سوسائٹی کا قسطوں پر پلاٹنگ کرنا

سوال: سوسائٹی ہزاروں کنال پر مشتمل رقبہ خرید کر پلاٹنگ کرتی ہے،اس میں نقشے بنا کر ڈاؤن پیمنٹ پر ماہانہ اقساط کے ساتھ فروخت کرتی ہے،اور ڈاؤن پیمنٹ ادا کرنے کے ساتھ ہی فائل یا رسید خریدار کو دے دیتی ہے اور مکمل رقم کی ادائی کی مدت متعین کر دیتی ہے مثلاً چار،پانچ سال ۔ خریدار جب ڈاؤن پیمنٹ ادا کرتا ہے ،اس وقت اسے اپنا پلاٹ معلوم نہیں ہوتا کہ کہاں ہے یا پلاٹ کا کیا نمبر ہے؟بیلٹنگ میں 60٪ اماونٹ ادا کرنے کے بعد پلاٹ متعین ہوتا ہے اور جب ساری قسطیں مکمل ہو جائیں اس وقت ملکیت حاصل ہوتی ہے،خریدار نیٹ پر اقساط چیک کر سکتا ہے کہ کتنی اماونٹ جمع ہو چکی ۔
پوچھنا یہ ہے کہ کیا ان سب شرائط کے ساتھ یہ پلاٹنگ جائز ہے؟
الجواب باسم ملھم الصواب
واضح رہے کہ جب تک پلاٹ متعین نہ ہو،اس وقت تک اس کی خرید و فروخت جائز نہیں ہوتی؛ تاہم خریدنے کا وعدہ کرنا درست ہوتا ہے؛ لہذا صورتِ مسئولہ میں ڈاؤن پیمنٹ دیتے وقت اگر خریداری نہیں ہوتی،بلکہ خریدنے کا وعدہ ہوتا ہے اور جب60 فیصد ادائیگی ہوجائے اور پلاٹ متعین ہوجائے ،اس وقت خرید وفروخت کا حتمی معاملہ ہوتا ہے ،شرعا اس وعدہ بیع کی اجازت ہوگی؛ تاہم جب تک خریدار پلاٹ متعین کر کے اسے حتمی طور پر خرید نہ لے،اس وقت تک اسے مزید آگے بیچنا جائز نہیں ہوگا۔
===========================
حوالہ جات
1…عن عبد الله بن عمرو رضی اللّٰہ عنہ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:” لا يحل سلف وبيع، ولا شرطان في بيع، ولا ربح ما لم تضمن، ولا بيع ما ليس عندك”. (سنن ابی داؤد:رقم الحدیث:3504)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ادھار اور بیع ایک ساتھ جائز نہیں اور نہ ہی ایک بیع میں دو شرطیں درست ہیں اور نہ اس چیز کا نفع لینا درست ہے، جس کا وہ ابھی ضامن نہ ہوا ہو، اور نہ اس چیز کی بیع درست ہے جو سرے سے تمہارے پاس ہو ہی نہیں “ (کیونکہ چیز کے سامنے آنے کے بعد اختلاف اور جھگڑا پیدا ہو سکتا ہے)۔
2…”ووجه كون الموضع مجهولا أنه لم يبين أنه من مقدم الدار، أو من مؤخرها، وجوانبها تتفاوت قيمة فكان المعقود عليه مجهولا جهالة مفضية إلى النزاع، فيفسد كبيع بيت من بيوت الدار كذا في الكافي”. (ردالمحتار على الدرالمختار:454/4)
3…”ومنها ‌أن ‌يكون ‌المبيع ‌معلوما والثمن معلوما علما يمنع من المنازعة فبيع المجهول جهالة تفضي إليها غير صحيح كبيع شاة من هذا القطيع وبيع شيء بقيمته وبحكم فلان. ومنھا فی المبیع وھو ان یکون موجودًا فلاینعقد بیع المعدوم وماله خطر العدم. (فتاوى هندية:3/3)
واللّٰہ اعلم بالصواب
18جمادی الأولی 1444ھ
13 دسمبر 2022ء

اپنا تبصرہ بھیجیں