میت کو عام قبرستان سے الگ دفن کرنا

سوال:بغیر مجبوری کے عام قبرستان میں دفنانے کے بجائے مدفن خاص میں دفنانے کا کیا حکم ہے؟ جیسے اپنی جامعہ کے احاطہ میں علامہ محمد یوسف بنوری اور دیگر اکابر کو دفنایا گیا ہے یا جیسے مسجد خاتم النبیین کے احاطہ میں اساتذہ کرام مفتی شامزئی شہید اور مولانا لدھیانوی شہید کو دفنایا گیا ہے۔ رحمھم اللہ رحمة واسعة. برائے مہربانی فقہ حنفی کی کسی کتاب سے باحوالہ جواب عنایت فرمائیں۔

الجواب حامدةومصلیة:

مسلمان میت کو مسلمانوں کے عام قبرستان میں ہی دفن کرنا سنت ہے ، بغیر کسی مجبوری کے کسی خاص جگہ میں تدفین مکروہ ہے

باقی جن اکابر کا سائل نے نام لیا جن کی تدفین عام قبرستان میں نہیں ہوسکی توکچھ معروضی حالات تھے جن کی وجہ سے ان حضرات کی تدفین عام قبرستان سے الگ ہوگئی، لیکن یہ عام ضابطہ اور قاعدہ نہیں کہ اس کو حجت بنایا جاسکے۔ اصل حکم وہی ہے جو اوپر بیان ہوا۔

فتاویٰ شامی میں ہے :

ولا یدفن صغیر ولا کبیر في البیت الّذي مات فیہ فإن ذلک خاص بالأنبیاء بل ینقل إلی مقابر المسلمین اھـ ۔ ومقتضاہ انّہ لایدفن في مدفن خاص کما یفعلہ من یبنی مدرسۃ ونحوھا ویبنی لہ بقربھا مدفنا تامل۔ ( رد المحتار علی الدر المختار ، کتاب الجنائز ، (۱؍۲۳۵) ط: سعید کراچی )

البحر الرائق میں ہے :

وإن أوصٰی أن یدفن في دارہ فھو باطل إلاَّ أن یوصی أن تجعل دارہ مقبرۃ للمسلمین وفي الخلاصۃ ولو أوصٰی بأن یدفن في بیتہ لایصحّ ویدفن في مقابر المسلمین ۔ ( البحر الرائق ، باب الوصیۃ بالخدمۃ والسکنٰی والثمرۃ ، (۸؍۸۱۷ ) ط: دار المعرفۃ ، بیروت )

درر الحکام میں ہے :

ویکرہ الدفن فی الأماکن التی تُسمٰی فساقی ولا یدفن صغیر ولا کبیر فی البیت الّذی مات فیہ ، فان ذلک خاص للأنبیاء ، بل ینقل إلی مقابر المسلمین کذا فی الفتح ۔ (درر الحکام شرح غرر الأحکام ، (باب الجنائز ، کیفیۃ السیر مع الجنازۃ ، (۱؍۱۶۷ ) ط : … )

فتح القدیر میں ہے :

ولایدفن صغیر ولاکبیر في البیت الّذي کان فیہ فإن ذلک خاص بالأنبیاء بل ینقل إلی مقابر المسلمین ۔ ( فتح القدیر ، فصل في الدفن ، ( ۲؍۱۴۱) ط: دار الفکر بیروت )

فقط واللہ اعلم

اہلیہ مفتی فیصل

23جولائی 2017

28شوال1438ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں