ایصال ثواب کےلیےمختص رقم میں خیانت کرنا

فتویٰ نمبر:994

ایک شخص نے اپنے مرحوم والد کے ایصال ثواب کے لیے کچھ رقم ایک ادارہ کو دی کہ اس سے کنواں کھود لیا جائے، اس نیت سے کہ مرحوم کے لیے صدقہ جاریہ ہوجائے لیکن ادارہ والوں نے اس پیسوں کو کسی ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنے میں استعمال کرلیا۔

اب اس شخص کا سوال ہے کہ مجھے صدقہ جاریہ والا ثواب ملے گا؟ یا مجھے دوبارہ سے کوئی کام کرنا ہوگا جس سے والد مرحوم کو ثواب ملتا رہے؟

نازیہ

الجواب حامدة و مصلیة

ادارے والوں کی ذمہ داری تو یہی تھی کہ وہ اس رقم کو اسی طرح خرچ کرتے جیسا کہ اس شخص نے کہا تھا کیونکہ ادارے والے وکیل ہونے کی حیثیت سے امین ہیں اور امانت میں کسی قسم کا تصرف نہیں کیا جاتا۔بہرحال اس شخص کو اپنے عمل کا ثواب مل گیا اور اب اور کوئی کام اس کے متبادل کرنے کی ضرورت نہیں۔

”انما الاعمال بالنیات۔“(البخاری)

ترجمہ:تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

بنت شاھد 

دارالافتاء صفہ اسلامک ریسرچ سینٹر،

١٤رجب،١٤٣٩ھ

١اپریل،٢٠١٨ء

اپنا تبصرہ بھیجیں