دوران نماز کپڑوں پر زکام لگ جانا

سوال:مجھے اتنا زیادہ فلو ہورہا ہے کہ میں نماز میں ٹشو سے اچھے سے ناک صاف کرتی ہوں پھر نماز کے دوران نزلہ میرے کپڑوں اور ڈوپٹے پر لگ جاتا ہے، تو جہاں لگے بس ٹشو سے صاف کرلیا جائے نا؟

دوبارہ نماز کے لیے ڈوپٹہ دھونے کی ضرورت تو نہیں، ناپاک تو نہیں ہوجاتا؟

الجواب باسم ملھم الصواب

واضح رہے کہ نزلہ، زکام کی وجہ سے جو پانی یا رطوبت خارج ہوتی ہے وہ نجس اور ناپاک نہیں؛ کیونکہ یہ کسی زخم سے خارج نہیں ہوتی اور نہ ہی کسی زخم سے گزر کر آتی ہے۔

لہذا اگر نزلہ کپڑوں یا دوپٹے پر لگ جائے تو ٹشو سے صاف کرلینا کافی ہے، دھونے کی ضرورت نہیں؛ البتہ نفاست کا تقاضا ہے کہ کپڑوں پر جہاں نزلہ، زکام لگا ہو اس جگہ کو دھو لیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1. “ولو نزل من الرأس فطاهر اتفاقا، وفي التجنیس: انه طاهر کیفما کان

وعلیہ الفتوی”.

(البحر الرائق: 37/1)

2. کما فی الدر المختار مع رد المحتار:

“وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي و سرة

(قوله: وكذا كل ما يخرج بوجع إلخ) ظاهره يعم الأنف إذا زكم”.

(الدر المختار:1/ 305)

3. “اتفق الفقہاء علی أن المخاط طاھر وأن الصلاة في ثوب فیه مخاط صحیحة لحدیث: ”فإذا تنخع أحدکم فلیتنخع عن یسارہ تحت قدمه، فإن لم یجد فلیتفل ھکذا -وصفہ الراوي- فتفل في ثوبه ثم مسح بعضه ببعض”.

(الموسوعة الفقہیة: 258، 259)

فقط-واللہ تعالی اعلم بالصواب

اپنا تبصرہ بھیجیں