حیض کی عادت کا بدلنا

فتویٰ نمبر:813

سوال: محترم جناب مفتیان کرام! 

اسلام علیکم

اگر کسی عورت کو شروع میں 8 دن میں پاک ہونے کی عادت ہو لیکن کچھ عرصے سے یہ عادت کم ہو کر 7 دن پھر 6 دن اور اس بار پانچویں دن محسوس ہورہا ہو کہ وہ پاک ہو گئی ہے تو کیا غسل کرکے نماز شروع کرسکتے ہیں نیز ہمبستری بھی کرسکتے ہیں یا نہیں؟

والسلام

الجواب حامدۃو مصلية

اگر کسی عورت کو ( تین دن بعد) لیکن پچھلی عادت سے پہلے خون بند ہو جائے تو نماز کے لیے اس پر واجب ہے کہ مستحب وقت کے اخیر تک انتظار کرے،اگر خون آجائےتو نمازیں چھوڑے رکھے اور نہ آئے تو غسل کر کے نمازیں شروع کر دے۔مستحب وقت کے اخیر تک انتظار کرنے سے مراد یہ ہے کہ مکروہ وقت شروع ہونے سے پہلے پہلے نماز ختم ہو جائے۔

لیکن جب تک عادت کے دن پورے نہ ہو جائیں،تب تک ہم بستری کرنا درست نہیں کہ شاید خون پھر آجائے۔

لہذا مذکورہ صورت میں اگر عادت 6 دن کی ہو اور خون 5 دن پر ہی بند ہو جائے تو غسل کر کے نماز پڑھنا واجب ہے،لیکن نماز کے مستحب وقت کے اخیر تک انتظار کرنا واجب ہے،اس کے بعد غسل کر کے نمازیں شروع کر دی جائیں۔البتہ عادت تک شوہر کے پاس جانا جائز نہیں۔

قال العلامہ الحصکفی رحمہ اللہ :(وان ۔۔۔۔۔۔لاقلہ)فان لدون عادتھا لم یحل و تغتسل و تصلی احتیاطا۔

قال العلامہ ابن العابدین رحمہ اللہ (تغتسل و تصلی )ای فی آخر الوقت المستحب و تاخیرہ الیہ واجب ھنا اما فی صورة الانقطاع لتمام العادہ فانہ مستحب کما فی النھایة والبدائع وغیرھما (الشامیة1/294 ط:سعید)

(واما الوطی فلا یجوز حتی تمضی عادتھا) و ان اغتسلت ؛لان العود فی العادہ غالب فکان الاحتیاط فی الاجتناب (رسائل ابن عابدین 1/92)(الشامیة 1/294)

و اللہ سبحانہ اعلم

بقلم : بنت سبطین عفی عنھا

قمری تاریخ:14 ذوالحجہ 1439

عیسوی تاریخ:25 اگست 2018

تصحیح وتصویب:مفتی انس عبدالرحیم صاحب

ہمارا فیس بک پیج دیکھیے. 

📩فیس بک:👇

https://m.facebook.com/suffah1/

ہمارا ٹوئیٹر اکاؤنٹ جوائن کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں. 

📮ٹوئیٹراکاؤنٹ لنک👇

https://twitter.com/SUFFAHPK

ہماری ویب سائٹ سے وابستہ رہنے کے لیے کلک کریں:

www.suffahpk.com

ہمارے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں:

https://www.youtube.com/channel/UCMq4IbrYcyjwOMAdIJu2g6A

اپنا تبصرہ بھیجیں