حالت حیض میں استخارہ کرنا

اسلام عليكم باجی۔۔کیا حيض کی حالت میں استخارہ کر سکتے ھی؟ استخارہ خود کرنے کا آسان طریقہ بتا دے۔گزارش ہے اگر جواب آج ہی مل جائے

جواب:وعلیکم سلام ورحمۃ اللہ!

حیض کی حالت میں استخارہ کی دعا تو پڑھ سکتے ہیں لیکن اس کے لیے نوافل نہیں پڑھ سکتے۔

استخارہ کامسنون طریقہ:

استخارہ کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دن رات میں کسی بھی وقت بشرطیکہ وہ نفل کی ادائیگی کا مکروہ وقت نہ ہودو رکعت نفل استخارہ کی نیت سے پڑھیں،نیت یہ ہو کہ میرے سامنے یہ معاملہ یا مسئلہ ہے ، اس میں جو راستہ میرے حق میں بہتر ہو ، اللہ تعالی اس کا فیصلہ فرمادیں ۔ سلام پھیر کر نماز کے بعد استخارہ کی مسنون دعا مانگیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تلقین فرمائی ہے، استخارہ کی مسنون دعا:

” اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ أَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ ، وَ أَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ، وَ أَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ ، فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَ لاَ أَقْدِرُ، وَ تَعْلَمُ وَلاَ أَعْلَمُ ، وَ أَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ اَللّٰهُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هٰذَا الْأَمْرَ خَیْرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَ مَعَاشِیْ وَ عَاقِبَةِ أَمْرِیْ وَ عَاجِلِهٖ وَ اٰجِلِهٖ ، فَاقْدِرْهُ لِیْ ، وَ یَسِّرْهُ لِیْ ، ثُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْهِ وَ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هٰذَا الْأَمْرَ شَرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَ عَاقِبَةِ أَمْرِیْ وَ عَاجِلِهٖ وَ اٰجِلِهٖ ، فَاصْرِفْهُ عَنِّیْ وَاصْرِفْنِیْ عَنْهُ ، وَاقْدِرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ اَرْضِنِیْ بِهٖ ۔”

دعاکرتے وقت جب”هذا الامر “پر پہنچے تو اگر عربی جانتا ہے تو اس جگہ اپنی حاجت کا تذکرہ کرے یعنی ”هذا الامر “کی جگہ اپنے کام کا نام لے، مثلاً: ”هذا السفر “یا ”هذا النکاح “ یا ”هذه التجارة “یا ”هذا البیع “کہے ، اور اگر عربی نہیں جانتا تو ”هذا الأمر “کہہ کر دل میں اپنے اس کام کے بارے میں سوچے جس کے لیے استخارہ کررہا ہے ۔

استخارے کے بعد جس طرف دل مائل ہو وہ کام کرے۔ اگر ایک دفعہ میں قلبی اطمینان حاصل نہ ہو تو سات دن تک یہی عمل دہرائے، ان شاء اللہ خیر ہوگی۔استخارہ کے لیے کوئی وقت خاص نہیں، البتہ بہتر یہ ہے کہ رات میں سونے سے پہلے جب یکسوئی کا ماحول ہو تو استخارہ کرکے سوجائے، لیکن خواب آنا ضروری نہیں ہے۔ بلکہ اصل بات قلبی رجحان اور اطمینان ہے۔

(ماخوذ: دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتوی نمبر : 143908200417)

مختصر استخارہ: 

ایک دوسرا مختصر استخارہ بھی ہے جس میں نفل پڑھنے کی بھی ضرورت نہیں،حائضہ غیر حائضہ کوئی بھی پڑھ سکتی ہے۔

اس میں بھی خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند دعائیں تلقین فرمائی ہیں :

۱ :اَللّٰہُمَّ خِرْ لِیْ وَاخْتَرْ لِیْ (کنز العمال) 

ترجمہ :۔”اے اللہ ! میرے لیے آپ پسندفرمادیجیے کہ مجھے کون سا راستہ اختیار کرنا چاہیے ۔“

۲ : اَللّٰہُمَّ اہْدِنِیْ وَسَدِّدْنِیْ (صحیح مسلم) 

ترجمہ :۔”اے اللہ ! میری صحیح ہدایت فرمایا اور مجھے سیدھے راستے پر رکھیے۔“

۳ : اَللّٰہُمَ اَلْہِمْنِیْ رُشْدِیْ ( ترمذی)

ترجمہ :۔”اے اللہ ! جو صحیح راستہ ہے وہ میرے دل پر القا فرمادیجیے ۔“

ان دعاوٴں میں سے جو دعا یاد ہو اس کو اسی وقت پڑھ لے اور اگر عربی میں دعایاد نہ آئے تو اردو ہی میں دعا کر لے کہ اے اللہ !مجھے یہ کشمکش پیش آئی ہے ،آپ مجھے صحیح راستہ دکھا دیجیے اگر زبان سے نہ کہہ سکو تو دل ہی دل میں اللہ تعالی سے کہہ دو کہ یا اللہ ! یہ مشکل اور یہ پریشانی پیش آگئی ہے آپ صحیح راستے پر ڈال دیجیے جو راستہ آپ کی رضا کے مطابق ہو اور جس میں میرے لیے خیر ہو۔

فقط واللہ اعلم

اپنا تبصرہ بھیجیں