اسلامی تجارت کی بنیادیں

محمد انس عبدالرحیم

فروخت کی جانے والی چیز ( جس کو عربی میں “مبیع ” اور انگریزی میں “”sold goods ” کہتے ہیں

میں ذیل   کی سات باتوں  میں سے کوئی  ایک بات پائی  جائے  تو وہ معاملہ  شریعت کی اصطلاح  میں “بیع باطل  “کہلاتا ہے ۔یعنی   کا لعدم  معاملہ” گویا سرے سے  وہ معاملہ  ہوا ہی نہیں ۔

بیع  باطل کا شرعی حکم  یہ ہے کہ خریدار اس چیز  کا مالک  نہیں بنتا اور فروخت  کرنے والا  اس کی قیمت  کا مالک نہیں  بنتا۔اس لیے فریقین   کے لیے اپنے قبضہ میں آئی ہوئی   چیز میں تصرف   کرنے  (کھانے  پینے ،استعمال کرنے،بیچنے  وغیرہ)  کی اجازت نہیں۔بلکہ   دونوں  پر واجب   ہے کہ وہ اس معاملہ کوختم    کردیں ۔ ورنہ سخت گناہ  گار ہوں گے ۔اگر انہوں نے   یہ معاملہ ختم  نہ کیا بلکہ آگے  کسی کو وہ چیز ہدیہ   کردی یا فروخت   توا نہوں نے  اپنا مال  نہیں دیا بلکہ دوسرے کا مال دیا۔لہذا اگر دوسرے شخص  کو اس چیز کی حقیقت  کا علم ہوجائے  تو اس کے لیے  بھی اس کا لینا  جائز نہیں۔بلکہ اصل   مالک کو واپس کرنا ضروری  ہے۔لیکن اگر  اس دوسرے شخص کو اس چیز کی حقیقت  معلوم نہ ہو تو اگرچہ  فروخت   کرنے والے  کے لیے اس کا بیچنا    گناہ اور  ناجائز ہے  ۔مگر خرید نے والے  کے لیے اس کا لینا جائز ہے ۔اس صورت  میں اگر خریدار  کو چیز  خود لینے   کے بعد حقیقت  کا علم ہوجائے  تو اس معاملہ   کو ختم  کر کے   چیز اصل  مالک کو لوٹانا ضروری ہے  ۔

وہ سات باتیں یہ ہیں:

1۔چیز شرعا   نجاست ہو :

اس اصل  کے تحت  ان چیزوں  کی خرید وفروخت  باطل اور  کالعدم ہے :

خون اور اس سے بنی ہوئی اشیاء

سور اور  سور کے اجزا سے بنی ہوئی اشیاء

طبعی موت  مرنے والے چرند پرند

شراب

وہ نجاستیں   جن سے کوئی فائدہ   نہیں اٹھایا  جاتا ۔ (دیکھئے وضاحت  نمبر 1 اور 2 )

(2)چیز شرعا مال  نہ ہو :

اس اصؤل  کے تحت  ان چیزوں  کی خرید وفروخت درست نہیں ۔

*نمبر ایک میں  بیان کردہ صورتیں

*بے فائدہ  چیزیں   ،مثلا   : بے فائدہ  کیڑے

*انسان

*میراث

*شفعہ

*قصاص

*  ملازمت

*دکانوں   اور مکانوں   کی پگڑی

*رسید پلٹوائی

کیونکہ یہ سب  چیزیں  فقہ  حنفی   کی رو سے  مال کی تعریف   میں نہیں   آتیں ۔ (دیکھئے :وضاحت  نمبر 3)

(3)چیز سے نفع اٹھانے  کو اسلام  نے حرام  قراردیا  ہو:

اس اصول کے تحت   ان چیزوں  کی خرید وفروخت  جائز نہیں:

