کیاکرونا کی تشخیص کےلیے ٹیسٹ کرنےسے روزہ  ٹوٹ جاتاہے؟

 سوال: کیاکرونا کی تشخیص کےلیے ٹیسٹ کرنےسے روزہ  ٹوٹ جاتاہے؟

اس ٹیسٹ کا طریقہ یہ ہے کہ ایک لکڑی یا پلاسٹک کی ڈنڈی (swab stick) کےآخر میں روئی (cotton)  ناک  کے اندرونی حصے (nasopharynx) یعنی جہاں ناک اور حلق ملتےہیں،اس جگہ تک پہنچاکر رطوبت (secretions)باہر نکال لی جاتی ہے، اس کو لیبارٹری  میں چیک کیاجاتاہے ۔ دوسری  جگہ جہاں یہ اسٹک پھیری  جاسکتی ہےوہ حلق (Oropahrynx)ہے یعنی منہ کھول کر کاٹن ٹانسل کےعلاقے میں حلق سے مس کیاجائے (دونوں میں سے ایک جگہ ) ۔

اس اسٹک یاکاٹن پر کوئی محلول (liquid) یادوسری چیز نہیں  لگی ہوتی ۔ یہ جسم کے اندر چند سیکنڈ تک ہی رہتا ہے اور واپس نکال لیاجاتاہے ۔ نیز اس ڈنڈی  پر لگی ہوئی روئی مصنوعی (synthetic) ہوتی ہے جواس قدر  ٹھوس (compact)  ہوتی ہے جس کے ذرے نکلنے یا حلق میں جانے کا امکان نہ ہونے کےبرابرہے ۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب حامداومصلیاً

صورت مسئولہ میں کوورونا وائرس   (Covid-9) کی بیماری  کی تشخیص کےلیے مخصوص ٹیسٹ کےدوطریقے  ذکرکیے گئےہیں:

  • خشک ڈنڈی (Swab stick)  جس پر روئی کا  پھویا (Cotton Ball)  لگا ہوتا ہے ، ناک سے داخل کرکےحلق اور منہ کےسنگم (Nasopharynx) پررطوبت  لینے کے لیے لگاتے ہیں  اور کچھ سیکنڈ  رکھ کر باہر نکال لیتے  ہیں،اس ٹیسٹ کو (Nasopharyngeal Swab Test) کہاجاتاہے ۔
  • خشک ڈنڈی (Swab stick)  جس پر روئی کا پھویا(Cotton Ball) لگاہوتاہے، منہ سے داخل کرکےحلق  کی آخری  دیوار (Oropharynx)تک پہنچاتےہیں اورچند سیکنڈ رکھ کر رطوبت  حاصل کرکے باہر  نکال لیتے ہیں، اس ٹیسٹ کو (Oropharyngeal Swab Test)  کہاجاتاہے ۔

واضح رہے کہ فقہاء کرام رحمہ اللہ علیہم  نے روزہ ٹوٹنے کا معیار  یہ بیان  فرمایا ہے کہ اگر کوئی چیز منفِذ معتبر  (Deemed passageways) (جیسے :منہ اور ناک)  سے قصداً داخل کی جائے اور وہ چیز جوفِ معتبر  (Deemed passageways)(جیسے:پیٹ )  میں داخل ہونےکےبعد  ٹھہر بھی جائے توروزہ ٹوٹ جائے گا۔

 مذکورہ  بالاٹیسٹ کے دونوں  طریقوں میں خشک ڈنڈی  (Swab stick)ناک اور منہ میں داخل کرنےکےبعد اوپری سطح  پر ہی کچھ سیکنڈ رکھ کر رطوبت  حاصل کرکے باہر  نکال لی جاتی ہےا ور عام طور سے اس روئی کے ذرات  نکلنے یا اندرجانے  کا امکان نہیں ہوتا، لہذا اس ٹیسٹ  سے روزہ نہیں ٹوٹتا، البتہ  اگر کبھی بے احتیاطی  یا کسی خرابی  کی وجہ سے روئی  کاپھویا یااس کا کوئی حصہ پیٹ  میں اترجائے  توروزہ توٹ جائے گا، لیکن اس وجہ سے صرف قضالازم ہوگی، کفارہ لازم نہیں ہوگا، کیونکہ پھویا ”غذا یادواء“کےقبیل سے نہیں ہے ۔

حاشیة ابن عابدین (ردالمحتار(۱/۱۴۹):

والحاصل  أن الصوم یبطل بالدخول، والوضوء  بالخروج ،فإذا أدخل  عوداجافاولم یغیبه لایفسد الصوم لأنه لیس بداخل من کل وجه ومثله الأصبع ، وأن  غیب العود فسد لتحقق الدخول ،وکذا لوکانلوکان ھوأولأصبع مبتلا لاستقرار۔۔الخ

البحر الرائق، دارالکتب  الاسلامی(۲/۳۰۰)

بدائع الصنائع، دارالکتب العلمیة (۲/۹۳)

ضابط المفطرات(ص۲۱۴)

واللہ اعلم بالصواب

محمد فائق (اسلام آبادی)  غفرلہ ولوادیہ

رکن  اخلاص شریعہ  میڈیکل ایڈوائزری

(خریج جامعہ دارالعلوم کراچی)

۲/رمضان/۱۴۴۱ھ

26/اپریل /2020ء

الجواب صحیح

محمد عقیل منیر

مفتی دارالافتاء الاخلاص کراچی

۲/رمضان/۱۴۴۱ھ

26/اپریل /2020ء

محمد وصی فصیح بٹ

۲/رمضان/۱۴۴۱ھ

26/اپریل /2020ء

محمد عمیرظفر

رفیق دارالافتاء  والاخلاص کراچی

۲/رمضان/۱۴۴۱ھ

26/اپریل /2020ء

پی ڈی ایف فائل کےلیے نیچےلنک پرکلک کریں :

سوال و جواب روزہ کی حالت میں کورونا وائرس کا خاص ٹیسٹ کروانے کا حکمfinal

اپنا تبصرہ بھیجیں