شیرخوار بچے کے پیشاب کاحکم

سوال : دودھ پیتے بچے کے پیشاب کا کیا حکم ہوگا؟

الجواب باسم ملھم الصواب

شیرخوار (دودھ پیتے) بچے/بچی کا پیشاب بھی اسی طرح ناپاک ہے جس طرح بڑوں کا پیشاب ناپاک ہے یعنی ایک درہم (سوا انچ) کی مقدار سے زائد کپڑوں پر لگ جانے کی صورت میں ان کپڑوں کے ساتھ نماز پڑھنا جائز نہیں ہے، دھو کر پاک کرنا ضروری ہے۔ البتہ اس کے پاک کرنے کے طریقہ میں قدرے تخفیف(آسانی) ہے، وہ یہ ہے کہ اس کو پاک کرنے کے لیے ناپاکی والے حصہ پر اچھی طرح پانی بہا (انڈیل ) دینا کافی ہے، زیادہ مبالغہ کی ضرورت نہیں ہے۔

====================

حوالہ جات:

1.حدیث شریف میں ہے:

“عن عائشة، قالت: «أتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بصبي يرضع فبال في حجره فدعا بماء فصبه عليه».”

ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دودھ پیتا بچہ لایا گیا تو اس نے آپ ﷺکی گود میں پیشاب کر دیا ،چنانچہ آپ نے پانی منگوایا اور اس پر بہادیا۔

(صحیح مسلم، باب حكم بول الطفل الرضيع وكيفية غسله، ج: 1، صفحه: 237، رقم الحدیث: 102

2. بول الصبي الذي لم يطعم فكذلك عند جميع أهل العلم قاطبة … وعند الشافعي نجاسة خفيفة … واحتجوا في ذلك بأحاديث منها: ما رواه البخاري ومسلم واللفظ له عن عائشة – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا – قالت: «كان رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يؤتى بالصبيان فيبرك عليهم ويحنكهم، فأتي بصبي فبال عليه فدعى بماء فأتبعه بوله ولم يغسله». قلنا: لم يغسله محمول على نفي المبالغة فيه، وما ورد في الأحاديث من النضح المراد به الصب.”

(البنایة شرح الھدایة،کتاب الطهارۃ، ما يعفى عنه من النجاساتج: 1، ص: 723،)

3.فتاوی شامی میں ہے:

وبول غیرمأ کول ولو من صغیر لم یطعم (قوله: لم يطعم) بفتح الياء أي: لم يأكل فلا بد من غسله.

(کتاب الطهارۃ، باب الأنجاس، ج: 1، ص318)

4. فتاوی عالمگیری میں ہے:

“وكذلك بول الصغير والصغيرة أكلا أو لا، كذا في الاختيار شرح المختار.

یعنی یہی حکم چھوٹے بچے اور بچی کے پیشاب کا ہے کھانا کھاتے ہوں یا نہ کھاتے ہوں، ایسا ہی اختیار شرح مختار میں ہے۔

(الفتاوی الھندیۃ ،کتاب الطھارۃ ،الباب السابع فی النجاسۃ و احکامھا، الفصل الثانی فی الاعیان النجسۃ،ج:1، ص:46۔)

واللہ اعلم بالصواب

14دسمبر2021

8جمادی الاولی 1443

اپنا تبصرہ بھیجیں