سودی قرض لیکر کاروبار کا حکم

فتویٰ نمبر:526

سوال:مفتی  صاحب زيد بكر سے سودی قرض ليتا ہے  ايك لاكھ قرض بچاس ہزار  سوداس پيسے سے زيد نے كاروبار كيا اسکو پچاس ہزاركا نفع هوا

سوال یہ ہے  کہ زيد بكر كو قرض سود سميت ادا كرنے کے بقيه پچاس ہزارجو اس كو نفع ہوا  اسكا كيا كيا جائےحلال ہے  یا حرام ؟

جواب:سود ی قرضہ لینااسلام میں ناجائز و حرام ہے اور سودی معاملات کرنے والےکو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ کرنے والا کہا گیا ہے،لہذا جس قدر جلد ممکن ہو اس سودی معاملہ کو فی الفور ختم کیا جائے اور دنیاوی نقصان کے بجائے اخروی نقصان کو سامنے رکھا جائے، تاہم اس رقم سے اگر حلال کاروبار کیا ہے تو اس کاروبار کی آمدنی حلال ہوگی کیونکہ قرض کی رقم میں سود کی رقم شامل نہیں ہے بلکہ سود کی رقم تو بکر کے پاس گئی ہے اور بکر کیلئے وہ رقم حرام ہوگی لیکن جو قرضہ کی رقم زید کے پاس آئی ہے اس میں سود شامل نہیں اگرچہ سودی معاملہ کا گناہ اپنی جگہ مستقل ہے


{ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (278) فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ} [البقرة : 278 ، 279]
صحيح البخاري – (1 / 128)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ قَالَ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يُبَالِي الْمَرْءُ بِمَا أَخَذَ الْمَالَ أَمِنْ حَلَالٍ أَمْ مِنْ حَرَامٍ
سنن أبى داود – (3 / 249)
3335 – حدثنا أحمد بن يونس حدثنا زهير حدثنا سماك حدثنى عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود عن أبيه قال لعن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- آكل الربا وموكله وشاهده وكاتبه.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدعاصم عصمہ اللہ تعالی
 

اپنا تبصرہ بھیجیں