قومہ میں ہاتھ باندھنےکاحکم

فتویٰ نمبر:999

آج کل اکثر لوگوں کو قومہ میں بھی ہاتھ باندھتے دیکھا ہے۔ یہ عمل ثابت ہے؟ اگر نہیں تو کیا اس سے نماز فاسد ہو جائے گی؟

جویریہ

الجواب حامدة و مصلیة

یہ عمل ثابت نہیں ہے۔حضرت علیؓ سے منقول ہے:”کان اذا قام الی الصلوة وضع یمینہ علی الشمال فلا یزال کذلک حتی یرکع۔“(رسالة اتمام الخشوع،ص٧)

اس سے معلوم ہوا کہ ہاتھ باندھنا رکوع سے پہلے تک ہوتا تھا۔یہی حنفیہ کثرھم اللہ تعالی اور جمہور سلف و خلف کا مذہب ہے کہ رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑے جاتے ہیں۔لیکن اس عمل سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔

واللہ اعلم بالصواب

بنت شاھد 

دارالافتاء،صفہ اسلامک ریسرچ سینٹر،

١٥رجب،١٤٣٩ھ

٢اپریل،٢٠١٨

اپنا تبصرہ بھیجیں