مقدس اوراق کا حکم اور حفاظت کا طریقہ

مقدس اوراق کا حکم اور حفاظت کا طریقہ

1-مقدس اوراق، کاغذات، اخبارات اور دیگر اشتہارات (جن پر قرآن پاک کی آیاتِ مبارکہ یا احادیثِ مبارکہ ہوں) کی جان بوجھ کر بے حرمتی کرنا کسی مسلمان کی شان سے بعید ہے اور نہ ہی ایک کلمہ گو ایسی حرکت کرسکتا ہے، لہٰذا ایسی حرکت غلطی سے کرنے والوں کے بارے میں شریعتِ مطہرہ میں حکم عفو (معافی) اور آخرت کی پکڑ سے بری الذمہ کا ہے۔

حدیث شریف میں ہے: ’’عن ابن عباسؓ أن رسول اللّٰہ ﷺقال: إن اللّٰہ تجاوز عن أمتی الخطأ والنسیان وما استکرہوا علیہ‘‘۔ (رواہ ابن ماجہ، والبیہقی، باب ثواب ہذہ الامۃ، مشکوۃ، ص:۵۸۴،ط:قدیمی) ترجمہ:’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت سے خطا اورنسیان کو معاف کردیا ہے ،اور اس گناہ سے بھی معافی عطاء فرمادی ہے،جس میں زبردستی مبتلا کیا گیا ہو۔‘‘(مظاہر حق جدید، ج:۴،۵، ص:۸۵۹،ط:دار الاشاعت)

’’مرقاۃ المفاتیح‘‘ میں ہے: ’’الخطأ والمعنی: أنہ عفا عن الإثم المترتب علیہ بالنسبۃ إلی سائر الأمۃ۔(مرقاۃ المفاتیح،ج:۱،ص:۴۷۱،ط:امدادیہ) ۲

2-اگرمعلوم ہو کہ اخبار کے تراشے میں قرآنی آیت ہے تو اُسے ادب سے رکھنا اور بے ادبی سے بچانا واجب ہے۔ عام اخبارات، رسائل اور ڈائریوں کا یہ حکم نہیں، انہیں استعمال میں لایا جاسکتا ہے، مثلاً فروٹ کی پیٹیوں میں رکھنا، اشیاء لپیٹ کر دینا یا بطور دسترخوان کے استعمال کرنا، اس حوالے سے بے جا تشدد بھی مناسب نہیں ہے۔

3-وہ اخبارات، کاغذات، اشتہارات اور شادی کارڈز (کہ جس پر قرآنی آیاتِ مبارکہ اور احادیثِ مبارکہ کے ترجمے شائع کیے جاتے ہیں) کے استعمال کے بعد ردی ہونے کی صورت میں بشمول قرآن کے مقدس بوسیدہ اوراق کے اُن کو کسی محفوظ مقام پر پاک کپڑے میں ڈال کر دفن کردیا جائے، یہی بہتر اور مذکورہ اشیاء کی توہین سے حفاظت کرنے کا احسن طریق ہے۔

علاوہ ازیں فقہاء نے ان مذکورہ اشیاء بشمول قرآن پاک کے مقدس بوسیدہ اوراق کی حفاظت کے اور بھی اسباب ذکر کیے ہیں،مثلاً: اگر مذکورہ اخبارات، اشتہارات اور شادی کارڈز وغیرہ اور مقدس بوسیدہ اوراق دُھل سکیں، تو حروف کو دھو کر ان کا پانی کسی کنویں یا ٹینکی یا کسی ایسی جگہ بہا دیں جہاں کسی قسم کی نجاست نہ پہنچ جائے اور اسی طرح مذکورہ تمام اشیاء بشمول مقدس اوراق کو کسی دریا یا سمندر یا کنویں میں بھی ڈالا جاسکتا ہے۔

تاہم اگر ان اخبارات، کاغذات، اشتہارات، شادی کارڈز اور دیگر وہ تمام اشیاء جس پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے مقدس نام ہوں، تو ان اشیاء سے اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول ﷺکے مقدس ناموں کو مٹا یاجائے پھر ان کو کسی بھی دنیاوی کام کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ بھی جائز ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے: ’’الکتب التی لاینتفع بہا یمحی فیہا اسم اللّٰہ وملائکتہ ورسلہ ویحرق الباقی ولابأس بأن تلقی فی ماء جار کما ہی أوتدفن وہو أحسن کما فی الأنبیاء ۔۔۔۔۔ وکذا جمیع الکتب إذا بلیت وخرجت عن الانتفاع بہا، یعنی أن الدفن لیس فیہ إخلال بالتعظیم لأن أفضل الناس یدفنون۔ وفی الذخیرۃ: المصحف إذا صار خلقا وتعذر القراء ۃ منہ لایحرق بالنار ، إلیہ أشار محمدؒ وبہٖ نأخذ ولایکرہ دفنہٗ، وینبغی أن یلف بخرقۃ طاہرۃ ویلحد لہٗ لأنہٗ لو شق ودفن یحتاج إلی إہالۃ التراب علیہ وفی ذٰلک نوع تحقیر إلا إذا جعل فوقہٗ سقف وإن شاء غسلہٗ بالماء أو وضعہٗ فی موضع ظاہر لاتصل إلیہ ید محدث ولاغبار ولاقذر تعظیماً لکلام اللّٰہ عز وجل‘‘۔ (فتاویٰ شامی،ج:۶،ص:۴۲۲،ط:سعید)

’’فتاویٰ عالمگیری‘‘ میں ہے: ’’ویکرہ أن یجعل شیئاً فی کاغذ فیہا اسم اللّٰہ تعالٰی کانت الکتابۃ علی ظاہرہا أو باطنہا‘‘۔ (فتاویٰ عالمگیری،ج:۵،ص:۳۲۲،ط:ماجدیہ)

وفیہ ایضاً ’’ولایجوز زلف شئ فی کاغذ فیہ مکتوب من الفقہ ولوکان فیہ اسم اللّٰہ تعالٰی أو اسم النبی ﷺ یجوز محوہٗ لیلف فیہ شئ ، کذا فی القنیۃ ولو محا لوحًا کتب فیہ واستعملہٗ فی أمر الدنیا یجوز۔ (حوالہ بالا)

وفیہ ایضاً ’’المصحف إذا صار خلقا لایقرأ منہ ویخاف أن یضیع یجعل فی خرقۃ طاہرۃ ویدفن ودفنہٗ أولٰی من وضعہٖ موضعا یخاف أن یقع علیہ النجاسۃ أو نحو ذلک ویلحد لہٗ لأنہ لوشق ودفن یحتاج إلٰی إہالۃ التراب علیہ وفی ذٰلک نوع تحقیر إلا إذا جعل فوقہٗ سقف بحیث لایصل التراب إلیہ فہو أیضاً، کذا فی الغرائب۔ المصحف إذا صار خلقاً وتعذرت القراء ۃ منہ لایحرق بالنار أشار الشیبانی إلٰی ہٰذا فی السیر الکبیر وبہٖ نأخذ کذا فی الذخیرۃ۔‘‘ (فتاویٰ عالمگیری، ج:۵،ص:۳۲۳، ط:ماجدیہ)

اپنا تبصرہ بھیجیں