کرسمس کے موقع پہ سرخ ٹوپی پہننا

فتویٰ نمبر:4030

سوال: محترم جناب مفتیان کرام! 

ہمارے آفس کے ایک عیسائی کولیگ نے تمام اسٹاف کو کرسمس کے موقعے پر لال ٹوپی پہنائی سب نے پہن لی میں نے پہننے سے انکار کردیا اس پر وہ کہنے لگا کہ اچھا ہوا میں مسلمان نہیں ۔ آیا میرا عمل درست تھا یا مجھے بھی دیگر لوگوں کی طرح پہن لینا چاہیے تھا برائے مہربانی راہ نمائی فرمائیں.

والسلام

الجواب حامدا ومصلیا

سرخ ٹوپی پہننے سے انکار کرنے پرآپ نے غیرت ایمانی کا مظاہرہ کیا ہےاور یہ طرز عمل بالکل درست تھا اس پر اجر وثواب کی امید رکھیں۔اب آپ کو اس بات کی قطعی پروا نہیں ہونی چاہیے کہ کسی کافر نے کیا کہا ہے کیونکہ کفار کی مشابہت کی ہمارے دین میں قطعاً اجازت نہیں۔ 

دیگر لوگوں کا سرخ ٹوپی پہننا یہ درست نہیں۔اگر اس سے ان لوگوں کی مراد کفار کے دین کی تعظیم ہے تو کفر کا اندیشہ ہے اور اگر صرف ان کی خوشی کی خاطر یہ عمل کیا ہے تو اس پر انہیں توبہ استغفار کرنا چاہیے۔

“عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ “

) رواه أبو داود (اللباس / 3512)

اخبرنا ابو طاھر الفقیہ، انبا ابوبکر القطان ، ثنا احمد بن یوسف السلمی ،ثنا محمد بن یوسف ، ثنا سفیان، عن ثور بن یزید ۔ عن عطاء بن دینار ، قال : قال عمر رضی اللہ عنہ : “لاتعلموا رطانۃ الاعاجم ولا تدخلوا علی المشرکین فی کنائسھم یوم عیدین فان السخطۃ تنزل علیھم ۔”

السنن الکبری للبیھقی ( 9/392) 

“رجل اشتری یوم النیروز شیئا لم یکن یشتریہ قبل ذلک ان اراج بہ تعظیم النیروز کما یعظمہ المشرکون کفر” ۔

( مجموعہ فتاوی 2/215)

و اللہ سبحانہ اعلم

قمری تاریخ:21 ربیع الثانی ۱۴۴۰ء

عیسوی تاریخ:۲۸ دسمبر ۲۰۱۸ھ

تصحیح وتصویب:مفتی انس عبد الرحیم

ہمارا فیس بک پیج دیکھیے. 

فیس بک:

https://m.facebook.com/suffah1/

ہمارا ٹوئیٹر اکاؤنٹ جوائن کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں. 

ٹوئیٹراکاؤنٹ لنک

https://twitter.com/SUFFAHPK

ہماری ویب سائٹ سے وابستہ رہنے کے لیے کلک کریں:

www.suffahpk.com

ہمارے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں:

https://www.youtube.com/channel/UCMq4IbrYcyjwOMAdIJu2g6A

اپنا تبصرہ بھیجیں