حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت علی کو دوسری شادی کرنے منع کرنے کی وجہ

 سوال : مفتی صاحب پوچھنا یہ ہے کہ حضور  ﷺ نے حضرت علیؓ کو دوسری شادی کرنے سے منع فرمایا حالانکہ مرد کے لیے چار شادی کرنے کی اجازت ہے۔تو کیا یہ دلیل ہے کہ ایک سے زائد شادی کی اجازت نہیں؟ اس بارے میں وضاحت فرمادیں جزاکم اللہ خیرا۔

سائل: فواد خان

الجواب حامدا ومصلیا

          اس واقعہ کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت علی ؓ ابو جہل کی بیٹی سے شادی کرنا چاہ رہے تھے  اب اس بابت رسول اللہ ﷺ کا ارشاد  ملاحظہ ہو:”میں کسی حلال کو حرام یا حرام کو حلال نہیں کر رہا ہوں البتہ اتنا ضرور کہتا ہوں کہ رسول ﷺ کی بیٹی اور اللہ کے  دشمن کی بیٹی ایک جگہ ہرگز جمع نہ ہوں گی” (مسند أحمد)  اس پر حضرت علیؓ نے دوسرے نکاح کا ارادہ منسوخ فرمادیا۔

 قرآن کریم نے مردوں کو چار شادیوں کی اجازت دی ہے  ۔ اسی کی وضاحت میں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: “میں کسی حلال کو حرام یا حرام کو حلال نہیں کر رہا ہوں” ۔لہٰذاحضرت علیؓ کے واقعہ سے  ایک سے زائد شادیوں کی ممانعت کی دلیل لینا درست نہیں ۔

 اب  یہ سوال باقی رہتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ کو  دوسرے نکاح سے کیوں منع فرمایا ؟ اس بارے میں علماء کرام سے مختلف اقوال منقول ہیں:

1۔ حضرت فاطمہؓ سے محبت میں آپ ﷺ نے فرمایا :”فاطمہؓ میرے جگر کا ٹکڑا ہے،جس نے انہیں تکلیف پہنچائی اس نے مجھے تکلیف پہنچائی”۔دوسرے نکاح سے عورت کو تکلیف ہونا فطری بات ہے ۔ حضرت علیؓ اگر حضرت فاطمہؓ پرسوکن لے کر آتے تو اس سے حضرت فاطمہؓ کو تکلیف پہنچتی۔ان کی خفگی سے رسول اکرم ﷺ کو تکلیف پہنچتی ۔اور رسول اکرمﷺ کو تکلیف پہنچانا  حرام ہے  اس وجہ سے   آپ ﷺ نےحضرت علیؓ پر کمال شفقت فرماتے ہوئے ان کو دوسرے نکاح سے منع فرمادیا   مبادا   حضرت علیؓ  کا یہ عمل نبی ﷺ کے لیے تکلیف کا باعث بنے جس کی وجہ سے حضرت علیؓ تنگی اور ہلاکت میں نہ پڑ جائیں۔

2۔ (ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے:”آپ ﷺ نے فرمایاکہ بنی ہاشم بن مغیرہ نے مجھ سے اس بات کی اجازت طلب کی کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح حضرت علی   ؓ  سے کر دیں لیکن میں اس کی اجازت نہیں دوں گا نہیں دوں گا ہرگز نہیں دوں گا۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ علی  ؓ  میری بیٹی کو طلاق دیدیں اور ان کی بیٹی سے نکاح کرلیں فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے جو بات اسے ناگوار گزرتی ہے وہ مجھے بھی ناگوار گزرتی ہے اور جس بات سے اسے تکلیف ہوتی ہے مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے”۔) (صحيح البخاري)

  اس حدیث مبارکہ میں رسول اکرم ﷺ نے  فرمایا کہ “میں  اس کی اجازت نہیں دوں گا ”  اس کے بارے میں ملا علی قاری ؒ  ایک قول نقل فرماتے ہیں : رسول  اکرم ﷺ یہ تعبیر اختیار فرماکر منع نہیں فرمارہے بلکہ آپﷺ کو بذریعہ وحی بتلادیا گیا تھا کہ  حضرت علیؓ کا ابوجہل کی بیٹی سے نکاح  نہیں ہوگا  ۔ اس کا اظہار اس تعبیر سے فرمارہے ہیں۔

الحجة علی ما قلنا

ما فی صحيح البخاري۔ كتاب اصحاب النبی ﷺ۔ بَابُ ذِكْرِ أَصْهَارِ النَّبِيِّ ﷺ

 أَنَّ المِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَة، قَالَ: إِنَّ عَلِيًّا خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ فَسَمِعَتْ بِذَلِكَ فَاطِمَةُ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّكَ لاَ تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ، وَهَذَا عَلِيٌّ نَاكِحٌ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْتُهُ حِينَ تَشَهَّدَ، يَقُولُ: «أَمَّا بَعْدُ أَنْكَحْتُ أَبَا العَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ، فَحَدَّثَنِي وَصَدَقَنِي، وَإِنَّ فَاطِمَةَ بَضْعَةٌ مِنِّي وَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَسُوءَهَا، وَاللَّهِ لاَ تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ، عِنْدَ رَجُلٍ وَاحِدٍ» فَتَرَكَ عَلِيٌّ الخِطْبَةَ

ما فی فتح الباري، ذكر أصهار النبي صلى الله عليه وسلم ،(7/ 86) ط دار المعرفة بیروت

قوله إن عليا خطب بنت أبي جهل اسمها جويرية كما سيأتي ويقال العوراء ويقال جميلة وكان علي قد أخذ بعموم الجواز فلما أنكر النبي صلى الله عليه وسلم أعرض علي عن الخطبة….

