کیا گلاب اور چاول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینہ مبارک سے بنا ہے؟

فتویٰ نمبر:5014

سوال: چاول اور گلاب کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ زمین پر گرا تو اس سے چاول اورگلاب اٗگ آئے،کیا یہ

درست ہے؟

والسلام

الجواب حامداو مصليا

اس بارے میں کوئی اصل روایت اور صحیح حدیث تحقیق کرنے پر نہیں ملی۔یہ من گھڑت روایت ہے۔

عن أنس رضی اللہ عنه مرفوعاً لما عرج بی الی السماء بکت الارض من بعدی فنبت اللصف من مائھا فلما رجعت قطر من عرقی علی الارض فنبت ورد احمر،ألا من اراد ان یشم رائحتی فلیشم الورد الاحمر۔ قال النووی: لایصح وقال ابن حجر: موضوع وانظر المقاصد الحسنہ حدیث: ۲٦۱۔ (ب) وکشف الخفاء: ۷۹۸،التذکرہ فی الاحادیث المشتہرة : ٤۸۔

”حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا نقل کیا گیا ہے کہ حب مجھے آسمان پر لے جایا گیا تو واپسی پر میراکچھ پسینہ گر گیا تو اس سے گلاب کا پھول اگا،پس جو چاہتا ہے کہ میری خوشبو سونگھے وہ گلاب کو سونگھ لے۔“

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ روایت صحیح نہیں ہے۔ 

ابن حجر رحمہ اللہ نے اس سے موضوع کہا ہے۔

تفصیل بالا سے معلوم ہوا کہ اس سلسلہ میں کوئی صحیح حدیث وارد نہیں ہے جو کچھ منقول ہے وہ کلام سے خالی نہیں۔

و اللہ سبحانہ اعلم

قمری تاریخ:17شعبان 1440ھ

عیسوی تاریخ:23/اپریل 2019ء

تصحیح وتصویب:مفتی انس عبد الرحیم

ہمارا فیس بک پیج دیکھیے. 

فیس بک:

https://m.facebook.com/suffah1/

ہمارا ٹوئیٹر اکاؤنٹ جوائن کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں. 

ٹوئیٹراکاؤنٹ لنک

https://twitter.com/SUFFAHPK

ہماری ویب سائٹ سے وابستہ رہنے کے لیے کلک کریں:

www.suffahpk.com

ہمارے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں:

https://www.youtube.com/channel/UCMq4IbrYcyjwOMAdIJu2g6A

اپنا تبصرہ بھیجیں