قربانی ….. چند ہدایات

مفتی صاحب نواز

qurbani

قربانی کی ابتدا:

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب دیکھا تھا کہ میں اپنے بیٹے کو ذبح کر رہا ہوں ۔ انبیاء کا خواب سچا اور وحی الٰہی ہوتا ہے، ایسی بات اﷲ تعالیٰ کی طرف سے حکم دےے جانے کے مترادف سمجھی جاتی ہے۔ ارمانوں سے مانگے اس بیٹے کو قربان کرنے کا حکم بھی اس وقت دیا گیا جب یہ بیٹا اپنے باپ کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوچکا تھا۔ پرورش کی مشقت برداشت کرنے کے بعد اب وقت تھا کہ وہ باپ کا سہارا بن کر اس کا قوتِ بازو بنتا تو اس وقت کی آزمائش کا قرآن نے یوں نقشہ کھینچا: ”فلما بلغ معہ السعی””(جب وہ لڑکا ایسی عمر کو پہنچا کہ ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ چلنے پھرنے لگا) تو اس حکم کی تکمیل میں تردد کےے بغیر تکمیلِ حکم کو حکمت کے ساتھ پورا کرنے کے لےے مشورہ کے انداز میں بیٹے سے پوچھا کہ وہ ذبح ہونے کی اذیت کو سہنے کے لےے تیار ہے یا نہیں:

”قال یٰبنی انی ارٰی فی المنام انی اذبحک فانظر ماذا تریٰ” (ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ برخوردار! میں دیکھتا ہوں کہ میں تم کو (بامرالٰہی) ذبح کر رہا ہوں سو تم سوچ لو تمہاری کیا رائے ہے)

بیٹا بھی تو خلیل اﷲ کا تھا جواب میں کہا: ” یٰابت افعل ما تؤمر ستجدنی انشاء اﷲ من الصابرین” (ابا جان جس بات کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اسے کر گزرےے ان شاء اﷲ آپ مجھ کو صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔”

چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو مکہ سے لے کر چلے اور منٰی میں جا کر ذبح کرنے کی نیت سے ایک چھری بھی ساتھ لی جب منٰی میں داخل ہونے لگے تو ان کے بیٹے کو شیطان بہکانے لگا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پتہ چلا تو اﷲ اکبر کہہ کر سات کنکریاں ماریں جس کی وجہ سے وہ زمین میں دھنس گیا۔ دونوں باپ بیٹے آگے گئے تو زمین نے شیطان کو چھوڑ دیا، کچھ دور جا کر پھر بہکانے لگا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک بار پھر سات کنکریاں ماریں وہ پھر زمین میں دھنس گیا۔ اس کے بعد دونوں باپ بیٹا رب تعالیٰ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو پیشانی کے بل لٹا دیا جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے: ”فلما اسلما و تلہ للجبین” تو اس وقت اﷲ تعالیٰ کی طرف سے نداء آئی۔ ”یا ابرہیم قد صدقت الرؤیا” اے ابراہیم! تو نے خواب سچ کر دیکھا۔پھر اﷲ تعالیٰ نے جنت سے ایک مینڈھا بھیجا جسے ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی جانب سے ذبح کردیا ” وفدیناہ بذبحٍ عظیم” ذبح تو کیا مینڈھا اور ثواب مل گیا بیٹے کی قربانی کا کیونکہ دونوں باپ بیٹے دل و جان سے اس کام کو سر انجام دینے میں سچے تھے۔ تو یہ واقعہ قربانی کی ابتداء ہے اس کے بعد سے اﷲ تبارک و تعالیٰ کی رضا کے لےے جانوروں کی قربانی کرنا عبادت میں شمار کیا گیا چنانچہ امت محمدیہ کے لےے بھی قربانی شروع کی گئی ہے۔

قربانی کی اہمیت:

قربانی کرنا دین محمدی میں ایک اہم عبادت ہے اور شعائر اسلام میں سے ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مدنی دور میں ہر سال قربانی کیا کرتے تھے لہٰذا قربانی کرنااور خون بہانا ہی مقصود ہے نہ کہ اس کے بدلے پیسے خرچ کرنا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ مسلمانوں کو قربانی کرنے کی تاکید فرماتے اس لےے جمہور اسلام کے نزدیک قربانی کرنا واجب ہے۔ قربانی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لےے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”من وجد سعۃ لان یضحی فلم یضح فلا یحضر مصلانا” یعنی جو شخص صاحب نصاب ہوتے ہوئے قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ نہ آئے۔

قربانی کی فضیلت:

عن عائشۃ رضی اﷲ عنھا ان رسول اﷲ ؐ قال ما عمل آدم من عمل یوم النحراحب الی اﷲ من اھراق الدم انہ لیاتی یوم القیٰمۃ بقرونھا و اشعارھا و اظلافھا و ان الدم لیقع من اﷲ بمکان قبل ان یقع من الارض فطیبوا بھا انفسکم (ترمذی: ج ١ ص ١٨٠) ترجمہ:حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قربانی کے دن (ذوالحجہ کی دس تاریخ کو) آدمی کا کوئی عمل اﷲ تعالیٰ کو خون بہانے(یعنی قربانی کا جانور ذبح کرنے) سے بڑھ کر محبوب نہیں ہوتا اور قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں سمیت آئے گا اور قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبولیت کا مرتبہ حاصل کر لیتا ہے۔ پس خوب جی خوش کرکے قربانی کیا کرو۔

عن ابی سعید رضی اﷲ عنہ قال قال رسول اﷲ w یا فاطمۃ قومی إِلٰی اضحیتک فاشھدیھا فان لک باول قطرۃ تقطر من دمھا ان یغفرلک ما سلف من ذنوبک قالت یارسول اﷲ ألنا خاصۃ اھل البیت او لنا و للمسلمین قال لنا و للمسلمین (الترغیب و الترہیب للمنذری ج ٢ ص ٩٩ ط: وحیدی کتب خانہ)

ترجمہ: حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے (قربانی کے وقت فرمایا) کہ اے فاطمہ کھڑی ہو، اپنی قربانی کے پاس حاضر ہوجاؤ کیونکہ اس کے خون کے پہلے قطرہ کی وجہ سے تمہارے پچھلے گناہ معاف ہوجائیں گے حضرت سیدہ فاطمۃ رضی اﷲ عنھا نے سوال کیا: یا رسول اﷲ کیا یہ فضیلت صرف ہمارے لےے یعنی اہل بیت کے لےے مخصوص ہے یا سب مسلمانوں کے لےے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ فضیلت ہمارے لےے اور تمام مسلمانوں کے لےے ہے۔

قربانی کی روح:

اﷲ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”لن ینال اﷲ لحومھا ولا دمائھا ولکن ینالہ التقوی منکم” (اﷲ کے پاس نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون لیکن اس پاس تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے) تو اس آیت قربانی کے مقصود و غرض کو بتلانا ہے کہ قربانی میں جانور کو ذبح کرنا، خون بہانا اور گوشت کھلانا کو اﷲ نہیں دیکھتا ہے بلکہ اﷲ تمہارے اخلاص اور تقویٰ کو دیکھتا ہے یہ قربانی کی شرعی صورت تو ڈھانچہ کی مانند ہے اس میں اصل روح تو اخلاص ہے لیکن یہ شرعی صورت اور ڈھانچہ بھی ضروری اس لےے کہ حکم ربانی کی تکمیل کے لےے اس کی طرف سے یہ صورت متعین کی گئی ہے۔

قربانی کس پر واجب ہوتی ہے؟

قربانی ہر مسلمان عاقل بالغ مقیم پر واجب ہوتی ہے جس کی ملکیت میں ساڑھے باون تولے چاندی یا اس کی قیمت کا مال اس کی حاجات اصلیہ سے زائد موجود ہو (جس کی مالیت آج کل 45 اور 50 ہزار کے درمیان ہے) یہ مال خواہ سونا، چاندی یا مال تجارت یا ضرورت سے زائد گھریلو سامان یا رہائشی مکان سے زائد مکان وغیرہ کی شکل میں ہو ۔ (شامی)

قربانی کے ایام:

قربانی صرف تین دن کے ساتھ خاص ہے دسویں ذوالحجہ کے دن نماز عید کے بعد سے (جہاں عید کی نماز ہوتی ہو) شروع ہوتا ہے جس میں بارہ اور تیرہ ذوالحجہ کا دن بھی شامل ہے البتہ پہلے دن قربانی کرنا افضل ہے ۔ (شامی)

قربانی کا جانور:

قربانی کے جانور کو عیب سے پاک ہونا ضروری ہے اور عمر میں بکرا بکری ایک سال کے ہونا ضروری ہے۔ بھیڑ اور دنبہ اگرچھ ماہ کے ہوں لیکن اتنے موٹے ہوں کہ دیکھنے میں سال بھر کے معلوم ہوں تو یہ بھی جائز ہے۔ گائے، بیل ، بھینس دوسال اور اونٹ پانچ سال کا ہونا ضروری ہے۔ ان عمروں سے کم کے جانور قربانی کے لےے کافی نہیں۔

قربانی میں ہماری بعض کوتاہیاں:

1۔ اونٹ، گائے کی قربانی میں ایسے شرکاء بھی شریک کر لےے جاتے ہیں جن کی ذریعہ آمدنی حرام ہوتی ہے یا گوشت خوری مقصود ہوتا ہے یا بے دین ہوتے ہیںایسے لوگوں کو شریک کرنے میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے ورنہ سب کی قربانی برباد ہوگی۔

