وضوکرتے ہوئے کوئی عضو بھول جانا

سوال: وضو اور غسل میں کلی کرنا بھول جائیں تو کیا وضو اور غسل ادا ہو جائیں گے؟

جواب: واضح رہے کہ وضو میں کلی کرناسنت مؤکدہ ہے اور فرض غسل میں فرض ہے۔ لہذا اگر کوئی شخص وضو میں کلی کرنا بھول جائے تو وضو تو ہوجائے گا، لیکن سنت كا ثواب جاتا رہے گا۔اس وضو سے نماز ، تلاوت اور دیگر عبادات سر انجام دی جاسکتی ہیں،البتہ اگر کلی کرنے کو چھوڑنے کی عادت بنالی تو پھر گناہ گار ہوگا۔

جبکہ دوسری طرف فرض غسل (غسلِ جنابت ،حیض ،نفاس)میں کلی کرنا اور ناک کی نرم ہڈی تک پانی پہنچانا فرض ہے،لہذا اس کے بغیر غسل نہ ہوگا۔

یہ بھی واضح رہے کہ اگر کوئی فرض غسل میں کلی کرنا یا ناک میں پانی ڈالنا بھول جائے تو یاد آنے پر صرف کلی اور ناک میں پانی ڈالنا کافی ہوگا ،دوبارہ مکمل غسل کرنے کی ضرورت نہیں۔

====================

حوالہ جات :

1۔۔۔۔و غسل الفم أي : استيعابه، ولذا عبر بالغسل و للاختصار بمياه ثلاثة والانف ببلوغ الماء المارن بمياه وهما سنتان مؤكدتان مشتملتان علي سنن خمس: الترتيب والتثليث و تجديد الماء وفعلهما باليمني والمبالغة فيهما بالغرغرة.

(رد المحتار علي الدر المختار: 1/253)

2۔۔۔۔۔فلو تركهما أثم علي الصحيح. قال في الحلية: لعله محمول علي ما اذا جعل الترك عادة له من غير عذر كما قالوا مثله في ترك التثليث.

(حاشية رد المحتار علي الدر المختار: 1/253)

3۔۔۔۔۔في(شرح الزاهدي عن الشفاء) : المضمضة والاستنشاق سنتان مؤكدتان، من تركهما ياثم….. كذا في الحلية: أي لانهما آكد من التثليث بدليل الاثم بتركهما، لكن قدمنا حمل الاثم علي اعتياد الترك بلا عذر، علي ان التثليث كذالك كما ياتي.

(حاشية رد المحتار علي الدر المختار: 1/253)

4۔۔۔۔۔صاحب ھدایہ نے مواظبت کے ساتھ مع الترک کا ذکر نہیں کیا ، حالانکہ وضو میں مضمضہ و استنشاق کا ترک ثابت ہے۔ دلیل یہ ہے کہ حضور صلی الله عليه وسلم نے ایک اعرابی کو وضوء کی تعلیم دی مگر اس میں مضمضہ و استنشاق کا ذکر نہیں کیا ۔ نیز حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے حضور صلی الله عليه وسلم کا وضوء حکایت کیا مگر آپ نے مضمضہ و استنشاق کا ذکر نہیں کیا ۔ پس جب ان دونوں کا احیانا ترک ثابت ہے تو یہ وضوء میں مسنون ہوں گی نہ کہ واجب اور فرض جیسا کہ اہل حدیث نے مواظبت نبی صلی الله عليه وسلم سے ان دونوں کو غسل جنابت اور وضو میں فرض قرار دیا ہے ۔

(اشرف الھدایہ شرح اردو ھدایہ: 1/103)

5۔۔۔۔۔نیز حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے موقوفا اور مرفوعا حدیث مروی ہے کہ “ھما سنتان في الوضوء واجبتان في الغسل”. یعنی کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا وضو میں سنت اور غسل میں واجب ہیں ۔

(اشرف الھدایہ شرح اردو ھدایہ: 1/103)

والله اعلم بالصواب

19-10-2021

اپنا تبصرہ بھیجیں