مہر شرعی 

فتویٰ نمبر:2021

سوال: السلام علیکم!

محترم جناب مفتیان کرام!

مہر شرعى كيا ہے؟ اور آج كل كتنى رقم بنے گى؟

والسلام

الجواب حامداو مصليا

شریعت مطہرہ میں اکثر مہر کی کوئی حد متعین نہیں ہے۔ کم از کم مہر کی حد متعین ہے اور وہ دس درھم یا اسكى قیمت ہے اور یہی مہر شرعی کہلاتا ہے۔ اس سے کم مہر کا کوئی اعتبار نہیں۔ دس درھم کا وزن ساڑھے اکتیس ماشہ چاندی اور تولہ کے حساب سے دو تولہ ساڑھے سات ماشہ چاندی ہے اور گرام کے حساب سے تیس گرام چاندی ہوتی ہے۔ جہاں تک اس کے ریٹ کی بات ہے تو وہ گھٹتا بڑھتا رہتا ہے اس لیے جس دن نکاح ہورہا ہو اس دن صرافہ بازار سے ریٹ معلوم کرکے طے کرلیں۔

(1) قال العلامۃ الحصکفی: المھر اقلہ عشرۃ دراھم لحدیث البیہقی وغیرہ لا مھر اقل من عشرۃ دراھم… فضۃ وزن سبعة مثاقیل کما فی الزکاۃ… وتجب العشرۃ ان سماها او دونها ویجب الاکثر منها ان سمی الاکثر.

(الدرالمختار علی ہامش ردالمحتار جلد ٢/ ٢٥٧)

(2) باب المھر (و اقلہ عشرۃ دراھم) ای اقل المھر شرعاً للحدیث لا مھر اقل من عشرۃ دراھم الخ و مراد المصنف ان اقلہ عشرۃ او ما یقوم مقامھما بالقیمة.

(البحر الرائق جلد ٣/ ٣٤٩)

🔸و اللہ سبحانہ اعلم

قمری تاریخ:١٨ ربيع الاول ١٤٤٠

عیسوی تاریخ: ٢٨ نومبر ٢٠١٨

تصحیح وتصویب: مفتی انس عبدالرحیم

ہمارا فیس بک پیج دیکھیے. 

فیس بک:

https://m.facebook.com/suffah1/

ہمارا ٹوئیٹر اکاؤنٹ جوائن کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں. 

ٹوئیٹراکاؤنٹ لنک

https://twitter.com/SUFFAHPK

ہماری ویب سائٹ سے وابستہ رہنے کے لیے کلک کریں:

www.suffahpk.com

ہمارے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں:

https://www.youtube.com/channel/UCMq4IbrYcyjwOMAdIJu2g6A

اپنا تبصرہ بھیجیں