2۔ قربانی بارگاہ الٰہی میں ھدیہ پیش کی جاتی ہے اس لےے اچھے سے اچھا جانور ہونا چاہےے مگر نمائش کے لےے نہیں ورنہ لوگوں کی زبانوں پر تو واہ واہ ہوجائے گی لیکن بارگاہ الٰہی میں جب اخلاص کی قیمت پڑے گی تو دکھلاوے والی قربانی کی قیمت ایک ٹکے کی نہیں ہوگی۔

3۔ ہمارے ہاں رواج ہے کہ گھر میں ایک قربانی کردی جاتی ہے ایک سال شوہر کے نام دوسرے سال بیوی کے نام تیسرے سال والد مرحوم کی طرف سے اور اسے سب کی طرف سے کافی سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ شوہر کے ذمے الگ قربانی واجب ہے اور بیوی کے ذمے الگ، اگر گھر کے سب افراد کی ملکیت میں نصاب کے بقدر مال ہو اور وہ عاقل، بالغ مقیم ہوں تو ہر ایک پر اپنی علیحدہ قربانی کرنا واجب ہے، اگر نہیں کرے گا تو گناہ گار ہوگا۔ اپنی طرف سے قربانی کرنے کے بعد گنجائش ہو تو اپنے مرحوم اعزہ کے طرف سے بھی قربانی کرے اور ہوسکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بھی، اس لےے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خداتعالیٰ کے بعد ہمارے سب سے بڑے محسن ہیں۔ سیدنا علی رضی اﷲ عنہ ہر سال دو قربانیاں کرتے تھے کسی نے اس کا سبب دریافت کیا تو فرمایا کہ ایک قربانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی وصیت فرمائی تھی۔

4۔ قربانی کے معاملہ میں ایک کوتاہی یہ ہوجاتی ہے کہ گھر میں گنجائش نہیں لیکن قرض لے کر قربانی کر دی جاتی ہے ویسے تو قربانی کی حیثیت نہ ہو تب بھی قربانی کردی تو اجر عظیم کا مستحق ہوگا، لیکن اگر قربانی کرنے سے حقوق واجبہ فوت ہوتے ہوں جیسے قرض ادا کرنایا لوگوں کے طعن و تشنیع سے بچنا مقصود ہو تو ایسے لوگوں کی قربانی بہتر نہیں ہوتی۔

5۔ ایک کوتاہی یہ ہوتی ہے کہ گوشت کو اندازے سے تقسیم کردیا جاتا ہے یہ بہت غلط فعل ہے تول کر برابر تقسیم کرنا چاہےے۔

6۔ ایک کوتاہی یہ ہوتی ہے کہ سارا گوشت یا خود کھا لیا جاتا ہے یا سارا گوشت احباب میں تقسیم کردیا جاتا ہے اگرچہ فتوی کے اعتبار سے سارا گوشت خود بھی کھا سکتے ہیں اور سارا احباب میں تقسیم بھی کر سکتے ہیں لیکن بہتر یہ ہے کہ گوشت کے تین حصے بنا لےے جائیں ایک حصہ گھر کے لیے ایک حصہ قریبی اعزہ و احباب میں تقسیم کرنے کے لےے اور ایک حصہ غرباء میں تقسیم کرنے کے لےے، قربانی کے دنوں میں غریب کا گوشت سے محروم رہنا بڑے حیف کی بات ہے لیکن جس کے اہل و عیال زیادہ ہوں وہ تمام گوشت خود بھی کھا سکتا ہے۔

7۔ بعض جگہوں پر یہ کوتاہی بھی دیکھنے میں آئی کہ قربانی کے جانور کا گوشت یا کھال ذبح کرنے کی اجرت میں دی گئی حالانکہ یہ جائز نہیں اس کو اجرت علیحدہ سے دینی چاہےے۔

8۔ بعض اوقات قربانی کے جانور کی کھال غیر مصرف کو دے دی جاتی ہے یا چھین لی جاتی ہے تو چرم قربانی کے بارے حکم تو یہ ہے کہ خود بھی استعمال کرسکتا ہے اور مال دار کو ھدیہ بھی کر سکتا ہے لیکن خرچ کرنے کے بعد ان کے پیسے کو صدقہ کرنا واجب ہوگا فقراء و مساکین پر تو آج کل سب سے بہتر صورت یہ ہے کہ مدارس کو دی جائے ایک تو کھال صحیح مصرف میں لگے گی دوسرا یہ کہ آپ دین کے اشاعت کا ذریعہ بن جائیں گے ہاں اگر آپ سے کھال زبردستی لی جارہی ہو تو اس وقت ھدیہ کی نیت کر لوتاکہ قربانی ضائع ہونے سے بچ جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں