لڑکا لڑکی کا نکاح کے بعد رخصتی سے پہلے ملنا

فتویٰ نمبر:660

سوال:السلام و علیکم اگر کسی لڑکی کا نکاح ہوجائے اور رخصتی میں دو سال تک کا ٹائم ہو اب لڑکا یہاں ہو اور جب باہر چلا جائے تو یہ دونوں کس حد تک مل سکتے ہیں اور کیا ان دونوں صورتوں میں لڑکی لڑکے کے گھر جاسکتی ہے رہنمائی فرمائے۔

شاہین کراچی سے

الجواب باسم مہلم الصواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

سب سے پہلے یہ بات واضح رہے کہ نکاح کےبعد رخصتی میں بلاعذر تاخیر کرنا مناسب نہیں،البتہ کسی مجبوری کے تحت مناسب مدت تک تاخیر کرنا جائز ہےمثلا: لڑکی کم عمر ہے، ازدواجی تعلقات اور ذمہ داریوں کی متحمل نہیں ہوسکتی تو اس عمر میں پہنچنے تک رخصت کی تاخیر کی اجازت ہے، لیکن آج کل نکاح کے بعد بغیر کسی ضرورت کےلمبے عرصے تک لڑکیوں کو بٹھانے کی قبیح رسم کا رواج ہے، جس کے مفاسد سب کے سامنے ظاھر ہیں ۔یہ بات تمھیدا عرض کی تھی اب اپنا جواب ملاحظہ کرلیں ۔

نکاح کے بعد شرعا لڑکا ،لڑکی ایک دوسرے کے لیے حلال ہو جاتے ہیں ، ان کا ملنا اور باہم تعلق رکھنا بھی جائزو مباح ہوتا ہےلیکن رخصتی سے پہلے دونوں کا میل جول اگرچہ شریعت کی رو سے جائز ہے، لیکن گھروالوں سے الگ ہوکرملنا ، معاشرتی اور سماجی طور پر ناپسندیدہ اور عرف میں باحیا خاندانوں میں لڑکا، لڑکی دونوں کے حق میں معیوب سمجھا جاتا ہے، عموما دیکھا گیا ہے کہ رخصتی سے پہلے دونوں ایک دوسرے کوجاننے، سمجھنے کے لیے ملتے ہیں اور اسی میں ایک دوسرے کی خامیوں اور کمیوں سے بھی باخبر ہوجاتے ہیں; نتیجے میں ایک دوسرے سے بےزار ہوجاتے ہیں اور یوں رشتہ جڑنے سے پہلے اجڑجاتا ہے ،اس لیے دونوں کے لیے مناسب یہی ہے کہ رخصتی سے پہلے تعلقات سے بچیں ، دعوتوں ،تقریبوں میں ملنے میں کوئی حرج نہیں اوراگر ان کے خاندان میں لڑکی کا لڑکے کے گھر جانے کا رواج ہے اور اس کو معیوب نہیں سمجھا جاتا تو اپنے والدین اور شوہر کی اجازت سے جاسکتی ہے اورشوہر کے ملک سے باہر جانے کے بعد بھی جاسکتی ہے لیکن اس کے گھر میں رات نہ گزارے تاکہ کسی فتنے کا اندیشہ نہ ہو ۔

(ھو عقد یفید ملک المتعۃ) ای حل استمتاع الرجل من امراۃ لم یمنع من نکاحھا مانع شرعی۔(رد المحتار علی الدر المختار، کتاب النکاح،ج۶ص۵۹،۶۰)

العرف ملحوظ فی الافتاء ،فھذا کلہ صریح فیما قلنا من العمل بالعرف ما لم یخالف الشریعۃ۔ ۔ ۔ الخ

(فی شرح عقود رسم المفتی۸۶،ط:عثمانیہ)

فقط ۔واللہ اعلم بالصواب

بنت عبدالباطن

۲۱جمادی الثانیہ۱۴۳۹ھ

۹مارچ۲۰۱۸ع

اپنا تبصرہ بھیجیں