کرایہ دار کا دوسرے کو کرایہ پردینے کا حکم

کیا فرماتے ہیں  علمائے کرام اس مسئلہ  کے بارے میں کہ :

ایک بندہ  نے ڈبل سٹوری گھر  دس ہزار  روپے  پر لیا۔ پھر اس کا ایک پورشن دوسرے شخص کو آٹھ ہزار  کرائے پر دے رہا ہے ۔ کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

کرایہ  پر لیے ہوئے گھر یا اس  کے ایک حصہ کا دوسرے شخص کو  رہنے  کے لیے کرایہ پر دینا جائز ہے، لیکن جو کرایہ وہ خود ادا کرتا ہے اُس سے  زیادہ پر دینا جائز نہیں، اگر  دے دیا تو اس اضافی رقم کو  صدقہ کرنا واجب ہے۔ البتہ  دو صورتوں میں زائد کرایہ لینے کی فقہاء نے اجازت  دی ہے:

۱۔ کرایہ   دار وہی چیز دوسرے کو  پہلے ادا کیے گئے کرایہ کے علاوہ ( مثلاً گندم وغیرہ)  پر دے  دے، تو اب لینا زیادہ  جائز ہوگا۔

۲۔ اس میں اپنی  طرف سے کچھ اصلاح ومرمت  ( رنگ وروغن ) کرکے اس کی حیثیت بڑھادے  ، یا اس کے  ساتھ اپنی کوئی  چیز ملا کر مجموعہ  کا کرایہ زیادہ لے تو یہ بھی جائز ہے۔

والحجة علی ماقلنا:

مافی البدائع: ” ولو أجرھا المتأجر ۔۔۔۔الخ

( البدائع  الصنائع :۴/۶۷)

ومافی الھندیة : ”وإذا استأجردارا، ۔۔۔الخ

( الفتاوی الھندیة : ۴/۴۲۵)

وما فی الدر املختار: ” ولو آجر بأکثر ، تصدق۔۔الخ

(الدر المختار: ۹/۴۷)

وما فی ردالمحتار : ”قوله: بخلاف الجنس) أي : جنس مااستأجربه ، الخ

(ردالمحتار: ۹/۴۷)

وما فی الجوھرۃ النیرۃ : ” إذا استأجرھا۔۔۔الخ

الجوھرۃ النیرۃ : ۳/۱۰)

و،ا فی النتف: ”والاجارۃ لاتجوز۔۔۔الخ

(النتف فی الفتاوی : ۳۳۹، وکذا فی فتاوی دارالعلوم زکریا : ۵/۶۲۹)

واللہ سبحانه وتعالیٰ أعلم

عبدالوحید

دارالافتاء  آس اکیڈمی لاہور

۴/۴/۱۴۴۰ھ

پی ڈی ایف فائل وعربی حوالہ جات کےلیے لنک پرکلک کریں:۔

shorturl.at/gjnBKhttp://shorturl.at/gjnBK

اپنا تبصرہ بھیجیں