عدت والی عورت کا گھر سے نکلنا

سوال:اگر خاندان میں فوتگی ہوجائے تو عدت والی عورت میت کو دیکھنے جاسکتی ہے؟ 

فتویٰ نمبر:221

الجواب حامدة ومصلیة:

اگر خاندان میں کوئی بہت قریبی عزیز فوت ہوجائے کہ اگر نہ جائے گی تو پوری زندگی غماور افسوس رہےگا نیز خاندان والوں کی طرفسےطعنہ و تشنیع کا قوی اندیشہ ہے تو انصورتوں میں ضرورتو حاجت کی وجہ سے میت کودیکھنےکےلیےگھرسے نکلنےکی

گنجائش ہوگی,فقہاء نےبیوہ اور مطلقہ کو بوقتِ ضرورت گھر سے نکلنے کی اجازت دی ہے ۔لیکن اس کایہ مطلب نہیں کہ عورت حالت عدت میں عیادت اور بیمار پرسی کےنام پر گھوم پھر کراپنی عدت خراب کرے۔

((فتاوى دار العلوم زكريا:٤/ ٣٢٣)

“واما الخروج للضرورة فلا فرق فیہ ںینھماکما نصوا علیہ فیما یاتی۰۰۰ولا یخرجان منہ الا ان تخرج او یتھدم المنزل۰۰۰ونحو

ذلک من الضرورات الخ “(الدرالمختار مع الشامی: ۳/ ۳۵۶)

ان اضطرت الی الخروج من بیتھا۰۰۰فلا باس عند ذلک ان تنتقل”(الفتاوی الھندیة:۱/ ۵۳۵)

واللہ اعلم بالصواب 

صفہ آن لائن کورسز 

بنت محی الدین 

۲۴/۴/۱۴۳۸

23/1/17

اپنا تبصرہ بھیجیں