بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔

فتویٰ نمبر:4062

سوال: محترم جناب مفتیان کرام! 

اگر کسی کے گھر میں کھٹمل ہوجاٸیں اور وہ یہ بولے کہ پتا نہیں کس کے ساتھ لگ کہ آگئے یا یہ بولے کہ فلاں کے گھر سے سامان آتا رہتا ہے شاید سامان کے ساتھ لگ کر آگۓ ہیں تو یہ کہنا غلط ہے کیا؟

والسلام

الجواب حامداو مصليا

محض گمان کی بنا پر کسی متعین شخص کے حوالے سے ایسا سوچنا بد گمانی میں شمار ہوگا، جس سے اجتناب کرنے کی تاکید اللہ تعالی نے بیان فرماٸی ہے سورہ حجرات میں:

” یا ایھا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم۔“

( الحجرات: ١١ )

ترجمہ: اے ایمان والوں بدگمانی سے بچو یقیناً بعض گمان گناہ ہوتےہیں۔

اسی طرح حدیث مبارکہ میں بھی بد گمانی سے اجتناب کرنے کی تاکید آٸی ہے:

” ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث۔“

( صحیح البخاری: ٦٠٦٤)

ترجمہ: بدگمانی سے بچو بے شک بدگمانی جھوٹی ترین بات ہے۔“

البتہ اگر کسی شخص کی تعیین کے بغیر محض خیال آۓ کہ پتا نہیں یہ کس طرح گھر میں آگۓ تو اس میں کوٸی حرج نہیں۔

فقط۔

و اللہ سبحانہ اعلم

قمری تاریخ: ٦۔٨۔١٤٤٠ھ

عیسوی تاریخ: ٢٠١٩۔٤۔١١

تصحیح وتصویب:مفتی انس عبد الرحیم

ہمارا فیس بک پیج دیکھیے. 

فیس بک:

https://m.facebook.com/suffah1/

ہمارا ٹوئیٹر اکاؤنٹ جوائن کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں. 

ٹوئیٹراکاؤنٹ لنک

https://twitter.com/SUFFAHPK

ہماری ویب سائٹ سے وابستہ رہنے کے لیے کلک کریں:

www.suffahpk.com

ہمارے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں:

https://www.youtube.com/channel/UCMq4IbrYcyjwOMAdIJu2g6A

اپنا تبصرہ بھیجیں