سسر کا بہو کی بہن سے نکاح کرنا سسر کا بہو کی ماں سے شادی کرنا ماں اور باپ کے چچا اور ماموں سے پردہ کا حکم ؟ اخیافی ماموں سے پردہ اور نکاح کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علماء ِ کرام ان درجِ ذیل مسئلوں کے بارے میں :

۱  ایک شخص نےایک لڑکی سے شادی کی  پھر اس لڑکے کے باپ نے اس لڑکی کی بہن سے شادی کرلی تو کیا اس باپ کا اس لڑکے کی بیوی کی بہن سے شادی کرنا جائز ہے ؟ اور اگر جائز ہے تو کیا اس سے لڑکے اور اسکی بیوی کے رشتے میں کوئی فرق آئے گا ؟ حالانکہ اس لڑکے کی بیوی اسکی سوتیلی خالہ بن رہی ہے۔

 ۲  ایک لڑکے نے ایک لڑکی سے شادی کی ،پھر اس لڑکے کے باپ نے اس لڑکی کی ماں سے شادی کرلی تو کیا اس باپ کا شادی کرنا جائز ہے؟ اور اگر جائز ہے تو کیا اس صورت میں ان لڑکا ،لڑکی میں میاں بیوی کا رشتہ ہوگا ؟

برائے مہربانی اسمیں تمام اجزاء پر مفصل روشنی ڈالیں مع دلائل ،نیز اگر جواز کی کوئی صورت ہو تو وہ بھی ذکر کریں ۔

 ۳  ۔ماں کے چچا اور ماموں سے اور باپ کے چچا اور ماموں سے پردہ ہے یا نہیں ؟اگر ہے تو کیوں اور نہیں ہے تو کیوں ؟ اور ان سے نکاح جائز ہے یا نہیں ؟

۴   اخیافی ماموں سے پردہ اور نکاح کے جواز و عدمِ جواز کے متعلق بتائیے ، اور عدم ِ جواز کی صورت میں اگر کوئی اسطرح کرلے تو اسکی کیا سزا ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

 ۱   صورتِ مسؤلہ میں بہو کی بہن سے باپ کیلئے شادی کرنا جائز ہے (۱)اور اس نکاح کی وجہ سے بیٹے اور بہو کے نکاح میں کچھ فرق نہیں آئے گا۔

چنانچہ حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی صاحب ؒ اس کو جائز قرار دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :فان اخت حلیلۃ الابن لیست من المحرمات فی شیئ (امداد الاحکام ص:۲۴۹/۲)

 ۲  بیٹے کی ساس سے بھی باپ کیلئے شادی کرنا جائز ہے(۲) لہذا اس نکاح کی وجہ سے بیٹے اور اسکی بیوی کا رشتہ برقرار رہے گا۔

            چناچہ درِمختار میں ہے:

الدر المختار – (3 / 31)

وأما بنت زوجة أبيه أو ابنه فحلال

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) – (3 / 31)

قَالَ الْخَيْرُ الرَّمْلِيُّ: وَلَا تَحْرُمُ بِنْتُ زَوْجِ الْأُمِّ وَلَا أُمُّهُ وَلَا أُمُّ زَوْجَةِ الْأَبِ وَلَا بِنْتُهَا

   ۳  والدہ کے چچا اور ماموں اسیطرح والد کےچچااور ماموں محرم ہیں ان سے نکاح شرعاً جائز نہیں (۳)اور ان سے پردہ بھی نہیں ۔

  چناچہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے :

الفتاوى الهندية – (1 / 273)

(الْقِسْمُ الْأَوَّلُ الْمُحَرَّمَاتُ بِالنَّسَبِ) . وَهُنَّ الْأُمَّهَاتُ وَالْبَنَاتُ وَالْأَخَوَاتُ وَالْعَمَّاتُ وَالْخَالَاتُ….. وَأَمَّا الْعَمَّاتُ فَثَلَاثٌ عَمَّةٌ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَعَمَّةٌ لِأَبٍ وَعَمَّةٌ لِأُمٍّ وَكَذَا عَمَّاتُ أَبِيهِ وَعَمَّاتُ أَجْدَادِهِ….. وَأَمَّا الْخَالَاتُ فَخَالَتُهُ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَخَالَتُهُ لِأَبٍ وَخَالَتُهُ لِأُمٍّ وَخَالَاتُ آبَائِهِ وَأُمَّهَاتِهِ

۴   اخیافی ماموں سے نکاح کرنا ناجائز ہے(۴) اور ان سے پردہ بھی نہیں ہے

فقط

الجواب صحیح

سعید احمد

اپنا تبصرہ بھیجیں