نفسیاتی مریض کا اپنی دوسری بیوی کو طلاق دینا

فتویٰ نمبر:2028

سوال: محترم جناب مفتیان کرام! 

السلام علیکم ورحمة الله وبركا ته

ایک آدمی نے ذہنی بیماری (hyperactive mind) کے دوران جوش اور جذبات ميں آکر دوسری شادی کرلی- اب الحمدلله ۴ماہ سے روحانى اور نفسیاتی علاج چل رہا ہے کافی افاقہ ہے۔

اب ان کو بہت پچہتاوا ہورہا ہے اور باربار یہ کہتے ہیں کہ کیوں کسی نے مجھے نہ روکا مجھے بالکل نہیں کرنی تھی یہ شادی۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر وہ اپنی دوسری بیوی کو طلاق دیدیں(حقوق کی ادائیگی میں دقت اور بے حد مشکلات کا سامنا ہے) تو کیا گناہگار ہونگے؟(شوہر کا یہ بھی کہنا ہےکہ مجہے اب اسکی ضرورت نہیں ہے)۔

تنقیح: یہ سوال شوہر کی طرف سے پوچھا گیا ہے یا کسی غیر نے یہ سوال پوچھا ہے اس کی وضاحت کریں ۔نیز شوہر کااصل مقصد کیا ہے یہ بھی بتادیں ؟

جواب: انکی پہلی بیوی نے پوچہا ہے- شوہر مستقل ان سے یہی کہرہے ہیں کہ مجہے اب دوسری کو نہیں رکھنا اس لیےکہ شوہر کی کوٸ آمدنی کا ذريعه نہیں ہے بس جو رشتہ دار مدد کرتے ہیں اسی پر بڑی مشکل سےگذارا ہے- 

ہر وقت ڈپریشن کے شکار رہتے ہیں-

و السلام

الجواب حامدا و مصليا

وعلیکم السلام

سوال کی نزاکت کو سامنے رکھ کر بہتر یہی ہے کہ جن کے ساتھ یہ مسئلہ ہے وہ خود ہی کسی مفتی صاحب سے بالمشافہہ ملاقات کرکے صورت حال بتاکر ان سے مسئلہ پوچھے۔

فقط ۔ و اللہ اعلم 

قمری تاریخ: ۲۸ ربیع الاول١٤٤٠ھ

عیسوی تاریخ: ۸ دسمبر ٢٠١٨

تصحیح وتصویب:مفتی انس عبد الرحیم

ہمارا فیس بک پیج دیکھیے. 

فیس بک:

https://m.facebook.com/suffah1/

ہمارا ٹوئیٹر اکاؤنٹ جوائن کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں. 

ٹوئیٹراکاؤنٹ لنک

https://twitter.com/SUFFAHPK

ہماری ویب سائٹ سے وابستہ رہنے کے لیے کلک کریں:

www.suffahpk.com

ہمارے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں:

https://www.youtube.com/channel/UCMq4IbrYcyjwOMAdIJu2g6A

اپنا تبصرہ بھیجیں