حکومتی پرمٹ کے خلاف لکڑی کی خرید و فروخت

 فتویٰ نمبر:832

سوال: محترم جناب مفتیان کرام! 

السلام علیکم!

بعض لوگ حکومتی پرمٹ کے بغیر لکڑی فروخت کرتے ہیں یہ لکڑی پرمٹ والی لکڑی سے سستی ہوتی ہے کیا یہ لکڑی خریدنا جائز ہے.

والسلام

سائل کا نام: بنت عبداللہ

⏩الجواب حامدۃو مصلية⏪

جنگلات چونکہ کسی کی ملکیت نہیں بلکہ مباح عام ہیں اور مباح عام ہونے کا اصل تقاضا تو یہ تھا کہ سب اس سے فائدہ اٹھاتے، لیکن حکومت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ان سے انتفاع کو ضوابط کا پابند بناکر یہ قاعدہ مقرر کردے کہ ہر جنگل سے اس کے قریبی لوگ فائدہ اٹھائیں ، نیز فائدہ اٹھانے کے لیے ہر شخص کو کاٹنے کی اجازت دینے کی بجائے خود اپنی نگرانی میں درخت کٹوا کر اس کی قیمت قریبی بستی کے لوگوں میں تقسیم کرے.

“قال رسول اللہ: المسلمون شرکاء فی ثلاث: فی الکلاء ,والماء والنار.”

(سنن ابی داؤد:ج۳ ,ص ۳۸۹.طبع دارالفکر,ج۲ ,ص۳۶)

“عن ابی ھریرہ ان رسول اللہ قال: ثلاث لا یمنعن الماء والکلاء والنار”

(سنن ابن ماجہ: باب المسلمون شرکاء فی ثلاث, ج۳, ص۱۰۶,طبع دارالفکر)

“اشتراک الماء والحطب والکلاء فی جواز الانتفاع بھا لانھا من المباحات فلا یختص بھا احد دون احد, فمن سبقت یدہ الی شئ من ذالک فقد ملکہ, وقال ابن بطال: اباحۃ الاحنطاب فی المباحات والختلاء من ثبات الارض متفق علیہ, حتی یقع ذلک فی ارض مملوکۃفئرتفع الاباحۃ”

(عمدۃ القاری: باب بیع الحطب والکلاء,ج۱۲, ص۲۱۷, کتاب المساقہ,ج۵, ص۶۵ مکتبہ الرشید)

لہذا پرمٹ کے بغیر جو غیرمتعلقہ لوگ یہ لکڑیاں فروخت کررہے ہیں وہ غیرقانونی کام کررہے ہیں، جائز قانون کی خلاف ورزی سخت گناہ ہے ایسے شخص سے خریداری نہیں کرنی چاہیے، عزت اور گرفتاری کا خطرہ ہے۔

🔸و اللہ سبحانہ اعلم🔸

✍بقلم : بنت یعقوب

قمری تاریخ: ۴ ذوالحجہ ۱۴۳۹

عیسوی تاریخ: ۱۶ اگست ۲۰۱۸

تصحیح وتصویب:مفتی انس عبد الرحیم

➖➖➖➖➖➖➖➖

ہمارا فیس بک پیج دیکھیے. 

📩فیس بک:👇

https://m.facebook.com/suffah1/

====================

ہمارا ٹوئیٹر اکاؤنٹ جوائن کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں. 

📮ٹوئیٹراکاؤنٹ لنک👇

https://twitter.com/SUFFAHPK

===================

ہماری ویب سائٹ سے وابستہ رہنے کے لیے کلک کریں:

www.suffahpk.com

===================

ہمارے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں:

https://www.youtube.com/channel/UCMq4IbrYcyjwOMAdIJu2g6A

اپنا تبصرہ بھیجیں