سورۃ کے ساتھ تیل پر دم کرنا

فتویٰ نمبر:2093

سوال:السلام علیکم ۔ کیا ایسا کرنا درست ھے کہ ہر قسم کی بیماری سے شفا کے لیے سورہ لہب کی پہلی آیت “تبت یدا ابی لھب وتب “” گیارہ سو مرتبہ۔ اور سورہ الکوثر کی آخری آیت “انا شانئک ھو الابتر۔ ” گیارہ سو مرتبہ ۔۔ گیارہ دن تک پڑھیں اور زیتون کے تیل میں دم کردیں ۔۔۔ پھر اس تیل کو جہاں لگائیں۔ جس بیماری سے شفا کیلیے لگائیں تو اللہ کے حکم سے شفا ہوتی ہے۔

والسلام

الجواب حامداو مصليا

سورۃ ، قرآنی آیات یا اسمائے الٰہی کے ذریعے دم کرنا سنت سے ثابت ہے۔اس کا تعلق علاج کی قبیل سے ہے۔اگر تجربہ سے ا س عمل سے شفا کا حصول بحکمِ خداواندی ہو جاتا ہے تو یہ عمل جائز ہے، لیکن خاص سوال میں ذکر کردہ عمل کا ثبوت قرآن وحدیث سے ثابت نہیں۔ محض وظیفہ ہے اگر مجرب ہو تو کرنے میں حرج نہیں ۔

عن علی قال بینا رسول اللہﷺ ذات لیلۃ یصلی فوضع یدہ علی الارض فلدغتہ عقرب فناولھا رسول اللہﷺ بنعلہ فقتلھا فلما انصرف قال لعن اللہ العقرب ما تدع مصلیا ولا غیرہ او نبیا وغیرہ ثم دعا بملح و ماء فجعلہ فی اناء ثم جعل یصبہ علیٰ اصبعہ حیث لدغتہ و یمسحھا و یعوذھا بالمعوذتین۔(بزار ، مجمع : ۱۴۴/۵)

“واصاب اسماء بنت ابی بکرن الصدیق رضی اللہ عنہا ورم فی رأسہا فوضع رسول اللہ ﷺیدہ علی ذلک من فوق الثیاب فقال بسم اللہ اذہب عنہا سوء ة وفحشہ بدعوة نبیک الطیب المبارک المکین عندک بسم اللہ صنع ذلک ثلث مراة وامرہا ان تقول ذلک فقالت ثلثة فذہب الورم “…(قطب الارشاد:٤٥٠)

و اللہ سبحانہ اعلم

قمری تاریخ:19 ربیع الثانی 1440ھ

عیسوی تاریخ:26 دسمبر 2018ء

تصحیح وتصویب:مفتی انس عبد الرحیم

ہمارا فیس بک پیج دیکھیے. 

فیس بک:

https://m.facebook.com/suffah1/

ہمارا ٹوئیٹر اکاؤنٹ جوائن کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں. 

ٹوئیٹراکاؤنٹ لنک

https://twitter.com/SUFFAHPK

ہماری ویب سائٹ سے وابستہ رہنے کے لیے کلک کریں:

www.suffahpk.com

ہمارے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں:

https://www.youtube.com/channel/UCMq4IbrYcyjwOMAdIJu2g6A

اپنا تبصرہ بھیجیں