نماز میں سر ڈھانپنے کا حکم

سوال: کیا نماز میں سر ڈھانپنا ضروری ہے اگر نہ ڈھانپا ہو تو ؟

فتویٰ نمبر:113

جواب:نماز ایک اہم فريضہ ہے اس کو ادا کرنے میں نہایت اہتمام کرنا چاہیےاور ٹوپی،پگڑی یا سر ڈھک کر نماز پڑھنی چاہیے کیونکہ مجبوری کے بغیرننگے سر نماز پڑھنا مکروہ ہے، آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کا یہی معمول تھا اور آج تک سلف صالحین کا بھی یہی طریقہ رہا ہے،البتہ اگر اتفاقاً کبھی کسی عذر کی وجہ سے ننگے سر نماز پڑھنے کی نوبت آجائے تو مجبوری کی وجہ سے گنجائش ہے،لیکن نماز میں ٹوپی،پگڑی نہ پہننے کو عادت بنالینا بُرا اور مکروہ ہے۔ 

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح – (13 / 78)
عن ابن عباس رضي الله عنهما أنه كان يلبس القلانس تحت العمائم وبغير العمائم ويلبس العمائم بغير قلانس وكان يلبس القلانس اليمانية وهن البيض المضربة ويلبس ذوات الآذان في الحرب وكان ربما نزع قلنسوته فجعلها سترة بين يديه وهو يصلي وكان من خلقه أن يسمي سلاحه ودوابه ومتاعه كذا في الجامع الصغير للسيوطي رحمه الله تعالى،
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) – (1 / 641)
(وَصَلَاتُهُ حَاسِرًا) أَيْ كَاشِفًا (رَأْسَهُ لِلتَّكَاسُلِ) وَلَا بَأْسَ بِهِ لِلتَّذَلُّلِ، وَأَمَّا لِلْإِهَانَةِ بِهَا فَكُفْرٌ وَلَوْ سَقَطَتْ قَلَنْسُوَتُهُ فَإِعَادَتُهَا أَفْضَلُ إلَّا إذَا احْتَاجَتْ لِتَكْوِيرٍ أَوْ عَمَلٍ كَثِيرٍو،
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) – (1 / 641)
(قَوْلُهُ لِلتَّكَاسُلِ) أَيْ لِأَجْلِ الْكَسَلِ، بِأَنْ اسْتَثْقَلَ تَغْطِيَتَهُ وَلَمْ يَرَهَا أَمْرًا مُهِمًّا فِي الصَّلَاةِ فَتَرَكَهَا لِذَلِكَ، وَهَذَا مَعْنَى قَوْلِهِمْ تَهَاوُنًا بِالصَّلَاةِ وَلَيْسَ مَعْنَاهُ الِاسْتِخْفَافُ بِهَا وَالِاحْتِقَارُ لِأَنَّهُ كُفْرٌ شَرْحُ الْمُنْيَةِ. قَالَ فِي الْحِلْيَةِ: وَأَصْلُ الْكَسَلِ تَرْكُ الْعَمَلِ لِعَدَمِ الْإِرَادَةِ، فَلَوْ لِعَدَمِ الْقُدْرَةِ فَهُوَ الْعَجْزُ.
ملتقى الأبحر – (1 / 186)
وكره عبثه بثوبه…إلي قوله…والصلاة معقوص الشعر وحاسر الرأس لا تذللاً…الخ
واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عاصم عصمہ اللہ تعالی
 

اپنا تبصرہ بھیجیں