بغیر گواہوں کے نکاح کرنا

فتویٰ نمبر:2072

سوال: محترم جناب مفتیان کرام! 

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ. عارضی نکاح کرنا کسی محدود مدت کو مقرر کرکے گھر والوں کی اجازت کے بغیر فون پر بس لڑکا لڑکی ایجاب و قبول کر لیں تو کیا یہ جائز ہے؟ اور اس طرح نکاح ہو جائے گا.؟

والسلام

الجواب حامداو مصليا

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

نکاح میں ایجاب وقبول کا گواہوں کی موجودی میں ہونا شرط ہے، نیز محدود وقت کا نکاح متعہ کہلاتا ہے نکاح نہیں لہذا صورت مسئولہ میں نکاح منعقد نہیں ہوا؛ کیونکہ اس میں گواہوں کی موجودی پائی جارہی ہے نہ یہ پائیدار اور ہمیشہ کا نکاح ہے۔

و لا ینعقد نکاح المسلمین إلا بحضور شاھدین حرین عاقلین بالغین مسلمین رجلین أو رجل و امرأتین ‘‘ ( الھدایۃ : ۲/۳۹۶ ، کتاب النکاح )

وفی الدرالمختار(۵۱/۳): ( وبطل نكاح متعة ومؤقت )

و اللہ سبحانہ اعلم

قمری تاریخ:9 ربیع الثانی1440ھ

عیسوی تاریخ:17 دسمبر2018ء

تصحیح وتصویب:مفتی انس عبد الرحیم

ہمارا فیس بک پیج دیکھیے. 

فیس بک:

https://m.facebook.com/suffah1/

ہمارا ٹوئیٹر اکاؤنٹ جوائن کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں. 

ٹوئیٹراکاؤنٹ لنک

https://twitter.com/SUFFAHPK

ہماری ویب سائٹ سے وابستہ رہنے کے لیے کلک کریں:

www.suffahpk.com

ہمارے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں:

https://www.youtube.com/channel/UCMq4IbrYcyjwOMAdIJu2g6A

اپنا تبصرہ بھیجیں