و فی مسند أحمد ،حدیث اصحاب رسول الله ﷺ(31/ 229) ط۔مؤسسة الرسالة

وَإِنِّي لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلَالًا، وَلَا أُحِلُّ حَرَامًا، وَلَكِنْ وَاللهِ لَا تَجْتَمِعُ ابْنَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَابْنَةُ عَدُوِّ اللهِ مَكَانًا وَاحِدًا أَبَدًا

ما فی صحيح البخاري : كتاب النکاح۔ بَابُ ذَبِّ الرَّجُلِ عَنِ ابْنَتِهِ فِي الغَيْرَةِ وَالإِنْصَافِ

عَنِ المِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ عَلَى المِنْبَرِ: «إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ المُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُوا فِي أَنْ يُنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَلاَ آذَنُ، ثُمَّ لاَ آذَنُ، ثُمَّ لاَ آذَنُ، إِلَّا أَنْ يُرِيدَ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يُطَلِّقَ ابْنَتِي وَيَنْكِحَ ابْنَتَهُمْ، فَإِنَّمَا هِيَ بَضْعَةٌ مِنِّي، يُرِيبُنِي مَا أَرَابَهَا، وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا»

ما فی مشكاة المصابيح، باب مناقب ا‫هل بیت

وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا – أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – قَالَ: ” «فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي، فَمَنْ أَغْضَبَهَا أَغْضَبَنِي» “. وَفِي رِوَايَةٍ: ” يُرِيبُنِي مَا أَرَابَهَا، وَيُؤْذِينِي مَا أَذَاهَا “. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

 و فی مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ، باب مناقب ا‫هل بیت (9/ 3966)

وَفِي شَرْحِ مُسْلِمٍ قَالُوا فِي الْحَدِيثِ تَحْرِيمُ إِيذَاءِ النَّبِيِّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – بِكُلِّ حَالٍ وَعَلَى كُلِّ وَجْهٍ وَإِنْ تَوَلَّدَ الْإِيذَاءُ مِمَّا كَانَ أَصْلُهُ مُبَاحًا وَهُوَ مِنْ خَوَاصِّهِ – صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ –

 وَهُوَ لِوَجْهَيْنِ. أَحَدُهُمَا: أَنَّ ذَلِكَ يُؤَدِّي إِلَى أَذَى فَاطِمَةَ فَيَتَأَذَّى حِينَئِذٍ النَّبِيُّ  صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  فَيَهْلِكُ عَلَيٌّ  رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ  مِنْ أَذَاهِ، فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ لِمَكَانِ شَفَقَتِهِ عَلَى عَلِيٍّ.

 وَثَانِيهُمَا: أَنَّهُ خَافَ الْفِتْنَةَ عَلَيْهَا بِسَبَبِ الْغَيْرَةِ، وَقِيلَ: لَيْسَ الْمُرَادُ بِقَوْلِهِ لَا آذَنُ النَّهْيُ عَنْ جَمْعِهِمَا، بَلْ مَعْنَاهُ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِمَ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ تَعَالَى أَنَّهُمَا لَا يَجْتَمِعَانِ۔۔۔۔

وَسَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ دَاوُدَ يَقُولُ: لَمَّا قَالَ النَّبِيُّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” «فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي يُرِيبُنِي مَا رَابَهَا وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا» ” حَرَّمَ اللَّهُ عَلَى عَلِيٍّ أَنْ يَنْكِحَ عَلَى فَاطِمَةَ وَيُؤْذِيَ رَسُولَ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ} [الأحزاب: 53]

ما فی المنتقى شرح الموطإ ، باب ما جاء في حسن الخلق (7/ 210) دار الكتب قا‫هرة

وقد قال به بعض العلماء أنه لا يجوز أن يؤذى النبي  صلى الله عليه وسلم بفعل مباح ولا غيره، وأما غيره من الناس فيجوز أن يؤذى بمباح وليس له المنع منه ولا يأثم فاعل المباح، وإن وصل بذلك أذى إلى غيره قال ولذلك قال النبي – صلى الله عليه وسلم – «إذ أراد علي بن أبي طالب – رضي الله عنه – أن يتزوج ابنة أبي جهل إنما فاطمة بضعة مني وإني والله لا أحرم ما أحل الله، ولكن والله لا تجتمع ابنة رسول الله وابنة عدو الله عند رجل أبدا» فجعل حكمها في ذلك، حكمه أنه لا يجوز أن يؤذى بمباح واحتج على ذلك بقوله عز وجل {إن الذين يؤذون الله ورسوله لعنهم الله في الدنيا والآخرة وأعد لهم عذابا مهينا} [الأحزاب: 57] {والذين يؤذون المؤمنين والمؤمنات بغير ما اكتسبوا فقد احتملوا بهتانا وإثما مبينا} [الأحزاب: 58] فشرط في المؤمنين أن يؤذوا بغير ما اكتسبوا وأطلق الأذى في خاصة النبي – صلى الله عليه وسلم – من غير شرط فحصل على إطلاقه.

واللہ اعلم بالصواب

محمد عثمان غفرلہ ولوالدیہ

نور محمد ریسرچ سینٹر

دھوراجی کراچی

۲۲/۵/۱۴۴۱ھ

2020/01/18

اپنا تبصرہ بھیجیں