کیا فوت شدہ اولاد کاحصہ ہے؟

فتویٰ نمبر:1081

سوال: والد کی وفات سے پہلے جو بیٹا یا بیٹی فوت ہو جائیں, انکا میراث میں کیا حصہ ہے ؟ یا ان فوت شدہ اولاد کا حصہ ؟

سائل:روبینہ 

رہائش:ملیر سوسائٹی 

      الجواب بعون الملک الوھاب

   یہاں تین اُصول ذہن میں رکھیے: ایک یہ کہ تقسیمِ وراثت قرابت کے اُصول پر مبنی ہے، کسی وارث کے مال دار یا نادار ہونے اور قابلِ رحم ہونے یا نہ ہونے پر اس کا مدار نہیں۔دوم یہ کہ عقلاً و شرعاً وراثت میں الاقرب فالاقرب کا اُصول جاری ہوتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص میّت کے ساتھ قریب تررشتہ رکھتا ہو، اس کے موجود ہوتے ہوئے دُور کی قرابت والا وراثت کا حق دار نہیں ہوتا.سوم یہ کہ انسان وارث اس وقت بنتا ہے جب اس کے کسی مورث کا انتقال ہو، انتقال سے پہلے وراثت جاری نہیں ہوسکتی.اب جیسا آپ نے بتایا ہےکہ والد موجود ہے اور ایک بیٹا,بیٹی کاانتقال والد کی زندگی میں ہوجاتا ہے،  تو میراث میں وہ حق دار نہیں  ہوں گےاس لیے کہ میراث کا مستحق مرنے کے بعد ہوتا ہے نا کہ پہلے۔اگر یہ کہا جائے کہ اگر بیٹا  اپنے باپ کی وفات کے وقت زندہ رہتا تو اس کو اتنا حصہ ملتا، یا بیٹی کو آدھا ملتا تو اب وہی حصہ اس کی اولاد کو دِلایا جائے تو یہ اس لئے غلط ہے کہ اس صورت میں اس بیٹے, بیٹی کوجو باپ کی زندگی میں فوت ہوئے ، باپ کے مرنے سے پہلے وارث بنادیا گیا، حالانکہ عقل و شرع کے کسی قانون میں مورث کے مرنے سے پہلے وراثت جاری نہیں ہوتی۔

باقی بیٹا،بیٹی کی اولاد کا مسئلہ یہ ہے کہ بیٹی کی اولاد ذوی الارحام میں شمار ہوتی ہے اور بہت کم ہی اس کو میراث میں حصہ ملتا ہے۔البتہ اگر میت کی اور اولاد نہیں،تو بیٹے کی اولاد وارث بن سکتی ہے۔آپ تمام ورثا کی تفصیل بتا کر مسئلہ دریافت فرمائیے.

{“وَاِذَا حَضَرَ الۡقِسۡمَةَ اُولُوا الۡقُرۡبَىٰ وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنُ فَارۡزُقُوۡهُمۡ مِّنۡهُ وَقُوۡلُوۡا لَهُمۡ قَوۡلاً مَّعۡرُوۡفًا‏”} 

            (سورہ النساء:8)

“حدثنا موسى بن إسماعيل، ‏‏‏‏‏‏حدثنا وهيب، ‏‏‏‏‏‏حدثناابن طاوس، ‏‏‏‏‏‏عن ابيه، ‏‏‏‏‏‏عن ابن عباس رضي الله عنهما، ‏‏‏‏‏‏عن النبي صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ “الحقوا الفرائض باهلها، ‏‏‏‏‏‏فما بقي فهو لاولى رجل ذكر”.

        (صحیح البخاری:6732)

فقط واللہ.خیرالوارثین

بنت گل رحمان عفی عنھا 

صفہ اسلامک ریسرچ سینٹر 

3اپریل2018 ء

16رجب 1439ھ

اپنا تبصرہ بھیجیں