبصرہ بھیجیں