*نمبر 1 میں مذکور سب صورتیں

*انسانی  اجزاواعضا

*انسانی دودھ

*خون

*وہ آلات  گناہ  جو صرف  گناہ کے  لیے استعمال  ہوں ،جائز استعمال   نہ ہوتا ہو،

*مجسمہ اور بت   اپنی اصلی  حالت  میں۔

*مردار   اور حرام   جانوروں  کی وہ کھال  جسے  دباغت   نہ دی گئی  ہو،

حرام  گوشت  اور حرام  اشیاء   خوردونوش

4۔چیز  غیر موجود  ہو ی ااس کا وجود مشکوک   اور مشتبہ ہو :

*جانوروں  کے حمل

*تعمیر سے قبل   عمارت  کی باقاعدہ   خرید وفروخت

*انڈوں   میں موجود   ممکنہ   چوزے

*سیپوں میں موجود  ممکنہ موتی

*پھل  نکلنے   سے پہلے   ان کی خرید وفروخت

(دیکھئے  وضاحت  نمبر  4)

(5)چیز  ملکیت  میں آنے   کے قابل  ہی نہ ہو :

*ہوا  اور سورج  کی شعاعیں

* روشنی

*بغیر  کٹی گھاس

*ذاتی  تالاب   اور برتن  میں ذخیرہ   کئے بغیر ،دریا ،نہر  کا پانی

* شکار  کیے  بغیر   آزاد  چربد پرند  کی خریدوفروخت

6۔چیز  فروخت کرنے والے  کی ملکیت   نہ ہو :

غصب   کی ہوئی اشیاء

*چوری   کی ہوئی اشیاء

*دوسرے  کی مملوکہ   چیز کی بلااجازت  خرید وفروخت

*مالک کی رضامندی  کے بغیر  مثلاً:  جبری  رشوت ،جبری  سود ،راہ  زنی ،بھتہ  سے حاصل  کردہ اموال   کی خرید  وفروخت

7۔چیز  خریدار کے حوالہ  کرنے  پر قدرت  نہ ہو :

اس اصول  کے تحت   ان چیزوں  کی  خرید  وفروخت  درست نہیں :

*شخصی   تالاب  میں مچھلیاں  جمع کیے  بغیر،ان کی خرید وفروخت

*حمل کی خرید وفروخت

واقف  کی اجازت  کے بغیر  وقف  چیز کی خرید وفروخت

*غصب  شدہ  یا چوری  شدہ  اشیاء   کی خرید وفروخت

*اپنے مملوکہ  ان پرندوں کی خرید وفروخت جواڑگئے ہوں ۔

(وضاحتیں )

1۔حرام   اور نجس   چیز کے اوصاف  (رنگ بو مزہ ) اور شکل    از خود  یا کسی   کیمیاوی  عمل کے   نتیجے  میں تبدیل  ہوجائے  تو “حقیقت  بدل   جانے ” کی وجہ سے اس سے فائدہ اٹھانا شرعا جائز ہے۔

2۔ خون کا  عطیہ  دینا جائز ہے ،اس کی خرید  فروخت  جائز نہیں،البتہ   اگر  کسی مریض  کو خون  کی اتنی  شدید   ضرورت   ہو کہ اس کے بغیر  اس کی ہلاکت   کا خطرہ  ہو اور بلا قیمت   خون  نہ مل رہا  ہو تو ایسی  مجبوری  میں خون  قیمتا خریدنا جائز ہے ۔ مگر خون   دینے والے  کے لیے  اس کی قیمت  حلال  نہیں ۔

3۔فقہ حنفی  میں حق ملازمت  اور پگڑی  پر مکانوں ،دکانوں  کی خرید  وفروخت  جائز نہیں لیکن  ان حقوق ست دستبرداری  اور صلح  کے طور  پر عوض   لینا جائز ہے ۔(مزید تفصیلات  کے لیے  دیکھئے  :فقہی  مقالات  ،جلد اول  حقوق مجردہ کی خرید  وفروخت  )

4۔ فلیٹ ،دکان  وغیرہ  بننے  سے قبل  ان کی  بکنگ  کرانا  وقد  استصناع  ہے جو عقد استنصاع کی شرائط  کے ساتھ  جائز ہے ۔

 

 

 

اپنا تبصرہ بھیجیں